امیتابھ کے مندر میں نیا مجسمہ

امیتابھ بچن کا مجسمہ تصویر کے کاپی رائٹ ALL BENGAL AMITABH BACHCHAN FANS' ASSOCIATION
Image caption امیتابھ بچن کو ایک سروے میں ملینیم کا بہترین سٹار منتخب کیا گیا تھا

بالی وڈ کے معروف اداکار امیتابھ بچن کے مندر میں گذشتہ روز ان کا ایک نیا مجسمہ لگایا گیا ہے جو کہ ان کے قد کے تقریباً برابر ہے۔

ان کے مداحوں نے ایک عرصہ قبل کولکتہ میں ان کا ایک مندر بنایا تھا جہاں وہ ان کی زیارت کے لیے جاتے ہیں اور ان کی پوجا کرتے ہیں۔

انڈین خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ مجسمہ ان کی فلم 'سرکار-3' کی ریلیز کے موقعے پر آل بنگال امیتابھ بچن فینز ایسوسی ایشن کی جانب سے لگایا گیا ہے۔

٭ کرکٹ کے'بھگوان' کی شاید اب پوجا شروع ہو جائے

٭ بھارت میں سونیا گاندھی کے مندر کی تعمیر

اس انجمن کے سیکریٹری سنجے پٹوڈیا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: 'ہم نے امیتابھ بچن کے مندر میں پوجا پاٹ کے بعد ان کی فلم کی کامیابی کے لیے ان کی مورتی قائم کی ہے۔ یہ مورتی ان کے قد سے قدرے اونچی ہے تاکہ نظروں میں زیادہ جچے۔ اور ہاتھ کی لمبائی میں بھی اضافہ کیا ہے۔'

پٹوڈیا نے بتایا کہ انھوں نے اس مندر کو 2001 میں قائم کیا تھا اور انھوں نے 'امیتابھ بچن سے اس سلسلے میں رابطہ نہیں کیا کیونکہ وہ خود کو انسان سمجھتے ہیں۔ لیکن ہم لوگ انھیں بھگوان مانتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یہاں تمل ناڈو کی سابق وزیر اعلی جے للتا کو ایم جی راماچندرن کی تصویر پر عقیدت کے پھول پیش کرتے دیکھا جا سکتا ہے

انڈیا میں سٹارز کے لیے مندر کی تعمیر کوئی نئی بات نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ تنڈولکر سے لے کر اداکارہ خوشبو کے نام کے مندر ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں۔

پہلے اس قسم کی چیزیں جنوبی ہند میں پائی جاتی تھیں لیکن اب یہ ملک کے دوسرے حصوں میں بھی پائی جانے لگی ہیں۔

معروف صحافی مدھوکر اپادھیائے بتاتے ہیں کہ جنوبی ہند میں مورتی پوجا کے خلاف ایک تحریک چلائی گئی تھی جس کے نتیجے میں بے شمار مندر ویران ہو گئے اور وہاں کے لوگوں کی زندگی میں ایک خلا پیدا ہو گیا۔ ان سٹارز سے منسوب مندروں کا سامنے آنا اسی خلا کا پر ہونا ہے۔

اس کے بعد یہ عام بات ہو جاتی ہے اور پھر مقابلے میں بھی لوگ مندر بنانے لگتے ہیں۔ جیسا کہ جنوبی ہند کے معروف اداکار اور سیاست داں ایم جی آر کا مندر اور پھر اس کے بعد تمل ناڈو کے سابق وزیر اعلیٰ کرونا ندھی کا مندر۔

تصویر کے کاپی رائٹ SNAPS INDIA
Image caption سونیا گاندھی کے مندر میں ایک دیوی کے روپ میں ان کی جو تصویر لگائی گئی ہے وہ پونے تین میٹر اونچی ہے

کرونا ندھی کا مندر ان کے ایک عقیدت مند سیاست داں نے ویلور میں تعمیر کروایا ہے۔

اداکارہ خوشبو کے نام کا مندر تمل ناڈو کے ٹریچیراپلی میں قائم ہے اور اداکارہ نے اس پر حیرت اور خوف دونوں کا اظہار بھی کیا ہے۔ بہر حال ان کی 'شادی سے پہلے سیکس' کے بیان پر بہت سے ان کے مداح ناراض ہوئے تھے اور اطلاعات کے مطابق ان کے مندر کو نقصان پہنچا تھا۔

خیال رہے کہ خوشبو کے علاوہ ممتا کلکرنی، نمیتھا، پوجا اوما شنکر کے نام پر بھی مندر کی باتیں کی جاتی ہیں لیکن ان کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کے نام پر جب مندر کا قیام عمل میں آیا تھا تو انھوں نے افسوس کا اظہار کیا تھا۔ یہ مندر ان کی آبائی ریاست کے ایک گاؤں کوٹھریا میں قائم کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PRAKASH RAVRANI
Image caption اس مندر کے بنانے والے کا کہنا ہے کہ ہر چند کہ اس کا نام بدل دیا گيا ہے لیکن ان کا نریندر مودی پر وہی اعتقاد ہے جس کے تحت انھوں نے یہ مندر بنایا تھا

اسی طرح کانگریس پارٹی کے ایک رہنما پی شنکر راؤ نے نئی ریاست تلنگانہ کے قیام کے فیصلے پر کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کے تقریباً پونے تین میٹر اونچے مجسمے کے ساتھ ایک مندر قائم کیا تھا۔ انڈیا میں مہاتما گاندھی، اندرا گاندھی، این ٹی راما راؤ وغیرہ کے نام کے مندر ہیں۔

انڈیا کی شمال مشرقی ریاست بہار کے بھوبھوا ضلعے میں بھوجپوری فلم کے معروف اداکار منوج تیواری نے باقاعدہ پوجا پاٹ کے ساتھ 2013 میں کرکٹ کے لیجنڈ سچن تنڈولکر کے مجسمے کی رونمائی کی تھی۔ یہ مندر اترولیا گاؤں میں قا‏ئم کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ NARENDRA KUMAR SINGH
Image caption کرکٹ کے مایہ ناز کھلاڑی سچن تنڈولکر کے مندر کے قیام میں اداکار منوج تیواری کی کوششیں شامل ہیں

بی بی سی کی تمل زبان کی نامہ نگار پرمیلا کرشنن نے بتایا کہ تمل ناڈو کی سابق وزیر اعلیٰ جے للتا کی موت کے فورا بعد ان کے نام پر ایک مندر وجود میں آیا ہے۔

امیتابھ بچن کے مندر میں فلم 'عکس' میں استعمال ہونے والی ایک کرسی ہے جس پر ان کی تصویر لگی ہے اور اس پر 'گاڈ' لکھا ہوا ہے۔ اس کے نیچے ان کے فلم 'اگنی پتھ' میں استعمال شدہ سفید جوتے کی ایک جوڑی ہے جبکہ ایک کمرے میں ان کے بے شمار پوسٹرز آویزاں ہیں۔

اس چھ فٹ دو انچ بلند اور 25 کلوگرام وزنی مجسمے کو سبرت بوس نے تیار کیا ہے۔ سنجے پٹوڈیا نے بتایا کہ 'سبرت بوس خود امیتابھ کے بہت بڑے مداح ہیں اور انھوں نے اس مجسمے پر آنے والے خرچ سے ایک پیسہ زیادہ نہ لینے کی بات کہی ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں