’ معاملہ اذان یا آرتی کا نہیں بلکہ لاؤڈ سپیکر کے استعمال کا ہے‘: گلوکار سونو نگم

سونو تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا کے معروف گلوکار سونو نگم نے اذان کے بارے میں اپنی ٹویٹس سے متعلق سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کے جواب میں کہا ہے کہ یہ معاملہ اذان اور آرتی کا نہیں بلکہ لاؤڈ سپیکر کے استعمال کا ہے۔

منگل کو انھوں نے ٹوئٹر پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اپنے بیان پر قائم ہوں کہ مسجدوں اور مندروں میں لاؤڈ سپیکرز کے استعمال کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔'

’انڈیا میں مذہبی زبردستی کب ختم ہو گی‘

’حجاب میں بھجن کیوں گایا؟‘ مسلمان خاتون پر تنقید

ایک ٹویٹ کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ معاملہ اذان یا آرتی کا نہیں ہے۔ یہ لاؤڈ سپیکر سے متعلق ہے۔‘

خیال رہے کہ پیر کو انھوں نے اذان کے متعلق سلسلہ وار ٹویٹس کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’خدا آپ سب کا بھلا کرے۔ میں مسلمان نہیں ہوں اور مجھے اذان کی آواز سن کر صبح اٹھنا پڑتا ہے۔ انڈیا میں مذہبی زبردستی کب ختم ہو گی۔‘

اس ٹویٹ کے بعد سوشل میڈیا پر آزادی رائے، اذان اور لاؤڈ سپیکر کے استعمال کے حوالے سے بحث چھڑ گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا تھا کہ ’میں کسی ایسے مندر یا گردوارا پر یقین نہیں رکھتا جو بجلی استعمال کر کے اُن لوگوں کو اٹھائیں جو ان کے مذہب کے پیروکار نہیں ہیں۔‘

ان چار ٹویٹس کے بعد ٹوئٹر پر سونو نگم کا نام ٹرینڈ ہونا شروع ہو گیا۔ پاکستان کے دس سب سے زیادہ ٹرینڈ ہونے والے موضوعات میں سے ایک سونو نگم تھے جبکہ انڈیا میں بھی ’سونو اذان ڈیبیٹ‘ کے ہیش ٹیگ سے بحث جاری تھی۔

اور ٹوئٹر پر ہر بحث کی طرح، ایک طرف وہ لوگ تھے جو سونو نگم کے حق میں تھے اور دوسری جانب وہ جو ان کی مخالفت کر ہے تھے یا ان کا مذاق اڑا رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

لیکن انڈیا سے سواپنیل نے اپنی دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹویٹ کی کہ 'سونو نگم کی یہ ٹویٹس سارے دن خبروں میں رہیں گی اور میں اس بحث میں حصہ لینا نہیں چاہتا۔ میں جا رہا ہوں۔'

دوسری جانب پاکستان سے عادل نے سونو نگم کے نام کے حوالے سے ٹویٹ کی 'سونو نگم سے سونو ناکام ایک ٹویٹ میں'۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption سونو نگم کی صبح کی جانے والی پہلی ٹویٹ

پاکستان سے ہی اسامہ نے اپنی ٹویٹ میں سونو نگم کی گلوکاری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ٹویٹ کی کہ 'کل میں شاپنگ مال گیا جہاں وہ سونو نگم کے گانے چلا رہے تھے۔ وہ سن کر میرے کانوں سے خون بہنا شروع ہو گیا۔ کب ختم ہو گی یہ زبردستی۔' اسامہ کی اس ٹویٹ کو کافی سراہا گیا اور ساڑھے چار سو سے زائد لوگوں نے اس کو دوبارہ شیئر بھی کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

اسی بارے میں