'اردو میں سوائے محبت کے کچھ نہیں'

جاوید اختر تصویر کے کاپی رائٹ jashn-e-bahar
Image caption جاوید اختر نے چند تازہ تحریروں کے ساتھ ایک پرانی نظم یہ کھیل کیسا ہے بھی سنائی

'اردو مشترکہ ہندوستانی تہذیب کی علمبردار ہے'، 'اردو کی شیرینی غیر عاشق کو بھی عاشق بنا دیتی ہے'۔ 'دکھ درد کو بہتر طریقے سے بیان کرنے کا ذریعہ اردو زبان ہے'، 'لوگوں کو اردو پڑھا دو تو امن و امان خود بخود قائم ہو جائے گا'، 'دہلی کو اردو کہتے تھے'، 'اردو وہ زبان ہے جس میں سوائے محبت کچھ بھی نہیں۔'

اردو کے متعلق یہ تمام باتیں جمعے کی شام دہلی میں منعقدہ جشنِ بہار مشاعرے میں سامنے آئیں۔

٭ ’جشن ادب‘ میں ’ماورائے ادب‘ گفتگو

٭ دہلی میں مشاعرہ جشن بہار کی بہار

٭ دہلی میں بہار سے قبل جشنِ بہار

اردو کے نامور ادیب شمش الرحمان فاروقی کی صدارت میں ہندوستان کے علاوہ امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، متحدہ امارات اور جاپان کے شاعروں نے محفل مشاعرہ کی روایت کو قائم رکھا۔ شاید پہلی بار پاکستان سے اس مشاعرے میں کسی شاعر کی شرکت نہیں تھی۔

شمش الرحمٰن فاروقی نے کہا کہ 'مشاعرہ ایک ایسی روایت ہے جو دنیا میں صرف اردو میں ہی پائی جاتی ہے، نہ تو اس طرح کی روایت عربی میں ہے اور نہ ہی کسی اور زبان میں۔'

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ مشاعرے میں ان دنوں جو آنا جانا لگا ہوتا ہے پہلے ویسا نہیں تھا۔ 'پہلے جو جس پہلو بیٹھ گیا بس بیٹھ گیا۔ جسے جہاں جگہ ملی وہیں بیٹھ گیا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ jashn-e-bahar
Image caption جشن بہار مشاعرے میں شرکت کرنے والے شعرا مشاعرے سے قبل میڈیا سے بات کرنے کے لیے یکجا ہوئے تھے

بالی وڈ کی معروف شخصیت جاوید اختر نے اپنے تازہ کلام سے لوگوں کو محظوظ کیا جس میں حالات حاضرہ پر تبصرہ تھا، ہواؤں اور لہروں پر پابندیاں لگانے اور گلشن کو یک رنگ بنانے کی کوششوں کا ذکر تھا جو بظاہر موجودہ حکومت کی جانب سے جاری کوششوں کی سمت صرف اشارہ تھا۔

جشن بہار ٹرسٹ کی روح رواں کامنا پرشاد نے کہا کہ 'اردو زبان نے ہمیشہ ناانصافی کے خلاف پرچم بلند کیا ہے۔ یہ گنگا اور جمنا کے دو کناروں کو جوڑنے والی زبان ہے۔' لیکن اس کے ساتھ انھوں نے تاسف کا اظہار کیا کہ 'آج شاعری میں نفرت کی بات ہو رہی ہے اور ہم اس ذہنیت کی پرزور مخالفت کرتے ہیں اور تمام محبان اردور کو اس مہم میں شامل ہونن کی دعوت دیتے ہیں۔'

فلم اداکار اور رکن پارلیمان شتروگھن سنہا اور سابق وزیر اور شمال مشرقی ریاست منی پور کی گورنر نجمہ ہیب اللہ نے بھی اس موقعے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ jashn-e-bahar
Image caption اداکار اور رکن پارلیمان شتروگھن سنہا نے پاکستان کے ساتھ اپنی دوستی کا ذکر کیا

شتروگھن سنہا نے پاکستان کے اپنے دوروں کا ذکر کیا اور کہا کہ بلا شبہ دلوں کو جوڑنے والی کوئی زبان ہے تو وہ اردو ہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ فلموں میں اردو پوری طرح زندہ ہے اور اس کی پزیرائی بھی ہوتی ہے۔

جاپان کے شہر اوساکا سے آنے والے شاعر سو یامانے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کس طرح ان کی یونیورسٹی میں بہت سے طلبہ بالی وڈ کی فلم دیکھنے کے بعد اردو زبان سیکھنے آتے ہیں۔

سپینش زبان کی پروفیسر اور شاعرہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کس طرح پاکستان سے تشریف لانے والی ایک گلوکارہ کے کلام نے ان میں اردو سے محبت پیدا کی یہاں تک کہ وہ شعر کہنے لگیں۔

مشاعرے کے ناظم منصور عثمانی نے کہا: 'جہاں جہاں کوئی اردو زبان بولتا ہے ۔۔۔ وہاں وہاں میرا ہندوستان بولتا ہے۔'

کینیڈا سے تشریف لانے والے شاعر اور پرفارمنگ آرٹسٹ جاوید دانش نے کہا کہ کس طرح اردو کی نئی بستیاں دنیا بھر میں آباد ہیں اور اب وہاں سے انھیں اردو کی سرزمین ہندوستان بلایا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ jashn-e-bahar
Image caption کامنا پرشاد نے کوئی دو دہائی قبل مشاعرہ جشن بہار کی داغ بیل ڈالی تھی

مشاعرے میں پیش کیے جانے والے چند کلام آپ کی نذر ہیں، ملاحظہ فرمائیں:

  • نیا موسم تو بدلا ہے
  • مگر پیڑوں کی شاخوں پر
  • نئے پتوں کے آنے میں
  • ابھی کچھ دن لگیں گے (جاوید اختر)
  • اس نے بستر کی شکن مجھ کو بنانا چاہا
  • جس کو چادر کی طرح اوڑھ لیا تھا میں نے (شاہجہاں جعفری، کویت)
  • زندگی خیر کر طلب اپنی
  • میں ترا زہر پی جیتا ہوں (ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ، نیویارک)
  • دل لگا لیتے ہیں اہل دل وطن کوئی بھی ہو
  • پھول کو کھلنے سے مطلب ہے چمن کوئی بھی ہو (بصیر سلطان کاظمی، برطانیہ)
  • فقیری آج تک فطرت ہے میری
  • حویلی میں بظاہر رہ رہا ہوں (جاوید دانش، کینیڈا)
  • ملنے کے اشتیاق میں پاگل ہوا ہے تو
  • وعدہ نہیں ہے اس کا یہ حسن بیان ہے (سو یامانے، جاپان)
  • خامشی ٹوٹے گی آواز کا پتھر بھی تو ہو
  • جس قدر شور ہے اندر کبھی باہر بھی تو ہو (عزیز نبیل، دوحہ قطر)

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں