ممبئی کی وہ گلیاں جہاں بالی وڈ بستا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Heena kumawat

انڈیا کے شہر ممبئی کے علاقے باندرہ کی کچھ گلیاں ایسی ہیں جہاں دیواروں پر بالی وڈ بستا ہے۔

باندرہ کی ان گلیوں کو فلمی رنگ دینے کا کریڈٹ رنجیت کو جاتا ہے جو نو سال پہلے سونی پت سے ممبئی منتقل ہو گئے تھے۔

بچپن سے ہی فلمی تصاویر بنانے کا شوق رکھنے والے رنجیت نے سنہ 2013 میں ہندی سینیما کے 100 سال مکمل ہونے کا جشن منانے کے لیے اپنے علاقے کی کئی دیواروں پر بڑی بڑی فلمی تصاویر بنائیں۔

رنجیت بتاتے ہیں 'مجھے لگا ہندی سینیما کو 100 سال ہو رہے ہے۔ ممبئی میں ہر کوئی بالی وڈ پاگل ہے تو کیوں نہ اس شہر کو یہاں کی شناخت دی جائے اور اسی لیے میں نے بڑی بڑی دیواروں پرتصاویر بنانے کا کام شروع کیا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Heena kumawat

اپنے گھر کے باہر مدھو بالا کی تصویر بنانے کی منظوری دینے والی رکھل پرےڈا کو آج بھی یاد ہے کہ کس طرح رنجیت نے دن رات ایک کر یہ تصاویر بنائی تھا۔ ' جب رنجیت مجھ سے اس تصویر کی منظوری لینے آئے تو ہچکچاہٹ صرف اس بات کی تھی کہ کہیں کچھ فحش یا پھر سیاست سے منسلک نہ ہو لیکن جب انھوں نے کہا کہ بالی وڈ کی تصویر ہے تو میں نے فوراً ہاں کر دی۔ اب تو میرے گھر کے باہر صبح صبح ہی لوگ آ جاتے ہیں شادی شوٹ کے لیے تو کئی بار غیر ملکی آتے ہیں مدھوبالا کے ساتھ تصاویر بنوانے کے لیے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Heena kumawat

باندرہ کی گلیوں پر رنجیت کی بنائی امیتابھ بچن اور راجیش کھنہ کی تصویر بھی وہاں کے لوگوں کو بہت زیادہ پسند ہے۔

رنجیت کے بقول 'میں جب یہ تصویر بنا رہا تھا کہ تو مجھے راجیش کھنہ کے مرنے کے بارے میں معلوم ہوا۔ مجھے لگا کہ ان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ان کی تصویر ضرور بنانی چاہیے کیونکہ وہ ہندی سینیما کے پہلے سپر سٹار تھے۔ ان کی تصویر کے بغیر میرا کام نا مکمل رہتا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Heena kumawat

رنجیت کے لیے یہاں تک پہنچنے کا سفر آسان نہیں تھا۔ دسویں جماعت پاس کرنے کے بعد وہ سنہ 1997 میں پیٹ بھرنے کے لیے سونی پت میں گائے بھینس چرانے کا کام کرتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ 40 روپے دہاڑی پر پتائی کا کام بھی کیا کرتے تھے۔

ایک دن رنجیت کو اپنے سکول میں ہی پتائی کے دوران تصویر بنانے کا موقع ملا۔

انھوں نے بتایا 'میری تصاویر دیکھ کر ہر کوئی حیران رہ گیا۔ مجھے بھی لگا کہ میں پینٹر نہیں میں تو آرٹسٹ ہوں۔ اسی دوران کسی نے مجھے فائن آرٹ کے بارے میں بتایا۔ میں نے ارادرہ کر لیا کہ اب مجھے اسی سمت میں آگے بڑھنا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Heena kumawat

چار سال فائن آرٹ اور پھر چار سال احمد آباد کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزائن میں کورس کرنے والے رنجیت دکانوں کے نام، ہائی وے پر پینٹنگ اور دہلی حکومت کے سوشل میسج لکھنے کے چھوٹے موٹے کام سونی پت اور پانی پت میں کرتے رہے۔

رنجیت کو لگتا ہے کہ دیواروں پر پینٹنگ بنانے سے زیادہ مشکل ہے لوگوں کو منانا۔

وہ بتاتے ہیں 'دس میں سے آٹھ بار مجھے نہ سننا پڑتا ہے لیکن ایک بار مجھے اگر کوئی دیوار پسند آ جاتی ہے تو میں بھی ضد پر آ جاتا ہوں اور پیچھے پڑ جاتا ہوں۔ آج لوگ مجھے جان گئے ہیں تو آسانی سے مان جاتے ہیں پہلے ایسا نہیں ہوتا تھا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Heena kumawat

رنجیت اپنے اس جذبہ کو پروفیشن میں تبدیل نہیں کرنا چاہتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں 'لوگ مجھے پیسے دے کر کام کرائیں گے تو دباؤ میں آ کر ان کی پسند سے تصاویر بنانی پڑے گی۔ جو مجھے پسند نہیں۔ میں اندھیری علاقہ میں بھی تصاویر بنانا چاہتا ہوں۔ وہاں بہت فلمی آرٹسٹ رہتے ہیں لیکن روز 200 روپیہ کرایہ دینا اور وہاں جا کر دیوار ڈھونڈنا میرے لیے مشکل ہے کیونکہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔'

رنجیت کا خواب ہے کہ وہ پوری ممبئی کی دیواروں کو فلمی رنگ میں رنگ دیں لیکن پیسے کی کمی ان کے آڑے آ جاتی ہے۔

راج کپور، ہیلن، کشور کمار جیسے اور بھی دیگر آرٹسٹ ہیں جنھیں وہ اپنے برش اور رنگوں سے ممبئی کی دیواروں پر زندہ کر دینا چاہتے ہیں۔