ڈیجیٹل اور ٹیلی وژن دور کا زنبیل

تصویر کے کاپی رائٹ Zambeel Dramatic Readings
Image caption چھ سال پہلے شروع ہونے والے زبیل نے اردو ادب اور ڈرامے کے شعبے میں اپنے لیے ایک منفرد مقام بنا لیا ہے

آج کل کے دور میں جب ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور ٹیلی وژن کا راج ہے، قصہ گوئی کے روایتی فن میں کیا کسی کو دلچسپی ہو سکتی ہے؟

توقعات کے برخلاف، اس سوال کا جواب ہے ہاں۔ یہ ہے کراچی کے ایک گروپ کا تجربہ۔

زنبیل ڈرامیٹک ریڈنگز نامی گروپ نے چھ سال پہلے یہ کام شروع کیا اور اب اردو ادب اور ڈرامے کے شعبے میں اس نے پاکستان میں اپنے لیے ایک خاص مقام بنا لیا ہے۔

یہ شروع کیسے ہوا؟

زنبیل کے تین بانی ارکان کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ اتفاق سے ہوا۔ بانی ارکان میں عاصمہ مندرا والہ، مہوش فاروقی اور سیف حسن شامل ہیں۔ ایک آرٹ سکول میں پروفیسر ہیں، دوسری کراچی کے ایک پرانے اور نامور سکول کی انتظامیہ میں ہیں اور تیسرے ٹیلی وژن ڈراموں کی پروڈکشن کرتے ہیں لیکن تینوں کا ڈرامہ اور تھیئٹر سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔

ابتدا یہاں سے ہوئی کہ مہوش فاروقی سے کسی نے فرمائش کی کہ وہ کالج کے ایک فنکشن میں کہانی پڑھ دیں۔ کہانی عصمت چغتائی کی 'گھونگھٹ' تھی۔ عاصمہ مندرا والہ کے مطابق 'چھ سات منٹ کی کہانی تھی لیکن وہاں کچھ لوگوں کو پرفارمنس اتنی پسند آئی کہ انھوں نے آگے کی تاریخوں کی بات کرنا شروع کر دی۔‘

بات سے بات نکلی۔ پہلی پرفارمنس کے بعد دوسری پرفارمنس، مہوش فاروقی بتاتی ہیں کہ 'ادھر ہی کسی نے کہا، کہ یہ آپ ہمارے لیے بھی کریں، اور اس کہانی کے ساتھ ایک اور کہانی بھی شامل کر دیں۔'

نام رکھنے کی بات اس وقت ہوئی جب وصل آرٹسٹس کلیکٹیو نے ان کو اپنی ایک تقریب میں دعوت دی۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ڈیجیٹل دور میں قصہ گوئی کے روایتی فن میں کراچی کے ایک گروپ نے نئی جان ڈال دی

تینوں نے آپس میں مشورہ کیا اور گروپ کا نام زنبیل رکھنے کا فیصلہ کیا جو کہ داستانِ امیر حمزا کی جانب اشارہ ہے۔

سیف حسن بتاتے ہیں 'عمرو عیار کی زنبیل ہے جس میں سے سب چیزیں نکل آتی ہیں، ہم بھی ایک ایسا ادارہ بنانے جا رہے تھے جس میں ہر طرح کی چیزیں ہوں۔ بچوں کی کہانیاں بھی، بڑوں کی کہانیاں بھی، عشق و معاشقے کی کہانیاں بھی۔ تو ہم کو لگا یہ ایک زنبیل ہے جس میں سے مختلف چیزیں نکال کر ہم مختلف لوگوں کے سامنے پیش کر سکیں گے۔'

زنبیل کے جادوئی اثر پر عاصمہ مندرا والہ کہتی ہیں کہ ’کہا جاتا ہے کہ زنبیل میں سات شہر آباد تھے۔ اس کا قصہ گوئی سے بہت گہرا تعلق ہے اور ہم وہ ہی کر رہے ہیں لیکن آج کے دور میں۔'

لوگوں کا رد عمل کس قسم کا تھا؟

مہوش فاروقی کے مطابق ان کا کام سننے کے لیے نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد آتی ہے۔ 'انھوں نے ہمیں بتایا کہ ہم نے اردو اتنی نہیں پڑھی ہے، کہانی سے ہمارا تعارف ہو جاتا ہے اردو اور اردو ادب سے۔'

