عامر ذکی اپنے آخری دنوں میں بیمار رہنے لگے تھے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 90 کی دہائی میں عامر ذکی نے جنید جمشید کے گروپ وائٹل سائنز کے ساتھ بھی کام کیا

پاکستان میں موسیقی سے شغف رکھنے والے لوگوں کے لیے نامور گٹارسٹ اور گلوکار عامر ذکی کا نام کسی سند سے کم نہ تھا۔

ان کا شمار ایسے مایہ ناز آرٹسٹوں میں ہوتا تھا جنہوں نے اپنے فن سے پاکستان کا نام موسیقی کی دنیا میں اونچا کیا۔

2 جون کو عامر ذکی کو دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا، یوں صرف 49 سال کی عمر میں وہ اپنے لاتعداد مداحوں کو سوگوار چھوڑ گئے۔

دل دل پاکستان جو دوسرا قومی ترانہ بنا

’جادوگر‘ ستار نواز کو ہم نے کھو دیا

اب ویسی پنجابی دھنیں کون بنائے گا؟

عامر ذکی 8 اپریل 1968 کو سعودی عرب میں پیدا ہوئے۔ انہیں بچپن سے ہی موسیقی سے لگاؤ تھا اور یہی وجہ تھی کہ اس وقت کے مایہ ناز پاپ سنگر عالمگیر نے انہیں اپنے ساتھ شامل کیا۔ عامر ذکی نے عالمگیر کے ساتھ متعدد ورلڈ ٹورز کیے جس کے بعد ان کا شمار پاکستان کے ابھرتے ہوئے گٹار بجانے والوں میں ہونے لگا، یہ وہی وقت تھا جب پاکستان میں میوزک کی دنیا میں سٹرنگز، لائیو وائیرز سمیت کئی بینڈز منظر عام پر آچکے تھے۔

کچھ ہی عرصے بعد میوزک چینل چارٹس میں عامر ذکی کا پہلا گیت ’منی‘ ریلیز ہوا جسے شائقین نے بے حد پسند کیا، انگریزی زبان کا یہ سنگل عامر ذکی کی البم سگنیچز کی زینت بنا جسے 1995 میں سانک نے ریلیز کیا تھا۔

اس البم کا ایک اور گیت ’تم ہی تو ہو‘ آج بھی شائقین میں بے حد مقبول ہے، عامر ذکی نے نہ صرف یہ گانا گایا تھا بلکہ اس کے بول بھی خود ہی لکھے تھے۔

90 کی دہائی میں عامر ذکی نے وائٹل سائنز کے ساتھ بھی کام کیا لیکن البم ’ہم تم‘ کی ریلیز سے پہلے ہی انہیں اختلافات کی وجہ سے بینڈ سے فارغ کردیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AAMIR QURESHI
Image caption عامر ذکی اپنے آخری دنوں میں وہ بیمار رہنے لگے تھے اور نوجوانوں کو گٹار سکھا کر اپنا گزر بسر کرتے تھے

عامر ذکی نے میوزیکل بینڈ آواز کے ساتھ بھی کچھ کنسرٹس کیے لیکن ان کا دل سولو کیرئیر میں ہی تھا۔

ان کے پہلے البم کو پاکستان میں اتنی شہرت نہیں ملی جنتا کہ انگلینڈ میں، جہاں انہیں کئی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔

2007 میں عامر ذکی کا دوسرا البم ’رف کٹ‘ ریلیز ہوا جس میں حدیقہ کیانی کے ساتھ ان کا گیت ’اس بار ملو‘ کافی مقبول ہوا۔ عامر ذکی کے دونوں البمز میں گیت کم اور زیادہ انسٹرومینٹل شامل تھے اور اس کی وجہ ان کی مختلف سازوں سے ہم آہنگی تھی۔

تین سال قبل وہ کوک سٹوڈیو کا حصہ بھی بنے تھے لیکن صرف ایک سیزن کے بعد انہوں نے اس سے بھی کنارہ کشی اختیار کرلی۔

بہت کم لوگوں کو اس بات کا پتہ ہے کہ عامر ذکی اپنے گٹار خود تخلیق کیا کرتے تھے۔

اپنے آخری دنوں میں وہ بیمار رہنے لگے تھے، پاکستان میں موسیقی کے شعبے میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے بھی وہ کافی دلبرداشتہ تھے اور نوجوانوں کو گٹار سکھا کر اپنا گزر بسر کرتے تھے۔

پاکستان کے نامور گلوکاروں احمد رشدی اور اخلاق احمد کی طرح عامر ذکی بھی کم عمری میں ہی اس دنیا سے رخصت ہوگئے، ان کی عمر صرف 49 برس تھی اور ان کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا ہے اسے پر کرنا ناممکن ہوگا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں