سلمان خان کے جنگ سے متعلق بیان پر تنازع

سلمان خان تصویر کے کاپی رائٹ HYPEQ PR
Image caption سلمان خان کی آنے والی فلم ٹیوب لائٹ انڈیا اور چین کے درمیان جنگ کے پس منظر پر مبنی ہے

بالی وڈ کے اداکار سلمان خان کی طرف سے جنگ کی مخالفت میں آنے والے ایک بیان پر تنازع پیدا ہوگيا اور بہت سے قوم پرست انڈین تجزیہ کاروں نے ان پر سخت تنقید کی۔

اپنی آنے والی فلم ’ٹیوب لائٹ‘ کے پرموشن کے موقع پر سلمان نے جنگ کی وکالت کرنے والوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ جنگ کرنے کی بات کرتے ہیں انھیں کو لڑنے کے لیے محاذ پر پر بھیجا جانا چاہیے تاکہ ان کی سمجھ میں آجائے کہ اس کے کتنے نقصانات ہیں۔

بس اسی بیان کے حوالے سے ٹی وی چینلوں پر بحث شروع ہوگئی اور کئی سرکردہ تجزیہ کاروں نے ان پر سخت نکتہ چینی کرنی شروع کردی۔

تصویر کے کاپی رائٹ HYPEQ PR

سلمان خان کی فلم ’ٹیوب لائٹ‘ سنہ 1962 میں انڈیا اور چین کے درمیان ہونے والی جنگ کے پس منظر پر مبنی ہے۔

اسی سے متعلق جب ان سے سوال پوچھا گیا تو سلمان خان نے کہا کہ فلم جنگ کے بارے میں نہیں بلکہ اس بارے میں ہے کہ جنگ ہونے کی صورت میں انسانیت کو کس طرح کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس فلم میں اس موضوع پر بات کی گئی ہے کہ ’جنگ جلدی ختم ہوجائے تاکہ ہمارے جوان واپس آجائیں اور ان کے جوان بھی اپنے اہل خانہ سے جلدی واپس جا کر مل سکیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ HYPEQ PR
Image caption سلمان کے بھائی سہیل خان نے فلم میں ایک فوجی کا کردار ادا کیا ہے

اسی گفتگو کے دوران انھوں نے جنگ کی وکالت کرنے والوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا: ’میرے خیال سے جو لوگ جنگ کرنے کا حکم دیتے ہیں انھیں پہلے سامنے کھڑا کرنا دینا چاہیے کہ یہ لو بھائی بندوقیں پکڑو، پہلے آپ لڑو۔ ایک دن کے اندر سب بند ہوجائے گا، پیر کانپنے شروع ہوجائیں گے ہاتھ کانپنے شروع ہوجائیں گے اور سیدھے ٹیبل پر آکے جو بھی ڈسکشنز ہیں وہ ہو جائیں گے۔‘

کبیر خان کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم میں سلمان کے بھائی سہیل خان نے ایک فوجی کا کردار ادا کیا ہے جبکہ سلمان کی ہیروئن چینی اداکارہ زو زو ہیں۔

اس بارے میں جب سہیل خان سے سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ جنگ ایک منفی جذبہ ہے اور اسے کوئی بھی پسند نہیں کرتا ہے۔ ’بلآخر کوئی بھی مسئلہ بات چیت سے ہی حل ہوتا ہے۔ جنگ کوئی بھی پسند نہیں کرتا پھر بھی ہوتی رہتی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ HYPEQ PR

سلمان خان کے اس بیان کے حوالے سے انڈین میڈیا میں زبردست بحث چھڑ گئی اور ٹی وی چینلوں نے اس بیان کو چین کے بجائے پاکستان کے ساتھ لنک کر کے بحث و مباحثے شروع کر دیے۔

قوم پرستی سے شرشار کئی تجزیہ کاروں نے سلمان پر سخت نکتہ چینی کرنے کے ساتھ ہی پاکستان پر بھی تنقید کی۔

کئی سخت گیر موقف کے حامی تجزیہ کاروں نے جنگ کرنے کی دبے الفاظ میں یہ کہہ کر حمایت کی کہ پاکستان کے ساتھ تو کئی بار بات چیت ہوئی ہے لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

لیکن بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ سلمان نے امن کی بات کی ہے اور اسے توڑ مروڑ کر پیش نہ کیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ فلم کی تشہیر کے لیے سلمان کا ایک انوکھا طریقہ بھی ہوسکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں