’بالی وڈ کے فنکار بے خوف نہیں ہیں‘

ابھے دیول تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ابھے دیول نے اپنی اداکاری سے فلم انڈسٹری میں مختلف شناخت بنائی ہے

انڈین اداکار ابھے دیول فلموں میں اپنے انوکھے کرداروں اور جاندار اداکاری کی وجہ سے انڈسٹری میں اپنی ایک الگ پہچان بنا چکے ہیں۔ انھیں ایک سنجیدہ اداکار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

یہ سنجیدگی ان کے کرداروں یا چہرے تک ہی محدود نہیں جس کی مثال ان کی وہ فیس بک پوسٹ ہے جس میں انھوں نے گوری رنگت کی کریم کے اشتہارات کو نشانہ بنایا۔

اب اس نشانے کی زد میں بالی وڈ کے بڑے بڑے ستارے بھی آگئے جنھوں نے اس طرح کی کریم کے اشتہار دل کھول کر کیے ان میں سے ایک سونم کپور بھی ہیں۔ اب وہ بھی نشانے پر ہوں تو خاموش کیسے رہتیں۔

جھٹ سے ابھے کی کزن اور اداکارہ ہیما مالنی اور دھمرمیندر کی بیٹی ایشا دیول کا ایک اشتہار فیس بک اور ٹوئٹر پر چسپاں کرتے ہوئے ابھے دیول سے جواب طلب کر ڈالا کہ ابھے جی خود آپ کی بہن نے ایسا ہی اشتہار کیا تھا تو اس بارے میں آپ کیا کہیں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سونم کپور اپنی خش لباسی کے لیے فیشن آئیکون کہی جاتی ہیں

جواب میں ابھے نے صاف کہا کہ وہ بھی اس اشتہار سے اتفاق نہیں کرتے۔ پھر کیا تھا ٹوئٹر پر سونم کو ٹرول کرنے والے سرگرم ہو گئے۔ سونم نے جھٹ اپنی ٹویٹ ڈلیٹ کرتے ہوئے ابھے کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے اس موضوع کو اجاگر کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انھوں نے یہ اشتہار دس سال ہے پہلے کیا تھا اس وقت انھیی اس بات کا اندازہ نہیں تھا۔

ساتھ ہی ٹرول کرنے والوں کو ڈانٹ بھی لگائی کہ ان کی تازہ ٹویٹ پڑھے بغیر ان کا پیچھا نہ کریں۔ انھوں نے کہا کہ پوری بات جانے بغیر کسی نتیجے پر نہیں پہنچنا چاہیے۔ ویسے ابھے پر برسنے سے پہلے کیا خود سونم کو پوری بات نہیں جاننی چاہیے تھی؟

بالی وڈ اور ہالی وڈ کا موازنہ درست نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption وکرم بھٹ سسپنس فلمیں بنانے کے لیے معروف ہیں

فلمساز وکرم بھٹ کا کہنا ہے کہ بالی وڈ اور ہالی وڈ کا موازنہ کرنا درست نہیں کیونکہ ہالی وڈ کے فنکار بے خوف اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں چاہے وہ ڈونلڈ ٹرمپ کا الیکشن ہو یا پھر سیاہ فاموں کا مسئلہ۔

اکثر یہ سوال اٹھائے جاتے ہیں کہ ملک کے اہم سماجی اور سیاسی موضوعات پر یا کسی طرح کی نا انصافی پر بالی وڈ کے فنکار کوئی آواز کیوں نہیں اٹھاتے۔ وکرم کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت اور قانون ان کی حفاظت نہیں کرتا۔ اس لیے ہمارے فنکار بے خوف نہیں ہیں۔

اس سلسلے میں وکرم نے کرن جوہر کی فلم 'اے دل ہے مشکل' کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی اداکار فواد خان کے ساتھ فلم بنانے پر ان کے ساتھ کیا کچھ نہیں ہوا اور کون کس طرف کھڑا تھا یہ بتانے کی ضرورت نہیں اس لیے ہالی وڈ کا موازنہ بالی ووڈ سے پرگز نہ کریں جہاں نو ستمبر کے حملوں پر فلم اور دستاویزی فلمیں بنانے کی اجازت دی گئی۔

وکرم بھٹ نے انتہائی اہم موضوع کو چھیڑا ہے۔ بات صرف کرن جوہر پر آکر نہیں رکی سنجے لیلا بھنسالی اور ان کی فلم 'پدما وتی' کے سیٹ پر ہونے والا حملہ اس کی تازہ مثال ہے۔ کیا ذمہ داروں کے خلاف مؤثر کارروائی کی گئی یا سنجے کے حق میں کیا کوئی کھل کر سامنے آیا؟

اب ایسے ماحول میں جہاں سچ کے حق میں آواز بلند کرنے پر سزا ملنے کا اندیشہ ہو تو کون آگے آنے کی ہمت کرے گا۔ ایسا کرنے والوں کو بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے جس کی مثال عامر خان ہیں۔

رام گوپال ورما کا نیا مشغلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایک عرصے سے رام گوپال ورما فلموں میں کسی کامیابی کی تلاش میں ہیں

'پارٹ ٹائم' فلمساز رام گوپال ورما اپنا زیادہ تر وقت سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں اور پوری شدت کے ساتھ بیہودہ ٹوئٹس کر کے لوگوں کو پریشان کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔

آج کل ٹائیگر شروف ان کے نشانے پر ہیں۔ رامو نے پہلے تو انھیں ارمِلا ماتونڈکڑ کے نام سے پکارا تھا اور اب اپنی تازہ ٹویٹ میں ان کے بارے میں مزید ہتک آمیز جملے استعمال کیے۔

ٹائیگر شروف نے نامہ نگاروں کی جانب سے اس بارے میں بات کرتے ہوئے ایک بار پھر رامو کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی لیکن فرح خان نے اپنی ٹویٹ میں رامو کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ' کیا عورت ہونا شرم کی بات ہے؟'

یوں تو کسی کو ہتک کا نشانہ بنانا شرم کی بات ہے لیکن ان لوگوں کے لیے جن کے پاس ضمیر ہو۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں