اب کیا بچے کی جان لو گے!

اکشے اور منوج تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اکشے کمار اور منوج واجپئی دونوں بہترین اداکار کے انعام کی دوڑ میں شامل تھے

اکشے کمار کو نیشنل ایوارڈ دیے جانے کا تنازع ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ ہر ہفتے کوئی نہ کوئی دل جلا اس حوالے سے نا انصافی کی دہائی دینے کھڑا ہو جاتا ہے۔

بیچارے اکشے پریشان ہو کر کہہ بیٹھے کہ بھائی اگر ایسا ہے تو ایوارڈ واپس لے لو۔ اب منوج واجپئی نے بھی اپنے دل کے چھالے پھوڑنے شروع کر دیے جو فلم 'علی گڑھ' میں اپنی زبردست اداکاری کے لیے اس مقابلے میں شامل تھے۔

جب ایک پریس کانفرنس میں ان سے 64 ویں نیشنل ایوارڈ اکشے کمار کو دیے جانے کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کا فیصلہ آپ کو پسند ہو یا نہ ہو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔

منوج واجپئی کا کہنا تھا کہ اس ملک میں ایوارڈز کی بنیاد پر زندگی نہیں گزاری جا سکتی۔ تاہم منوج کا خیال تھا کہ انڈسٹری میں اتنے سال کے باوجود ان کی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال نہیں کیا گیا۔

منوج اتنے سال انڈسٹری میں گزارنے کے باوجود بھی ایوارڈز کی سیاست کو نہیں سمجھ پائے حیرانی کی بات ہے!

رشی کپور کھل گئے ہیں!

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption رشی کپور کو نوجوانوں سے بہت شکایت رہی ہے

رشی کپور نے کھلم کھلا کتاب کیا لکھ ڈالی سوشل میڈیا پر بھی وہ کھل کر نہ صرف اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں بلکہ لوگوں کو ڈانٹ بھی لگاتے ہیں اور مختلف موضوعات پر اپنی خوشی اور ناراضگی بھی ظاہر کرتے ہیں۔

اس ہفتے بالی وڈ کے معروف اداکار ونود کھننہ کے انتقال کے بعد بھی انھیں بہت غصہ آیا۔ رشی کپور کا کہنا تھا کہ ونود کھننہ کی آخری رسومات میں اس نسل کے سٹارز اور سپر سٹارز شریک نہیں ہوئے۔

رشی کپور نے ان بیچارے سٹارز کو ڈانٹ لگاتے ہوئے کہا کہ یہ بہت شرم کی بات ہے کہ لوگ اسی شام پرینکا چوپڑہ کے گھر ہونے والی پارٹی میں شریک ہوئے لیکن ونود کھنہ کی آخری رسومات میں نہیں پہنچے۔

ویسے پارٹی میں تو رشی صاحب بھی موجود تھے۔ پارٹی میں عالیہ بھٹ، سدھارتھ، ریکھا، کنگنا رناوت اور سشمیتا سین جیسے سٹارز شامل تھے۔ رشی جی شاید یہ بھول گئے کہ کرن جوہر نے اسی شام ونود کھنہ کے سوگ میں فلم باہو بلی ٹو کا پریمیئر منسوخ کر دیا تھا۔ اب کیا بچوں کی جان لو گے؟

قطرینہ اور رنبیر کپور کی نئی سیلفی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption قطرینہ اور رنبیر کپور ایک زمانے میں ایک ساتھ رہتے تھے اور دونوں کی شادی کی بات طے سمجھی جا رہی تھی لیکن اب علیحدہ رہتے ہیں

لگتا ہے فلم جگا جاسوس کے ڈائریکٹر انوراگ باسو کے اچھے دن آنے والے ہیں جو رنبیر کپور اور قطرینہ کیف کے بریک اپ کی وجہ سے پریشان تھے۔

بریک اپ کے بعد سے رنبیر اور قطرینہ ایک دوسرے سے کتراتے تھے۔ ایسے میں انوراگ کے لیے فلم کی پروموشن تو دور شوٹنگ پوری کرنا مشکل لگ رہا تھا لیکن اب لگتا ہے وقت کے ساتھ ساتھ رنبیر اور قطرینہ نے حالات سے سمجھوتہ کر لیا ہے اور ایک دوسرے کی موجودگی انھیں بے چین نہیں کرتی۔

حال ہی میں جگا جاسوس کے سیٹ سے دونوں کی ایک سیلفی جاری کر کے یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ 'آل از ویل' اور کہا جا رہا ہے کہ دونوں مل کر فلم کا پروموشن بھی کرنے والے ہیں۔

یوں تو فلم کی ریلیز کی تاریخ کئی بار ملتوی کی جا چکی ہے۔ بہر حال امید ہے کہ انوراگ کے یہ اچھے دن فلم کی رلیز تک قائم رہیں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں