پاکستانی فلم 'چلے تھے ساتھ' ایک ڈاکیوڈراما

تصویر کے کاپی رائٹ IMDB.COM

سال 2017 پاکستانی فلموں کے لیے کافی مایوس کن رہا ہے۔ تھوڑا جی لے، وسل، بالو ماہی اور راستہ جیسی فلموں کی وجہ سے شائقین نے سنیما کا رخ کرنے سے توبہ کرلی تھی لیکن ہدایتکار عمر عادل کی 'چلے تھے ساتھ' شائقین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب نظر آتی ہے۔

ہالی وڈ فلم 'فاسٹ8' اور بالی وڈ فلم نور کے سامنے دو ہفتے تک سنیما میں رہنا ہی اس فلم کی بڑی کامیابی ہے۔ اس فلم میں زیادہ تر نئے اداکاروں کو متعارف کرایا گیا ہے جنھوں نے جاندار اداکاری کی وجہ سے سب سے داد وصول کی۔

’ماہ میر‘ کے لیے انڈیا میں بہترین فلم کا اعزاز

کچھ لوگ 'چلے تھے ساتھ' کو ڈاکیوڈرامہ کہہ رہے ہیں اور کچھ کے خیال میں اس میں کہانی کا فقدان ہے۔ دونوں ہی باتوں میں کچھ حد تک صداقت ہے کیونکہ زیادہ تر مناظر گلگت، ہنزہ اور شمالی علاقوں میں فلمائے گئے ہیں جو ویسے ہی خوبصورت ہیں تو اس پر ڈاکیومنٹری کا گمان ہونا بعید از قیاس نہیں۔

کہانی ایک چینی نوجوان ایڈم (کینٹ ایس لیونگ) اور ایک پاکستانی ڈاکٹر ریشم (سائرہ شہروز) کے گرد گھومتی ہے جنھیں ایک ٹرپ کے دوران محبت ہوجاتی ہے۔ ریشم کے دوست ان کی مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن کچھ ان کے والد (بہروز سبزواری) کی سختیوں اور کچھ اپنی ماں کی طبیعت کی وجہ سے ایڈم اپنے ملک واپس چلا جاتا ہے۔

اسی دوران پہاڑی تودہ گرنے کی وجہ سے ریشم کا گھر تباہ ہو جاتا ہے اور تمام لوگ کیمپ میں زندگی گزارنے لگتے ہیں۔ ایڈم کی واپسی سے نہ صرف ریشم کے والد خوش ہوتے ہیں بلکہ دونوں کی شادی بھی کرا دیتے ہیں۔ ریشم کے دوست زین اور تانیہ (اسامہ طاہر اور منشا پاشا) بھی اپنے اختلافات بھلا کر ایک ہوجاتے ہیں جبکہ امریکا سے واپس آئے فراز (فارس خالد) کو بھی سچی محبت مل جاتی ہے۔

کہانی کی سائیڈ لائنز پر ایک ٹرپ بھی چل رہا ہے جس میں ایک آنٹی (شمیم ہلالی) اپنے بچوں سے لڑ کر آئی ہیں، مگر ان کا پورے ٹرپ پر ساڑھی پہن کر گھومنا سمجھ سے باہر ہے، کیونکہ ایسے موقع پر لوگ ٹریک سوٹ یا پینٹ شرٹ کو ترجیح دیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ IMDB.COM

فلم میں سائرہ شہروز، منشا پاشا، بہروز سبزواری اور شمیم ہلالی کے ساتھ ساتھ فارس خالد، اسامہ طاہر اور ژالے سرحدی نے اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔

چینی اداکار نے بھی ذرا ہٹ کر اداکاری کی ہے جس سے پاکستانی عوام محظوظ ہوں گے۔

بہروز سبزواری نے تو فلم میں ایک گانا بھی گایا ہے جسے دیکھ کر انڈین اداکار اشوک کمار کے فلمی گیت ریل گاڑی کی یاد تازہ ہوگئی۔

بہت عرصے بعد بہروز سبزواری کو ایک اچھے رول میں دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی۔ فلم کی عکس بندی شہزاد خان نے کی ہے اور انھوں نے قدرتی حسن کو بہترین انداز میں پیش کیا ہے۔

تمام نئے اداکاروں نے اپنے کرداروں کے ساتھ انصاف کیا ہے اور آؤٹ آف کیریکٹر کم ہی نظر آئے۔

خراب ایڈیٹنگ کی وجہ سے فلم تھوڑی لمبی ضرور لگی لیکن خوبصورت وادیوں کے مناظر کی وجہ سے نظر سکرین سے کم ہی ہٹ سکی۔

یہ فلم سرکٹ والی عوام میں زیادہ پذیرائی حاصل نہ کرسکی لیکن ملٹی پلکس آنے والوں کو کافی پسند آئی۔ ہدایتکار عمر عادل اور ان کی اہلیہ بینش عمر کی یہ پہلی فلم ہے اور امید ہے کہ اگلی فلم اس سے بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں