'کوئی بھی ہمیں ہمارے سوا نہیں بچائے گا'

جونا رسکن تصویر کے کاپی رائٹ Mirza
Image caption جونا رسکن اپنی نئی نظم میں کھیتوں میں کام کرنے والی ہندوستانی اور میکسیکن خواتین کو یاد کرتے ہیں

جونا رسکن کون ہیں؟ یہ بات جمعرات تک مجھے بالکل بھی معلوم نہیں تھی۔ اچانک میری ایک دوست اور انگریزی کی پروفیسر انورادھا گھوش کا میسیج آیا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں 'جونا رسکن کا ایک لکچر ہے۔ ضرور آؤ۔' لکچر کے موضوع 'ظلم اور مزاحمت سے ادب کا سامنا' نے مجھے متوجہ کیا۔

میری چُھٹی تھی اور میں وہاں پہنچ گیا۔ سامنے ایک 75 سالہ سفید فام امریکی تھے اور پھر انھوں نے اپنے سادہ انداز میں جو باتیں کہیں وہ دلوں پر نقش ہوتی چلی گئیں۔

انھوں نے اپنے بارے میں باتیں کیں اپنی کتابوں کے بارے میں باتیں کیں جو کہ ظلم اور مزاحمت کا نتیجہ تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ برطانوی نوبیل انعام یافتہ ڈورس لیسنگ ان کی 'گاڈ مدر' رہیں اور انھیں اپنے سایہ عاطفت میں لے رکھا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ کس طرح امریکہ میں وہ دیوار پر لکھتے ہوئے گرفتار ہوئے، ان کی انگلیاں توڑی گئیں اور ان پر پولیس پر حملے کا جھوٹا مقدمہ عائد کیا گیا۔

میرے ذہن میں فیض کے اشعار گونج رہے تھے:

یوں ہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق

نہ ان کی رسم نئی ہے نہ اپنی ریت نئی

یہودی گھر میں پیدا ہونے والے جونا رسکن نے بتایا کہ ان کے والد کے ظلم نے انھیں باغی بنایا تھا۔ موجودہ دور پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں کہا کہ 'یہ دور مسلمانوں پر سخت ہے' اور پھر انھوں نے ڈورس لیسنگ سے 11 ستمبر سنہ 2001 کے حملوں کے دوسرے دن ٹیلیفون پر ہونے والی گفتگو کے ایک فقرے کا ذکر کیا کہ نوبیل انعام یافتہ نے کہا تھا کہ 'امریکی اس حملے کو مسلم دنیا کے خلاف استعمال کریں گے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Mirza AB Baig
Image caption دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں جونا رسکن نے اپنی جدو جہد اور اپنی تصانیف کا ذکر کیا

اور 11 ستمبر کے بعد جو ہوا اس سے گونگا، بہرا اور اندھا سب باخبر ہے۔ امریکہ اور میکسیکو کی مشترکہ وراثت کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ استعماریت کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ محکوم کو اس قدر مجبور کر دیا جائے کہ ان کے پاس کوئی راستہ نہ بچے۔

انھوں نے ملاقات کے دوران اپنی تین نظمیں سنائیں اور کہا کہ انھیں لکھتے وقت ان کے سامنے میکسیکو اور ہندوستان کے لوگ تھے۔ ویت نام کی جنگ کے دوران وہ بہت سرگرم تھے۔

انھوں نے اپنی کتاب 'مائی سرچ فار بی ٹریون' میں میکسیکو کی آبادی کی محکومیت کا ذکر کیا اور اسے یاد کرکے شدت جذبات سے ان کا گلا رندھ آیا۔ لیکن انھوں نے کہا کہ ایک وقت ایسا آتا ہے جب بغاوت ناگزیر ہو جاتی ہے۔

انھوں نے میکسیکو کی جنگل میں رہنے والی آبادی کو غلام بنائے جانے کا ذکر کیا اور کہا کہ کس طرح کسی چھوٹے سے قرض کی ادئیگی کے لیے نسل در نسل غلامی کی طوق گلے میں ڈالے زندگی بسر کرتی ہے لیکن پھر اسی کے بطن سے بغاوت پیدا ہوتی ہے اور حاکموں کے لیے زمین تنگ کر دیتی ہے۔

افتخار عارف کا شعر اس وقت بے ساختہ یاد آیا۔

مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے

وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے

میکسیکو اور امریکہ کے درمیان ٹرمپ کی دیوار کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ 'یہی تو استعماریت ہے اور یہ اسی طرح اپنا خرچ دوسروں سے وصول کرتی ہے۔'

انھوں نے اپنی ایک نظم میں امریکہ کی 'صفائی ستھرائی' کو نشانہ بنایا اور کہا کہ میسیکو میں اپنی تحقیق کے دوران انھوں نے دیکھا کہ کس طرح لوگ زمین سے گاجر نکال کر کپڑے پر صاف کر کھا رہے تھے۔ میں نے حیرت کا اظہار کیا تو انھوں نے کہا کہ زمین پاک ہوتی ہے اور اس میں کوئی فرٹیلائزر نہیں کہ اسے دھویا جائے۔

انھوں نے بتایا کہ سنہ 1960 کی دہائی میں امریکہ کے کولمبیا کالج میں انگریزی میں کسی خاتون مصنفہ کو نہیں پڑھایا جاتا تھا۔ انھوں نے جوزف کونریڈ اور رڈیارڈ کپلنگ کی تصانیف میں استعماریت پر تحقیق کی اور اسی تھیسس پر انھیں مانچسٹر یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض ہوئی۔

نیویارک ٹائمز نے اس پر مبنی ان کی کتاب 'دا مائتھولوجی آف امپریئلزم' کو 'ماؤنواز' تنقید کہا تو دور جدید کے اہم مشتشرقین میں سے ایک ایڈورڈ سعید نے اسے انتہائی 'اوریجنل کتاب' قرار دیا جس میں 'رسکن نے ناول نگار کی حقیقی جمالیات کی قوت مدرکہ کو دوسرے ملک کے سیاسی اقتدار سے جوڑ دیا تھا۔'

رسکن موسیقی کے 'راک این رول' دور میں پروان چڑھے اور دوسری جنگ عظیم کے بعد ادب میں پروان چڑھنے والی بیٹ نسل کو دیکھا تھا۔ اس نسل نے مروجہ بیان سے مختلف اپنا علیحدہ بیانیہ قائم کیا تھا۔ انھوں نے بیٹ نسل کے اہم مصنف ایلن گنزبرگ پر کتاب تصنیف کی اور بتایا ہے کہ انھوں نے کس طرح اپنی بازیافت کی تھی اور اپنے شدید احساسات کو کس خوبصورتی کے ساتھ لفظوں کو جامہ پہنایا تھا۔

انھوں نے وطن پرستی پر بات کی اور آخر میں نظم 'آل امیگرینٹس ناؤ؛ سناتے ہوئے کہا: 'ہم سبھی پناہ گزین ہیں، ہم سبھی ایک بے سرحد دنیا میں ۔۔۔ کوئی بھی ہمیں ہمارے سوا نہیں بچائے گا‘۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں