ہندی میڈیم: اسلام آباد میں دہلی کے قہقہے

ہندی تصویر کے کاپی رائٹ Facebook

شہر کے وسط میں واقع چمک دمک سے بھرے شاپنگ مال میں فلم ’ہندی میڈیم‘ کا پوسٹر دیکھ کر میں کچھ ایسے چونکا جیسے دہلی کے کناٹ پلیس میں خلائی مخلوق دیکھ لی ہو۔

ظاہر ہے میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کوئی ’ہندی میڈیم‘ کے پوسٹر سے جھانکتے عرفان خان کو دیکھنے نہیں گیا تھا۔ لیکن جب اچانک ان پوسٹروں پر میری نظر پڑی تو یک بارگی سمجھ میں نہیں آیا کہ میں پاکستان میں ہوں یا دہلی کے ساکیت مال میں گھوم رہا ہوں۔

شاپنگ مال ایک ایسا ’نیوٹرل زون‘ ہے جہاں سب کچھ ایک جیسا ہوتا ہے، خریدار، ان کا پہناوا، ان کی پسند ناپسند، وہاں فروخت ہونے والی اشیا، بڑے بڑے برانڈز اور یہاں تک کہ ان کی بات چیت کا طریقہ بھی، چاہے یہ مال دہلی میں ہو یا دبئی میں۔

اسلام آباد کے ایک مال میں داخل ہوتے ہی مجھے سب سے پہلے ایسے ہی ’نیوٹرل زون‘ میں پہنچنے کا احساس ہوا جہاں شہر کی خاصیت مال کے گیٹ پر ہی دم توڑ دیتی ہے اور سب کچھ ایک سانچے میں ڈھلا نظر آنے لگتا ہے۔ آپ پاکستان میں ہونے کا احساس تبھی ہوتا تھا جب کانوں میں پنجابی لہجے میں بولی جانے والی اردو کی بات چیت پڑتی تھی یا پھر اردو میں لکھے سائن بورڈز پر نظر جاتی تھی۔

اور پھر نظر گئی ’ہندی میڈیم‘ کے پوسٹر پر اور مکمل منظر گڈمڈ ہو گیا۔ فلم دیکھنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا پھر بھی ٹکٹ خرید لیا کیونکہ بار بار ذہن میں سوال کھٹک رہا تھا کہ ہندی میڈیم کے مسئلے اور اس پیچیدگی کا پاکستان سے کیا تعلق؟ یہ تو چھوٹے قصبوں اور گاؤں کے سرکاری سکولوں میں ’ہندی میڈیم‘ سے پڑھنے کے بعد دہلی جیسے ’انگریزی داں‘ شہر میں آ پہنچے میرے جیسے لوگوں کی جدوجہد کا حصہ ہے۔

لیکن ہال کے اندر پوری فلم کے دوران جس طرح سے لوگوں نے ہنس کر، تالیاں بجا کر (اور سنجیدہ لمحات میں خاموشی سے اپنے آنسو پونچھ کر) فلم کا مزہ لیا اسے دیکھ کر لگا کہ میرے جیسے لوگوں کی پاکستان میں بھی کمی نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ facebook

’ہندی میڈیم‘ کا صحیح نام دراصل ’انگلش میڈیم‘ ہونا چاہیے تھا کیونکہ یہ فلم انڈیا کے درمیانے طبقے کے خاندانوں میں انگریزی میڈیم کی پڑھائی کو لے کر وحشت کی حد تک پہنچ چکی دیوانگی کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ دیوانگی اس عدم تحفظ سے پیدا ہوئی ہے جو متوسط طبقہ کے والدین کو مسلسل گھیرے رہتی ہے کہ اگر ہمارا بچہ انگریزی نہ سیکھ پایا تو پسماندہ کہلائے گا اور ہندی میڈیم میں پڑھنے والے تو کیریئر کی دوڑ میں پچھڑ ہی جاتے ہیں۔

گذشتہ 20، 30 سالوں میں سیاسی جماعتوں نے شمالی ہندوستان میں ووٹ لینے کے لیے بھلے ہی ہندی کا ذکر کیا، لیکن تعلیم میں حکومتوں کا زیادہ بڑا ہاتھ ہے۔ ہندی کی گنتی کب پرائمری سکولوں سے خاموشی ختم کر دی گئی اور اس کی جگہ ون ٹو تھری سکھایا جانے لگا، پتہ ہی نہیں چلا۔

تصویر کے کاپی رائٹ facebook

اس کا اثر ابھی ظاہر ہوتا ہے جب دہلی کی بسوں میں سفر کرنے والے نئے عمر کے لڑکے لڑکیوں کنڈکٹر سے ٹکٹ مانگتے ہوئے کہتے ہیں ’ٹین کے ٹو، فائیو کے تھری ٹکٹ دینا انکل۔‘ یا پھر پرانے فیشن کے دکاندار سے سوال پوچھتے ہیں کہ ’انکل، ڈیڑھ روپیہ کتنا ہوتا ہے یا انہتر کتنا ہوتا ہے؟‘

یہ نظارہ ابھی بھی پاکستان میں کم نظر آتا ہے۔ اب بھی اردو میں بات کرنے والے ایک، دو، تین ... انچاس، انہتر اور انسٹھ کا عام بات چیت میں استعمال کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں. لیکن وہاں بھی گذشتہ 30، 40 برس میں ایک طبقہ ابھرا ہے جسے ’اردو میڈیم‘ والے طنز میں ’ممی ڈیڈی كراؤڈ‘ یا ’جلاٹو كراؤڈ‘ کہتے ہیں۔ اردو زبان بولنے والوں کی نظر میں یہ لوگ جلاٹو آئیس کریم کھاتے ہیں اور امی،ابو کو ممی، ڈیڈی کہہ کر پکارتے ہیں۔

’ہندی میڈیم‘ چاندنی چوک میں کپڑے کے ایک نوجوان اور امیر تاجر (عرفان خان) اور اس کی ماڈرن بیوی (پاکستانی اداکارہ صبا قمر) کی کہانی ہے جو اپنی بچی کو دہلی کے ایک مشہور انگلش میڈیم سکول میں داخلہ دلوانے کے لیے چاندنی چوک کے اپنے پرانے گھر سے وسنت وہار کی پوش کالونی میں آ جاتے ہیں. پر پھر بھی جب داخلہ نہیں ہوتا تو غریب کوٹے میں سیٹ حاصل کرنے کے لیے ایک کچی آبادی میں آکر رہنے لگتے ہیں۔

اس مضحکہ خیز سفر کے دوران ہونے والے واقعات پر اسلام آباد کے اس ملٹی پلیکس میں بیٹھے لوگوں کے قہقہے بتا رہے تھے کہ ’اردو میڈیم‘ کے لوگ 'ہندی میڈیم' فلم کا کتنا لطف لے رہے ہیں اور ’ممی ڈیڈی كراؤڈ‘ کا مذاق اڑتا دیکھ کر کتنا خوش ہیں۔ ان قہقہوں کو سنتے سنتے فلم ختم ہونے پر ہال کی سیڑھیاں اترتے ہوئے میں گھر واپسی کے بارے میں سوچنے لگا اور پھر یکدم خیال آیا کہ میں دہلی میں نہیں بلکہ پاکستان میں ہوں۔

ہماری فکریں اور پریشانیاں بھی تو کتنی ایک جیسی ہیں!

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں