رجنی سر پکچر بننے سے پہلے ہی دیکھ لیتے ہیں!

رجنی کانت تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption میڈیا میں افواہیں گرم ہیں کہ اداکار رجنی کانت سیاست میں قدم رکھنے والے ہیں

اب رجنی سر کے بارے میں کیا کہیں؟ ایسا کیا ہے کہ جو ان کے بارے میں پہلے کہا نہ جا چکا ہو، اور دنیا میں کرنے کے لیے ایسا کیا ہے کہ جو وہ پہلے نہ کر چکے ہوں؟

رجنی کانت انڈیا کے سب سے بڑے فلم سٹار ہیں۔ کہتے ہیں کہ جنوبی ہندوستان کی پوری فلم انڈسٹری ان کے ایک کندھے پر ٹکی ہوئی ہے۔ انڈسٹری تو بہت بڑی ہے لیکن دوسرا کندھا استعمال کرنے کی کبھی ضرورت محسوس ہی نہیں ہوئی، اور رجنی کانت کو تو شاید یہ بھی معلوم نہ ہو کہ ان کے دوسرے کندھے پر باقی دنیا ٹکی ہوئی ہے!

ان کے مداح انھیں پوجتے ہیں۔ کسی فلم میں صرف ان کی موجودگی باکس آفس پر اس کی شاندار کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے، فلم شروع ہونے سے پہلے لوگ کھڑے ہوکر تالیاں بجاتے ہیں، رجنی رجنی کے نعرے لگاتے ہیں، فلم ختم ہونے کے بعد اس احساس اور سکون کے ساتھ گھر لوٹتے ہیں کہ جو رجنی سر کر سکتے ہیں وہ کوئی اور نہیں کر سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنوبی ہندوستان میں پہلے سے ہی این ٹی راما راؤ، ایم جی رام چندرن اور جیا للتا جیسے فلمی سٹاروں کی سیاست میں آنے کی مثالیں موجود ہیں

رجنی سر شاید انڈیا کے واحد فلم سٹار ہیں جو پردے سے ہٹ کر اپنی 'لُکس' یا امیج کی پروا نہیں کرتے۔ سر کے بال اڑ چکے ہیں تو کیا چھپانا؟ پیٹ اگر تھوڑا نکل بھی آیا تو کیا فکر ہے، عمر بھی تو 66 برس ہو گئی ہے۔

لیکن وہ اب کیوں سرخیوں میں ہیں؟ کیوں چاروں طرف ان کا چرچا ہے؟ بس اس لیے کہ انھوں نے اشاروں اشاروں میں کہا کہ وہ سیاست کی دنیا میں قدم رکھ سکتے ہیں۔ بس پھر کیا تھا، قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہو گیا۔ بی جے پی سے لے کر انا ڈی ایم کے تک، سب پلکیں بچھائے بیٹھے ہیں، وہ جس کا ہاتھ تھام لیں گے، تمل ناڈو میں اس کی نیا پار لگ جائے گی۔

اگر وہ واقعی فلمی آسمان سے سیاسی زمین پر اترتے ہیں، تو جنوبی ہندوستان میں ایسا پہلی بار نہیں ہو گا۔ وہاں پہلے سے ہی این ٹی راما راؤ، ایم جی رام چندرن اور جیا للتا کی مثالیں موجود ہیں جنھوں نے کامیابی کے ساتھ فلموں سے سیاست کا سفر طے کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption رجنی کے مداح انہیں پوجتے ہیں، کسی فلم میں صرف ان کی موجودگی باکس آفس پر اس کی شاندار کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے

لیکن رجنی کانت کی بات کچھ اور ہی ہے، اور ان کی ایکشن فلموں کی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ وہ ایسا بہت کچھ کر سکتے ہیں جو عام انسانوں کے بس کی بات نہیں۔ سوشل میڈیا پر اس کی ہزاروں مثالیں موجود ہیں۔

اگر آج سمندری طوفان سے پہلے بہت تیز ہوائیں چلیں تو گھبرائیے گا مت، رجنی کانت کی سالگرہ ہے، وہ موم بتیاں بجھائیں گی۔

رجنی کانت کو صرف ایک مرتبہ اپنا باڈی ڈبل استمعال کرنا پڑا، کیا کرتے، رونے کا سین تھا!

رجنی کانت کی نبض ریکٹر سکیل پر ناپی جاتی ہے۔

رجنی کانت اتنی تیز چلتے ہیں کہ پرچھائیں پیچھے چھوٹ جاتی ہے۔

جس سیب کو گرتا دیکھ کر نیوٹن نے اپنی تھیوری آف گریوٹی لکھی تھی، وہ رجنی کانت ہی نے گرایا تھا۔

رجنی کانت کے گھر میں میڈم تساد کا مجسمہ ہے۔

رجنی سر مسڈ کال پر بھی بات کر سکتے ہیں۔

بحیرۂ مردار کو رجنی کانت نے ہی مارا تھا۔

رجنی کانت کو آج گولی مار دی گئی، گولی کی آخری رسومات کل ادا کی جائیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption رجنی کانت کے بارے میں بہت سے لوگ بہت سے لطیفے بناتے ہیں

اور رجنی کانت کے بارے میں بہت سے لوگ بہت سے لطیفے بناتے ہیں، لیکن اس سے پہلے کہ یہ لطیفے آپ کے ذہن میں آئیں، رجنی کانت ان پر ہنس چکے ہوتے ہیں۔

بہرحال، کیا رجنی کانت واقعی یہ سب کچھ ہیں یا بس باتیں ہی بنی ہوئی ہیں؟ بحث ابھی باقی ہے کیونکہ رجنی کانت اگر نہیں بھی ہیں، تو جب چاہیں گے ہو سکتے ہیں!

رجنی سر سیاست میں آئیں گے یا نہیں، ابھی واضح نہیں ہے، آئیں گے تو قیامت ہو گی، نہ بھی ہوئی تو کوئی بات نہیں کیونکہ وہ رجنی سر کی مرضی کے بغیر نہیں ہو گی۔

یہ پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست، لیکن رجنی سر کو کیا پروا، وہ اپنی پکچر بننے سے پہلے ہی دیکھ لیتے ہیں!

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں