’موسیقی کو زندہ رکھنے کے لیے لائیو کانسرٹس ضروری'

علی نور
Image caption علی نور کا خیال ہے کہ ڈیجیٹل ذرائع سے لوگوں کی میوزک تک مفت رسائی اچھی بات ہے

دنیا بھر میں ڈیجیٹل ذرائع سے میوزک کی آسان دستیابی کے مدنظر بیشتر فنکار اس بات پر متفق ہیں کہ انڈسٹری کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ لائیو کانسرٹس کرائے جائیں۔

پاکستان کے مشہور راک بینڈ 'نوری' کے گلوکار علی نور میوزک کی آن لائن رسائی کو ارتقائی عمل کا حصہ قرار دیتے ہیں۔

’قوالی کو عوامی رنگ بھی دیا جانا چاہیے‘

'عقلی طور پر ڈیجیٹل دور کے فوائد اس کے نقصانات سے زیادہ ہونے چاہئیں۔ اس سے اچھی بات کیا ہوسکتی ہے کہ دنیا بھر کا میوزک اور کتابوں تک مفت میں آپ کی رسائی ہو۔'

ایوارڈ یافتہ گلوکار اور موسیقار ہارون رشید کہتے ہیں کہ 'ٹی وی شوز کے لیے ادائیگی نہیں کی جاتی، اُس کے لیے اشتہارات کی مدد لی جاتی ہے بالکل اسی طرح میوزک کو بھی اشتہارات کی ضروت ہوتی ہے اورہم اسی ماڈل کی طرف جا رہےہیں۔'

ڈاؤن لوڈنگ کی وجہ سے میوزک انڈسٹری کو پہنچنے والے مالی نقصانات پر ان کا موقف تھا کہ 'آج سے 100 سال پہلے بھی کوئی میوزک نہیں خریدتا تھا۔ آپ کس طرح سے فن کی قیمت لگا سکتے ہیں۔ دو ڈالر لگائیں گے یا ایک ڈالر۔ میوزک کے ارتقاء میں اب وہ وقت آگیا ہے کہ میوزک بنانے اور سننے والوں کو ایک دانستہ کوشش کرنی ہوگی کہ انھیں میوزک کو کیسے اپنی زندگی میں سرایت کرنے دینا ہے۔'

Image caption گلوکار ہارون رشید کا کہنا ہے کہ میڈیا ہاؤسز کی ملکی فن کاروں کو خاطرخواہ حمایت حاصل نہیں ہے

گٹارسٹ ذی جاہ فاضلی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ملک میں پچھلے چند سالوں کے دوران میوزک میلوں کی تعداد میں اضافے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا: 'میری توخواہش ہے کہ سیاسی مقصد کے لیے ہونے والے جلسوں کی طرح میوزک کے لیے بھی ایک سڑک بند کی جائے اور وہاں ایک ہفتے تک میوزک ہو۔ یہی لائیو کانسرٹ کی اصل شکل ہے۔ وہاں دوسرے آرٹس جیسے کہ تھیئٹر اور رقص ہو، فلمز دکھائی جائیں، سٹالز لگےہوں۔لوگ آئیں اور تفریح کریں۔'

ذی جاہ فاضلی نے میوزک سمیت فن کی دیگر اصناف فلمز، تھیئٹر اور رقص کے فروغ کے لیے اسلام آباد میں فاؤنڈیشن فارآرٹس، کلچر اینڈ ایجوکیشن (فیس) نامی ادارہ بھی قائم کیا ہے جس کے تحت ہرسال مختلف فیسٹیولز کا اہتمام کیاجاتا ہے۔

فیس نامی ادارے کی ڈائریکٹر پراجیکٹس مہناز پروین کہتی ہیں: 'ہمارے علاقائی فنکاروں کی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک رسائی نہیں ہے۔ یہ نسبتا ایک نیا آئیڈیا ہے اور ان کو یہ نہیں معلوم کہ وہ خود کو کیسے پروموٹ کریں اور اپنا میوزک بیچیں۔ یہاں رائلٹیز کا کوئی نظام نہیں ہے۔ ایسے میں صرف لائیومیوزک یا کانسرٹس ہی ایسی جگہ بچ جاتی ہیں جہاں سے وہ پیسے کما سکتے ہیں۔'

Image caption فنکاروں کا خیال ہے کہ لائیو کانسرٹ سے موسیقی کو مقبول بنانے میں مدد ملے گی

پاکستان میں عموما لوگ لائیو میوزک کانسرٹ کے لیے پیسےخرچ کرنے سے کتراتے ہیں اور مفت تفریح کو ترجیح دیتےہیں لیکن مہناز پروین کا خیال ہے کہ 'اب چیزیں کافی تیزی سے تبدیل ہورہی ہیں اور چار سالوں میں یہ پہلا موقع تھا جب فیس میوزک میلے میں ایک سستا ٹکٹ متعارف کروایا گیا اور80 فیصد لوگوں نے ٹکٹ خرید کر میوزک سنا۔'

گلوکار ہارون رشید نے بی بی سی سے گفتگو میں شکوہ کیا کہ 'میڈیا ہاؤسز بھی صحیح انداز میں ملکی گلوکاروں اور موسیقاروں کو سپورٹ نہیں کر رہے۔ چینلز پاکستانی میوزک کے بجائے غیر ملکی میوزک زیادہ چلاتے ہیں۔'

وہ کہتے ہیں کہ میوزک کی جانب حکومتی عدم توجہی دستیاب مواقع کو ضائع کر دینے جیسا ہے۔ اسی حوالے سے انھوں نے برطانیہ میں میوزک کی مثال دی اور کہا کہ 'وہاں ہر سال انٹیلیکچوئیل پراپرٹی رائٹس کی وجہ سے ملکی خزانے کو کئی بلین ڈالرز کا فائدہ ہوتا ہے۔'

ان کے برعکس بالی وڈ کے لیے بھی موسیقی ترتیب دینے والے 'کال دا بینڈ' کے گلوکار جنید خان ذرا مختلف رائے کے ساتھ میوزک کی آزاد منڈی کے حامی نظر آئے۔

'انڈیا کی انڈسٹری زیادہ بڑی ہے۔ کرنسی کے فرق کی وجہ سے آمدنی زیادہ ہے۔ ان کی دنیا تک پہنچ ہے اور ہماری تھوڑی کم ہے اور اسی لیے ہم اپنا تقابل ان سے نہیں کرسکتے۔ ہمیں ان کےساتھ چلنا چاہیے اور میرے خیال سے ہم الگ تھلگ رہ کر کام کر سکتے ہیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں