'ہم میں ایک چیز کی کمی ہے کہ ہم سوال نہیں کرتے، دو طرفہ بات چیت نہیں کرتے'

60 سیکنڈز انٹرنیشنل فلم فیسٹیول
Image caption 60 سیکنڈز انٹرنیشنل فلم فیسٹیول 'دل سے پاکستان' میں موضوع کی مناسبت سے مقامی ہیروز، تاریخی مقامات، تعلیم، اور بین المذاہب ہم آہنگی کو اجاگر کیا گیا

اسلام آباد میں مختصر دورانیے کی فلموں پر مبنی پانچویں سالانہ 60 سیکنڈز انٹرنیشنل فلم فیسٹیول 'دل سے پاکستان' کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے فلم سازی کے خواہش مند افراد کی فلموں کی نمائش کی گئی۔

دو روزہ فلم فیسٹیول میں ڈیڑھ سو سے زائد فلمیں دکھائی گئیں۔ تقریب کے دوران پینل مباحثوں، اور فلم سازی سے متعلق گفتگو کا اہتمام بھی کیا گیا۔

رواں سال 60 سیکنڈز انٹرنیشنل فلم فیسٹیول 'دل سے پاکستان' میں موضوع کی مناسبت سے مقامی ہیروز، تاریخی مقامات، تعلیم، اور بین المذاہب ہم آہنگی کو اجاگر کیا گیا۔

فلم فیسٹیول کے ڈائریکٹر ابرارالحسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فیسٹیول کا مقصد نہ صرف معاشرے میں درپیش مسائل کو اجاگر کرنا بلکہ ان پہ بات کرنا بھی ہے۔

انھوں نے کہا کہ فیسٹیول میں شامل فلمیں امن، تعلیم، صحت، اور ماحولیات سمیت مختلف موضوعات پر مبنی ہیں اور زیادہ تر فلموں میں کوشش کی گئی ہے کہ دیکھنے والوں کو مثبت پیغام ملے۔

ابرارالحسن نے کہا: 'ہم میں ایک چیز کی کمی ہے کہ ہم سوال نہیں کرتے، دو طرفہ بات چیت نہیں کرتے۔' ابرارالحسن کہتے ہیں کہ ہمارے لوگوں میں سوال نہ کرنے کا جو رویہ ہے اس کے باعث بہت سارے مسائل جنم لیتے ہیں۔

Image caption فیسٹیول میں پاکستان سمیت پچپن ممالک سے فلم سازوں نے شرکت کی۔

نوجوان فلمساز شہباز احمد کہتے ہیں کہ بظاہر ساٹھ سیکنڈز سننے میں بہت قلیل وقت محسوس ہوتا ہے لیکن اگر آپ کی اپنے موضوع پہ گرفت مضبوط ہو تو ساٹھ سیکنڈز کا دورانیہ بھی اپنی بات کہنے کے لیے بہت ہے۔

شہباز احمد نے بتایا کہ مختصر دورانیے کی فلم کی تیاری کسی بھی دوسری فلم کی طرح ہی کی جاتی ہے، جیسے سکرپٹ یعنی کہانی کا مسودہ تیار کرنا اور لوکیشن کا انتخاب کرنا۔

ایک اور نوجوان فلم ساز احمد حسن اپنی فلم کے موضوع کے بارے میں کہتے ہیں کہ عوامی مقامات پہ خواتین کو ہراساں کیا جاتا ہے، اور یہ سب جانتے ہیں۔ تاہم انھوں نے کہا کہ اس مسئلے پہ بات نہیں کی جاتی، اور اگر ان مسائل پہ بات کی جائے تو بے شک چھوٹے پیمانے پہ لیکن معاشرے میں تبدیلی لانے کے عمل کا آغاز کیا جاسکتا ہے۔

احمد کہتے ہیں کہ وہ جب فلم بنانے کے لیے موضوع کا انتخاب کر رہے ہوتے ہیں تو ان کی کوشش ہوتی ہے کہ 'ان مسائل پہ بات کی جائے جو معاشرے میں موجود ہیں لیکن کوئی ان پہ بات کرنے کے لیے تیار نھیں ہے۔'

فلم فیسٹیول کے شائقین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے فیسٹیولز میں نہ صرف معاشرے کی حقیقتوں پر مبنی فلمیں نمائش کے لیے پیش کی جاتی ہیں بلکہ ایک ہی نشست میں مختلف موضوعات پہ کئی فلمیں دیکھنے کو مل جاتی ہیں۔

منتظمین کے مطابق فیسٹیول میں پاکستان سمیت پچپن ممالک سے فلم سازوں نے شرکت کی۔ اسلام آباد کے بعد کراچی،کوئٹہ، لاہور، جام شورو، گلگت، اور سکردو سمیت تقریبا بارہ مختلف شہروں میں بھی 60 سیکنڈز فلم فیسٹیول کا انعقاد کیا جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں