چوتھے سعودی فلم فیسٹیول میں انتہاپسندی پر منبی فلم کو ایوارڈ

فلم فیسٹیول تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption سعودی اداکار محمد القیس کو بہترین اداکار کے ایوارڈ سے نوازا گیا

سعودی عرب میں منعقدہ فلم فیسٹیول میں مذہبی انتہا پسندی پر مبنی ایک فلم کو بہترین فلم کے ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب ایسا ملک ہے جہاں عام طور پر سینیما پر پابندی ہے۔

فلم 'ڈپارچر' یا روانگی میں ایک طیارے کے دو مسافروں کی کہانی بیان گئی ہے جو کہ خودکشی کی نیت سے طیارے میں سوار ہوتے ہیں۔ اس میں سے ایک جہادی دہشت گردی کے مقصد کے تحت سوار ہوتا ہے جبکہ دوسرا ایک لاعلاج بیماری سے چھٹکارا پانے کے لیے اپنی زندگی ختم کرنا چاہتا ہے۔

٭ ابنِ سعود کی زندگی پر فلم سے سعودی عرب ناراض

٭ سعودی عرب کی پہلی خاتون فلم ساز

سعودی عرب میں چوتھی بار کسی فلم فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا ہے جسے کچھ تک حد عوامی تفریح کی اجازت کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

سعودی عرب کے شہر دمام میں منعقدہ فلم فیسٹیول کے دوران تقریباً 60 فلموں کی نمائش کی گئی جن میں تقریباً ایک درجن فلمیں خواتین نے بنائی تھیں۔

فلم 'ڈیپارچر' 25 منٹ کی شارٹ فلم ہے اور اسے بہترین فلم کے ایوارڈ کے ساتھ اس کے اداکار کو بہترین اداکار کا انعام بھی ملا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال ایک سرکاری محکمہ قائم کیا گیا تھا تاکہ وہ اس طرح کے پروگرامز کی نگرانی کرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption سعودی عرب کی اداکارہ مریم الصالح بھی تقریب میں موجود تھیں

اسی محکمے نے رواں سال کو سعودی عرب کے لیے تفریح کا سال قرار دیا تھا۔

اس کے تحت سعودی عرب کے سب سے بڑے گلوکار کے کنسرٹ کے ساتھ کامک کون فیسٹیول کا انعقاد کیا جا چکا ہے۔

بی بی سی کے عرب معاملات کے ایڈیٹر سیبیسٹیئن اشر نے بتایا کہ تفریح کا سال قرار دیے جانے کے تعلق سے ابھی وہاں ایک سرکس کی نمائش بھی کی جائے گی جبکہ امریکی اداکارہ اور فلم ساز اوپرا ونفری اور اداکار الپچینو کے پروگرامز بھی منصوبے میں شامل ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں