فتوے کے بعد سونو نگم نے خود ہی سر منڈوا لیا

سونو نگھم تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption مغربی بنگال کے ایک مولوی نے ان کے بال منڈوانے والے کے لیے 10 لاکھ روپے کا انعام رکھا تھا

مذہبی مقامات پر لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر کیے گئے ٹویٹس کے بعد تنازعے کا سامنا کرنے والے بالی وڈ گلوکار سونو نگم نے کہا ہے کہ ان کا مقصد کسی کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا لیکن وہ بنیاد پرستوں کی مخالفت کرتے رہیں گے۔

ایک پریس کانفرنس میں انھوں نے اعلان کیا کہ وہ اپنا سر ایک مسلمان بھائی سے منڈوا رہے ہیں اور مولوی دس لاکھ روپے تیار رکھیں۔ یہ کہنے کے بعد انھوں نے اپنے سر کے بال منڈوا لیے۔

تاہم ان کے خلاف فتوی دینے والے مولوی نے کہا ہے کہ ان کی شرطیں پوری نہیں ہوئیں۔

* ’سونو کے مکان تک تو اذان کی آواز جاتی ہی نہیں‘

* ’ معاملہ اذان یا آرتی کا نہیں بلکہ لاؤڈ سپیکر کا ہے‘

یاد رہے کہ دو دن پہلے ان کے ٹویٹس کے بعد مغربی بنگال کے ایک مولوی نے ان کے خلاف فتوی دیتے ہوئے ان کے بال منڈوانے والے کے لیے دس لاکھ روپے کا انعام کا اعلان کیا تھا۔

اپنے بال کٹوانے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ’اس کا مقصد کسی کو چیلنج کرنا نہیں بلکہ ’میں اپنی مرضی سے ایک مسلمان بھائی سے بال کٹوا رہا ہوں۔ اگر فتوے کی ہی بات کو ایک چھوٹی سی محبت سے کریں تو بہتر پیغام جائے گا۔‘

اگرچہ فتوے کے بعد سونو نگم نے ٹویٹ کر کے کہا تھا کہ وہ خود اپنے سر کے بال منڈوائیں گے اور مولوی دس لاکھ روپے دینے کے لیے تیار رہیں۔

صحافیوں سے بات چیت میں سونو نگم نے کہا: ’میں سیکیولر ہوں اور میرا ارادہ کسی کے مذہب پر تنقید کرنے کا نہیں تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PTI

ان کا کہنا تھا ’میرے خیال میں کسی کا دھرم کسی دوسرے سے اچھا یا برا نہیں ہوتا۔ ‘

سونو نگم نے کہا کہ ان کے تمام استاد مسلمان ہیں اور ان کا ڈرائیور بھی مسلمان ہے۔ ان کے بقول ان کا اٹھنا بیٹھنا مسلمانوں کے ساتھ ہے۔‘

سونو نگم نے کہا: ’شاید کچھ لوگوں کو اس بات پر اعتراض ہو کہ ’میں نے محمد لکھا تھا، کچھ لوگوں کو کہنا ہے کہ محمد صاحب کیوں نہیں کہا۔ یہ انگریزی زبان کی دقت ہے۔ انگریزی میں محمد صاحب نہیں آتا، محمد ہی آتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جس طرح کسی مسلمان کی زبان پر فوری طور پر شری کرشن نہیں آتا، اسی طرح میری زبان پر محمد صاحب نہیں آتا۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ غلط وقت پر کسی بھی مذہبی تقریب میں لاؤڈ سپیکر استعمال کو جائز نہیں سمجھتے اور وہ آزادیِ اظہار پر یقین رکھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ان کا کہنا تھا کہ ’کوئی مذہب لاؤڈ سپیکر کا پابند نہیں ہے بلکہ مذاہب تو بجلی کی ایجاد سے پہلے سے موجود ہیں۔‘

سونو نگم نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ان کا مقصد ’ایک سماجی موضوع پر بات کرنا تھا نہ کہ مذہبی موضوع پر۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ضروری نہیں ہے کہ کسی دوسرے مذہب کا انسان آپ کے مذہب کے کسی جزو کو بھی اسی طری پسند کرے جس طرح آپ کرتے ہیں۔

اسی بارے میں