پنجابی گانوں کی بہترین دھنیں بنانے والا نہیں رہا

وجاہت عطرے اور دلیپ کمار

پاکستانی فلموں میں لاتعداد اور سدا بہار دھنوں کے تخلیق کار معروف موسیقار وجاہت عطرے جمعے کی صبح ایک مختصر علالت کے بعد لاہور میں انتقال کر گئے۔

68 سالہ وجاہت عطرے گذشتہ ایک ماہ سے عارضۂ قلب میں مبتلا تھے۔ ان کے چھوٹے صاحبزادے علی عطرے کے مطابق ان کے والد کا انتقال لاہور کے جناح ہسپتال میں حرکتِ قلب بند ہونے سے ہوا۔

'دنیا کے چند عظیم ترین ستار نوازوں میں سے ایک کو ہم نے آج کھو دیا'

استاد فتح علی خان: پٹیالہ گھرانے کے گائیک سمراٹ

استاد فتح علی خان انتقال کر گئے

وجاہت عطرے کی خواہش کے مطابق وفات کے بعد ان کا جسدِ خاکی سمن آباد کے علاقے میں واقع ان کے آبائی مکان لے جایا گیا۔

کاشانۂ شریف نامی مکان کی یہ وہی 60 سالہ پرانی عمارت ہے جہاں وجاہت عطرے نے 14 سال کی عمر میں اپنے والد کے زیرِ سایہ موسیقی اور بعد ازاں اپنے فنی سفر کا آغاز کیا تھا۔

تقریباً تین دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط اپنے فنی سفر کے دوران وجاہت عطرے نے کم از کم 150 سے زائد پاکستانی فلموں کے گانوں کے لیے موسیقی ترتیب دی۔

وجاحت عطرے کے بیٹے علی عطرے کے مطابق ان کے والد نے تقریباً 450 سے ہزار سے زیادہ گانوں کی موسیقی تشکیل دی جنھیں اپنے منفرد اندازِ ترتیب اور کلام کی وجہ سے بہت پزیرائی ملی۔

وجاہت عطرے ایک ماہ قبل فالج کا حملہ ہونے سے پہلے تک بھی موسیقی سے وابستہ رہے۔

ان کے بیٹے علی عطرے نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میرے والد اب بھی ریڈیو پاکستان میں کنٹریکٹ پر ملازم تھے اور مختلف پروگراموں کے لیے دھنیں ترتیب دیتے تھ جن سے حاصل ہونے والی تنخواہ سے ان کا گزر بسر ہوتا تھا۔‘

ملکۂ ترنم نور جہاں سمیت ماضی کے دیگر نامور گلوکار وجاہت عطرے کی بنائی ہوئی دھنوں پر گیت گا چکے ہیں جبکہ پاکستان میں گلوکاروں کی نئی نسل میں سے چند نمایاں فنکاروں نے وجاہت عطرے کی رہنمائی میں اپنے فنی سفر کا آغاز کیا۔

وجاہت عطرے کی نمازِ جنازہ میں پاکستان کی فلم اور میوزک انڈسٹری میں سے انور رفیع سمیت کئی دیگر فنکاروں نے شرکت کی۔

ان کے بیٹے علی عطرے کا کہنا تھا کہ انھیں انڈیا سے گلوکار سونو نگم، شریا گوشال، کمار سانو اور ہنس راج ہنس سمیت بہت سے فنکاروں کی ان کے والد کی وفات پر تعزیت کی ٹیلیفون کالز آ چکی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان سے بہت سے فنکار مجھ سے تعزیت کر چکے ہیں۔ میڈیا کے بہت سے افراد نے مجھے فون کیا لیکن حکومتِ پاکستان کی جانب سے کسی نے ابھی تک ہمیں پوچھا تک نہیں۔'

علی عطرے کا کہنا تھا کہ جب ان کے والد کو پہلی بار فالج کا حملہ ہوا تو انڈیا سے بہت سے فنکاروں نے ان کا علاج کروانے کے لیے انھیں مالی مدد کی آفر کی۔

’بہت سے فنکاروں نے ہم سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ میرے والد کا علاج کروانے کے لیے تیار ہیں لیکن میں نے معذرت کر لی مگر پاکستان میں صرف الحمرا آرٹ کونسل نے میرے والد کے علاج کے لیے ہمیں ایک دفعہ پانچ لاکھ روپے دیے مگر وزیرِ اعظم اور وزیرِ اعلٰی پنجاب کی جانب سے ہماری کوئی مدد نہیں کی گئی۔‘

وجاہت عطرے کے بچپن کے دوست اور محلے دار ان کو ایک شفیق انسان کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ شکیل احمد کا وجاہت عطرے کے ساتھ 60 سال پرانا ساتھ تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس لائن میں، میں نے ایسا آدمی بہت کم دیکھا ہے۔ اس نے اپنے باپ کا نام برقرار رکھا اور خود اپنا نام بھی پیدا کیا۔ اس کے پاس کوئی بھی کام لینے آتا تھا تو وہ اسے خالی نہیں بھیجتا تھا۔‘

وجاہت عطرے کے تین بیٹوں اور ایک بیٹی میں سے کسی نے موسیقی کو باقاعدہ پیشہ کے طور پر نہیں اپنایا۔ ان کے ایک پوتے مرتضٰی ان سے موسیقی کی تعلیم لے رہے تھے جن کو کلاسیکل کے علاوہ پاپولر میوزک سے زیادہ شغف ہے۔

آرٹ کے ناقدین کے مطابق شاید یہی صورت حال وجاہت عطرے کے زمانے کی فلموں اور موسیقی کے زمانے کے مجموعی زوال کی عکاس بھی ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صحافی اور آرٹ ناقد عارف وقار کا کہنا تھا کہ وجاہت عطرے شاید فلم کی ماضی کی روایت کے عہد کے آخری لوگوں میں سے تھے۔

’سونے دی تویتڑی‘، ’جھانجھر دی پانواں جھنکار‘، اور ’میں تہ میرا دلبر جانی‘ جیسی دھنیں بنانے والے وجاہت عطرے کی ترتیب دی گئی دھنیں آج بھی پاکستان میں سدا بہار گانوں کی فہرست میں شامل ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں