اے گرل ان دی ریور: فلم ساز شرمین عبید کی دستاویزی فلم کے لیے ایک اور عالمی اعزاز

فلم تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شرمین عبید چنائے کو 'اے گرل ان دی ریور‘ کےلیے 2016 میں آسکر ایوارڈ ملا تھا

پاکستانی فلم ساز شرمین عبید چنائے کی آسکر اعزاز یافتہ دستاویزی فلم 'اے گرل ان دی ریور' (دریا میں ایک لڑکی) نے عالمی ٹیلیویژن کی کیٹگری میں رابرٹ کینیڈی جرنلزم ایوارڈ جیت لیا ہے۔

یہ دستاویزی فلم صبا نامی 18 سالہ لڑکی کی کہانی ہے جسے اس کے رشتے داروں نے غیرت کے نام پر قتل کرنے کی کوشش کے بعد مردہ سمجھ کر دریا میں پھینک دیا تھا مگر وہ معجزانہ طور پر بچ گئی تھی۔ زندہ بچنے کے بعد اس نے ہسپتال کے ڈاکٹروں اور پولیس کے ساتھ مل کر اپنا مقدمہ لڑا مگر پھر دباؤ میں آ کر حملہ آوروں کو معاف کر دیا تھا۔

* ایک اور آسکر ایوارڈ شرمین عبید چنائے کے نام

* شرمین عبید کی فلم کا پریمیئر وزیراعظم ہاؤس میں

* مشکل موضوعات شرمین کے لیے نئی چیز نہیں

اے گرل ان دی ریور نامی اس دستاویزی فلم کو 2016 آسکر ایوارڈ بھی مل چکا ہے جو کہ شرمین عبید چنائے کا دوسرا آسکر تھا۔

شرمین عبید چنائے ان نو خواتین ہدایت کاروں میں سے شامل ہیں جنھوں نے نان فکشن میں آسکر ایوارڈ حاصل کیے ہوں۔

برلن میں کانفرنس میں شرکت کے لیے موجود شرمین عبید چنائے نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی جیت پر خوشی کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں بے حد خوش ہوں کہ اس دستاویزی فلم کو لوگ ابھی بھی سراہ رہے ہیں اور اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس سے قطع نظر کہ آپ کا تعلق کس جگہ سے ہے، آپ اگر اچھا کام کریں تو لوگ اس کام کو سراہیں گے۔'

اس دستاویزی فلم کی کامیابی کے بارے میں شرمین عبید چنائے کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں انگریزی اور اردو دونوں زبانوں کے میڈیا میں غیرت کے نام پر کیے جانے والے جرائم کے بارے میں گفتگو میں اضافہ ہوا ہے۔

'میرے خیال میں کسی بھی مسئلے کے ادارک کے لیے ضروری ہے کہ اس کے بارے میں ملک بھر میں گفتگو کی جائے اور مجھے بہت خوشی ہے کہ لوگ اب اس بارے میں بات کرتے ہیں اور میں سمجھتی ہوں کہ اس تبدیلی کے پیچھے اس ڈاکیومینٹری کا کچھ کردار ضرور ہے۔'

مستقبل میں اپنے ارادوں کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے شرمین عبید چنائے نے بتایا کہ وہ اس وقت پانچ ورچوئل ریئلٹی فلموں پر کام کر رہی ہیں جن کی مدد سے کوشش کی جائے گی کہ یہ دکھایا جا سکے کہ پاکستان میں رہنا اور کام کرنا کیسا لگتا ہے۔

اس سوال پر کہ کیا وہ رابرٹ کینیڈی جرنلزم ایوارڈ کی تقریب میں شرکت کریں گی، شرمین عبید چنائے نے اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنی پیشگی مصروفیات کی بنا پر وہ خود تو نہیں جا سکیں گی لیکن ان کی ٹیم کے ممبران شرکت کریں گے اوران کا تحریری بیان وہاں پیش کریں گے۔

'یہ نہایت ہی اہم اور اعلیٰ اعزاز ہے جسے حاصل کرنے کے لیے لوگ ساری عمر جدو جہد کرتے ہیں اور مجھے بہت فخر اور خوشی ہے کہ اس دستاویزی فلم کی مدد سے ہم یہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو ئے۔'

رابرٹ کینیڈی ایوارڈ کا آغاز 1968 میں ہوا تھا جس میں سماجی بہتری اور اہمیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لیے 12 کیٹیگریز میں اعزازت دیے جاتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں