اسلام آباد میں میلہ شروع مگر پنگھوڑے غائب

اسلام آباد لٹریچر فیسٹیول تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK

اسلام آباد میں جمعے سے ایک میلہ شروع ہوا ہے جو تین روز تک جاری رہے گا لیکن اس میلے میں نہ تو پنگھوڑے لگے ہیں اور نہ جلیبیاں تلی جا رہی ہیں اور نہ قتلمے کی خوشبو اُڑ رہی ہے۔

تو کیسا میلہ ہے یہ؟ جی اس میلے کا نام ہے اسلام آباد لٹریچر فیسٹیول۔ یہ ایک ادبی میلہ ہے اور اس لیے آپ کو مٹھائیوں کے بجائے کتابوں کے سٹال نظر آئیں گے اور جسمانی کرتب کی جگہ آپ لفظی بازی گری کے کمالات دیکھ سکیں گے۔

شاعروں، افسانہ نگاروں اور ناول نویسوں کے ادبی کمالات کو میلے کی سطح پر منانے کا خیال آج سے سات برس قبل آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے کارپردازوں کو آیا اور یوں سنہ 2010 میں اس طرح کا پہلا ادبی میلہ کراچی میں منایا گیا جس میں پانچ ہزار افراد نے شرکت کی۔

کراچی ادبی میلہ، 'ادب کم، تفریح زیادہ'

میلہ لوٹنے والے آ گئے

بے زبانوں کو آواز دینے کی کوشش

سنہ 2011 میں حاظرین کی تعداد 10,000 ہو گئی۔ اس سے اگلے برس 15,000 اور گذشتہ برس حاظرین کی تعداد بڑھتے بڑھتے 175,000 تک پہنچ گئی۔

کراچی میں کامیاب انعقاد کے بعد ادبی میلوں نے لاہور اور اسلام آباد کا رخ کیا اور ان شہروں میں بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔

گذشتہ برس اسلام آباد کے ادبی میلے میں دنیا بھر سے 164 ادیبوں اور شاعروں نے شرکت کی تھی اور اس بار میلے میں اس سے بھی بڑی تعداد میں قلم کار شریک ہو رہے ہیں۔

جن میں انگریزی کے ناول نگار محمد حنیف اور بلال تنویر کے علاوہ معروف شاعر افتخار عارف، حقوقِ انسانی کے معروف کارکن آئی اے رحمان، امردیپ سنگھ۔۔ ان کے علاوہ قانون، سیاست، تھیٹر، ٹی وی، فلم اور نشر و اشاعت کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات بھی اس میلے میں شریک ہو رہی ہیں۔

میلے کے دوران نمرہ بُچہ اور سرمد کھوسٹ ایک تمثیلچہ بھی پیش کریں گے جو امرتا پریتم کے لکھے ہوئے خطوط پر مبنی ہے۔

حارث خلیق کے انگریزی مضامین کا نیا مجموعہ 'کرمزن پیپرز' بھی ایک تعارفی تقریب میں پیش کیا جائے گا جس میں نوید شہزاد، افراسیاب خٹک، رسول بخش رئیس اور خیام مشیر اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔

معروف شاعر، ادیب، تنقید نگار اور کالم نویس احمد ندیم قاسمی کی یاد میں ایک خصوصی نشست کا اہتمام بھی کیا گیا ہے جس میں ان کی صاحبزادی ناہید قاسمی، مسعود اشعر، ضیا الحسن اور آصف فرخی شرکت کر رہے ہیں۔