’موسیقی کے جنون کی وجہ سے زندگی میں بہت کچھ چھوڑنا پڑا‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’مجھے موسیقی کے لیے سب کچھ چھوڑنا پڑا’

پاکستان کے مشہور لوک گلوکار عطااللہ خان عیسٰی خیلوی کہتے ہیں کہ ماضی اور جدید دور کی موسیقی میں صرف یہ فرق ہے کہ موجودہ دور کی موسیقی وقتی مزہ دیتی ہے لیکن اپنا تاثر نہیں چھوڑتی۔

عطااللہ عیسٰی خیلوی کا تعلق صوبہ پنجاب کے ضلع میانوالی سے ہے۔

بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ موسیقی کے جنون کی وجہ سے انھیں زندگی میں بہت کچھ چھوڑنا پڑا۔

٭ ’موسیقی کو زندہ رکھنے کے لیے لائیو کانسرٹس ضروری'

٭ ’قوالی کو عوامی رنگ بھی دیا جانا چاہیے‘

'ہم قبائلی پٹھان ہیں۔ وہاں پچاس سال پہلے میوزک کو بہت بُرا سمجھا جاتا تھا لیکن میں نے اُس پورے سسٹم کے خلاف بغاوت کی اور میں نے اپنی پوری زندگی میوزک کو دے دی۔ مجھے سب کچھ چھوڑنا پڑا، نام، خاندان اورجائیداد۔ میں نیازی قبیلے سے ہوں تو نام و نسب چھوڑنا پڑا۔'

اپنے والد کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا:'اللہ غریقِ رحمت کرے میرے ابا حضور کو۔ سب سے بڑی مزاحمت تو وہ تھے لیکن ایک وقت آیا کہ انھوں نے مجھے کچھ کہنا چھوڑ دیا۔ یہ نہیں کہ وہ مجھے پسند کرنے لگ گئے۔ میرے بزرگوں نے کہا یا تو گانا گاؤ یا نیازی ساتھ لکھو، تو میں نے کہا کہ نیازی نہیں لکھوں گا میں عیٰسی خیلوی لکھوں گا۔'

عطااللہ عیسٰی خیلوی کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ انھوں نے محبت میں ناکامی کے بعد بغاوت میں گانے گانا شروع کر دیا۔ جب یہی سوال میں نے کیا تو وہ مسکرا کے بولے 'محبت تو سب کرتے ہیں۔ ایسا نہیں ہوتا کہ جو محبت کرے وہ گلوکار بن جائے۔ ٹیلنٹ تو اللہ کی طرف سے ہے، ہاں اس کو حالات، محبت، محرومیاں اور تکلیفیں نکھارتی کرتی ہیں'۔

عطا اللہ خان عیسٰی خیلوی عوام اور خواص میں یکساں مقبول ہیں۔ گلیوں محلوں کے علاوہ بسوں میں مختصر اور طویل سفر کرنے والے ہر پاکستانی نے کانوں میں رس گھولنے والی ان کی آواز کا مزہ چکھا ہے۔ تاہم اب ان کے بہت کم گانے منظرِ عام پر آتے ہیں۔

'میں کام کر رہا ہوں لیکن اُس طریقے سے نہیں جیسے پہلے کرتا تھا یعنی پہلے سال میں میری خاصے والیم آ جاتے تھے لیکن اب سال میں ایک دو گانے ہی کرتا ہوں'۔

جدید دور کی موسیقی کے بارے میں ان کا مؤقف تھا کہ 'وقت کے ساتھ موسیقی بدل گئی ہے۔ میوزک کا وہ دور چلا گیا ہے۔ موسیقی کے جو نئے آلات آ گئے ہیں ان کے ساتھ کام کرنے کو دل نہیں کرتا۔ جو اصل ڈھول ہے، طبلہ ہے، ہارمونیئم ہے، گھڑاہے، شہنائی ہے، سارنگی ہے، وائلن ہے، اس طرح کی چیزیں اب ناپید ہوتی جا رہی ہیں۔ کی بورڈ نے سب کچھ سنبھال لیا ہے۔‘

عیسٰی خیلوی نے فلموں کے لیے بھی گانے گائے لیکن نئی فلموں میں اب تک ان کی آواز سننے کو نہیں ملی جس پر ان کا کہنا تھا کہ اب تک انھیں کوئی سکرپٹ نہیں ملا ہے لیکن اگر ایسا ہوا تو وہ ضرور سوچیں گے۔

30 سالوں سے موسیقی کی صنعت سے وابستہ گلوکار عطا اللہ عیسٰی خیلوی نے سات زبانوں میں چار ہزار سے زیادہ گانے ریکارڈ کرائے ہیں۔ فن کے لیے ان کی خدمات کے صلے میں 1991 میں حکومتِ پاکستان نے انھیں تمغہ حُسنِ کارکردگی سے نوازا تھا۔

ان کے مشہور ترین گانوں میں 'قمیض تیری کالی'، 'اے تھیوا'، 'اچھا صلہ دیا تو نے میرے پیار کا'، 'عشق میں ہم تمہیں کیا بتائیں'، 'چن کِتھا گزار آئی رات وے'، 'اِدھر زندگی کا جنازہ' اور 'آج کالا جوڑا پا ساڈی فرمائش تے' بے حد مشہور ہوئے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں