رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے، لندن میں پاکستانی شاعروں اور آرٹسٹوں کی ایک محفل

مشاعرہ
Image caption تقریب کے شرکا امجد اسلام امجد اور انور مسعود کے ساتھ

دیارِ غیر میں ایسا کم کم ہی ہوتا ہے کہ آپ کو ایک ہی چھت کے نیچے آرٹسٹوں، شاعروں اور دانشوروں سے بات کرنے، ان کا کلام سننے یا ان کا کام دیکھنے کا موقع ملے۔

اور اگر وہاں حسن شاہنواز زیدی موجود ہوں تو یقیناً یہ سب کچھ آپ کو ایک ہی شخص سے ایک ہی چھت کے نیچے مل جائے گا۔ حسن شاہنواز مشہور آرٹسٹ، اداکار، پنجاب یونیورسٹی کے کالج آف آرٹس اینڈ ڈیزائن کے سابق پرنسپل، شاعر اور نہایت مترنم آواز میں اپنی غزلیں اور نظمیں سنانے والے گلوکار بھی ہیں۔

حسن شاہنواز زیدی کے متعلق یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ وہ شاعری میں الفاظ سے تصاویر بناتے ہیں اور جب مصوری کرتے ہیں تو ان کی تصاویر کے رنگ بولتے ہیں۔

انھوں نے اپنی نظم 'درخواست' سنا کر سب کے دل موہ لیے۔ پیش ہیں نظم کے چند اشعار:

'تعلق اس طرح توڑا نہیں کرتے کہ پھر سے جوڑنا دشوار ہو جائے

حیات اک ذہن میں ڈوبی ہوئی تلوار ہو جائے

محبت اس طرح چھوڑا نہیں کرتے

بگڑنے کے طریقے ہیں

رواج و رسمِ ترکِ دوستی پر سو کتابیں ہیں

رواداری کا ایسے راستہ چھوڑا نہیں کرتے

تعلق اس طرح توڑا نہیں کرتے‘

لیکن لندن کے علاقے وانڈزورتھ کے ٹاؤن ہال کی اس چھت کے نیچے زیدی تنہا نہیں تھے۔ ان کے ہمراہ شاعری اور ادب کے دوسرے بڑے بڑے نام بھی موجود تھے جن میں پاکستان سے آئے انور مسعود اور امجد اسلام امجد اور لندن میں رہنے والے شاعر، صحافی اور دانشور ایوب اولیا بھی شامل تھے۔

امجد اسلام امجد نے اپنے مخصوص انداز میں اپنی پسندیدہ نظمیں پڑھیں لیکن جس نظم نے سامعین کے دل موہ لیے وہ ان کی نظم 'جب تم نے ٹھان ہی لی ہے ہمارے دل سے نکلو گے‘ تھی۔ اس کے کچھ بند تو بار بار سننے کی فرمائش کی گئی۔

Image caption فائقہ اپل اپنی پینٹنگز کے ہمراہ

پروفیسر انور مسعود تو خود ہی اپنے آپ میں ایک انجمن ہیں اور ان کے متعلق تو صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر انھیں لق و دق صحرا میں بھی بٹھا دیا جائے تو وہ اسے اپنی آواز اور الفاظ کی شیرینی سے گل و گلزار بنا دیں گے۔ انھوں نے اپنی نظموں اور قطعات سے وہاں موجود سامعین کو لوٹ پوٹ کر دیا اور وانڈزورتھ کے اس ہال میں سنیچر کی شب قہقہے تھے کہ رکتے ہی نہیں تھے۔

لیکن اس شام کی سب سے خوبصورت بات یہ بھی تھی کہ حاضرین نے جتنا لطف شعرا کے کلام سے اٹھایا اتنی ہی دلچسپی وہاں موجود فنکاروں فائقہ کیو اپل، حسن شہنواز، مرزا ندیم احمد، صبا حنیف، جمال مصطفیٰ اور نجمیٰ عباس کے فن پاروں میں دکھائی۔ یہ سب آرٹسٹ مل کر اب برطانیہ کے مختلف شہروں میں آرٹ کے نمونوں کی نمائش کے متعلق بھی سوچ رہے ہیں۔

Image caption صبا حنیف کا ایک فن پارہ

فائقہ اپل جن پینٹنگز کی نمائش کر رہی تھیں وہ واٹر کلر سے بنائی گئی تھیں لیکن ہر تصویر کے اپنے اپنے منفرد رنگ تھے۔ انھوں نے کہا کہ 'میرا پینٹنگز سٹائل ہے کہ ایسا اظہار کرو جو آپ کے ذہن پر نقش ہو جائے اور یہی میں نے اپنی ہر پینٹنگ میں کرنے کی کوشش کی ہے۔'

فائقہ اپل نے پاکستان میں پنجاب یونیورسٹی کے فائن آرٹس ڈیپارٹمنٹ سے ایم اے کیا، گولڈ میڈل لیا اور بعد برطانیہ کے شہر برمنگھم میں بس گئیں۔

اسی طرح صبا حنیف بھی پنجاب یونیورسٹی کی پڑھی ہیں اور ٹائل پینٹنگ اور موزیک میں مہارت رکھتی ہیں۔ انھوں نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹائل پینٹنگ میرا جنون ہے اور جب ٹائل پک کر اپنے منفرد رنگ دکھاتی ہے تو ایسا لگتا ہے کہ میں اپنی ثقافت سے دور نہیں ہوئی۔

نجمہ عباس، مرزا ندیم اور جمال مصطفیٰ کے کام میں بھی شائقین نے کافی دلچسپی دکھائی، نمائش دیکھنے والے ایک شخص نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ جمال مصطفیٰ کے سٹینڈ گلاس کے فن پارے تو کسی ماسٹر کے کام کی یاد دلا رہے ہیں۔