بچوں کی کہانیاں بھی بہت مقبول ہوئیں، خاص طور پر انگریزی میڈیم سکولوں میں۔ بچوں کے لیے کہانیوں کا انتخاب کس طرح کرتے ہیں؟ مہوش فاروقی کے مطابق 'یہ پرانی کہانیاں ہیں، نانی اور دادی سے جو سنی تھیں۔ ان کو ہم واپس لے کر آرہے ہیں، اُسی پرانی زبان میں۔'

بچوں کی کہانیوں کو زنبیل والے سکولوں میں بھی لے جاتے ہیں اور ان کی ریکارڈنگز بھی کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ بڑوں کی کہانیوں میں عصمت چغتائی اور قرۃ العین حیدر کی کہانیاں بہت مقبول رہی ہیں اور سعادت حسن منٹو کی بھی کچھ تحریریں۔

زنبیل ڈرامیٹک ریڈنگز کی اپنی کہانی کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس سے اردو اور اردو ادب کو فروغ ملا ہے۔ کہانیوں کو پیش کرنے میں تلفظ کا خاص خیال رکھا جاتا ہے، نہ صرف مختلف لُغات کی مدد سے بلکہ لوگوں سے مشورے سے بھی۔

سیفِ حسن کہتے ہیں 'لوگوں کو اندازہ نہیں ہوتا کہ ہم کتنی محنت کرتے ہیں اپنا تلفظ صحیح کرنے میں، کِن کِن لوگوں کو فون کرتے ہیں، کون کون سی لغت دیکھتے ہیں۔'

عاصمہ مندرا والہ بھی ہنس کر کہتی ہیں 'طرح طرح کی ڈکشنریاں دیکھتے ہیں۔ فرہنگِ آصفیہ سے لے کر فیروز الغات تک۔ ہر زیر زبر پیش، ہر چیز صحیح ہونی چاہیے۔'

مہوش فاروقی اس کام کی ایک مثال بیان کرتی ہیں۔ 'ہمارا ایک پراجیکٹ تھا ریل کہانی۔ اس میں پنجاب کے شہروں بلکہ چھوٹے چھوٹے دیہات کے نام تھے۔ ان کے ناموں کا صحیح تلفظ ہمیں نہیں معلوم تھا۔ میں نے اپنی ایک دوست کو فون کیا تو اس نے اپنے سُسر سے پوچھا۔ یوں ہمیں معلوم ہوا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ ZDR
Image caption زنبیل کے بانی ارکان سیف حسن، عاصمہ منڈراوالہ اور مہوش فاروقی

وہ بتاتے ہیں کہ عصمت چغتائی کے ڈرامے 'دوزخ' میں بھی ان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا 'کیونکہ اس میں ایسے الفاظ ہیں جن کا شاید اب استعمال ختم ہو چکا ہے۔‘

چھ برس میں زنبیل والوں نے اپنا ایک مقام بنا لیا ہے اور مختلف شہروں اور تقاریب میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن انھوں نے اپنا ایک اصول بنایا ہے کہ جب بھی وہ نیا کام کرتے ہیں تو اس کو سب سے پہلے کراچی کے ٹی ٹو ایف میں پیش کرتے ہیں۔

ٹی ٹو ایف کی مدیر سبین محمود نے گروپ کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی تھی اور ان کا دیگر کام وہیں سے لانچ ہوا تھا۔ (سبین محمود کو ایک مذہبی انتہا پسند نے اپریل 2015 میں قتل کر دیا تھا)

زنبیل کے آڈیو مواد کو دنیا بھر میں سنا جا رہا ہے۔

زنبیل نے اپنا ایک یوٹیوب چینل بھی شروع کیا ہے جس پر صرف آڈیو مواد ہوتا ہے۔ اس میں کہانیوں کے علاوہ مختلف قسم کی تحریروں کو بھی پیش کیا جائے گا۔

عاصمہ مندرا والہ کہتی ہیں کہ 'باہر رہنے والے اکثر ہم سے کہتے تھے کہ آپ ہمارے لیے بھی تو کچھ کریں، تو اب یہ یو ٹیوب چینل سب کے لیے ہے۔'

چھ برس میں زنبیل ڈرامیٹک ریڈنگز نے اردو ادب اور فن کی دنیا میں اپنا ایک خاص مقام بنا لیا ہے۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ اس ڈیجیٹل دور میں لوگوں کا رجحان ایک روایتی فن اور اردو زبان کی جانب نظر آیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں