’ہائے۔۔۔ میں ذوالفقار علی بھٹو ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Turmeric Project

'ہائے! میں ذوالفقار علی بھٹو ہوں۔ میں ایک جنوبی ایشیائی فنکار ہوں جس میں لبنانی اور پاکستانی خون شامل ہے اور میں ’کوئیر‘ موضوع پر کام کر رہا ہوں۔'

سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے پوتے ذوالفقار علی بھٹو جونیئر ایک ویڈیو کے آغاز میں اپنا تعارف کرواتے ہیں اور یہی ویڈیو اور اس میں کی گئی باتیں ان دنوں سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہیں۔

سوشل میڈیا پر ان کی ذات اور ان کے جنسی رجحانات اور اس ویڈیو پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ مگر اس ویڈیو میں ایسا ہے کیا اور کیا ذوالفقار علی بھٹو جونیئر اس میں وہ سب کہہ بھی رہے ہیں جو ان سے منسوب کر کے کہا جا رہا ہے؟

یہ ویڈیو ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کی آواز سے شروع ہوتی ہے جس میں وہ ایک خاتون سے بات کر رہے ہیں اور اس میں عربی زبان کا استعمال ہوتا ہے اور اسی پر وہ فون بند کر دیتے ہیں کیونکہ انہیں عربی بولنے پر طیارے سے اتار دیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Turmeric Project

اس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو جونیئر سکرین پر ایک سٹیج پر آتے ہوئے نظر آتے ہیں جس میں انھوں نے ایک ڈریگ یا مخنث کا روپ دھارا ہوتا ہے اور پیچھے نازیہ حسن کا مشہور گانا ’ڈسکو دیوانے‘ چل رہا ہے، مگر یہ سب ہے کیا؟

دراصل ذوالفقار علی بھٹو جونیئر 'ٹرمیرک پراجیکٹ' کے تحت 'مسلمان مسل مین' یعنی مسلمان اور مردانگی کے عنوان پر ایک تعلیمی پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں جس کے ذریعے وہ پاکستان میں مردانگی کے بارے میں تصورات کو فن کے ذریعے سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش میں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Turmeric Project

مگر اس پراجیکٹ اور اس کا مقصد کسی کے ذہن میں نہیں بلکہ بحث کا موضوع ان کے کپڑے، ناخنوں پر لگی نیل پالش اور انٹرویو کے دوران کشیدہ کاری کے مناظر ہیں۔

اور ذوالفقار علی بھٹو کے مطابق ان کا مقصد ہی یہی تھا کہ 'ایک کوئیر مسلمان کے موضوع پر کام کرنا بہت مشکل ہے۔ کون سنتا ہے؟ انہیں بالکل پروا نہیں ہے۔ انہیں نہیں معلوم۔ نہ ہی وہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ مگر جب آپ اس میں مزاح ڈالتے ہیں تو وہ اپنے خیالات پر نظر ڈالتے ہیں اور سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اور پھر آپ سٹیریو ٹائپس پر بات کرنا شروع کرتے ہیں جیسا کہ مجھے طیارے سے نکال دیا گیا۔ جس پر وہ سوچتے ہیں کہ یہ کہانی تو مجھے بھی معلوم ہے۔ اوہ! یہ تو کوئیر مسلمان ہے اور یہ مخنث کا روپ دھار کر اس بارے میں پرفارم کر رہا ہے۔ اس سے لوگ دلچسپی لینا شروع کرتے ہیں اور آپ اس طرح اپنے دیکھنے والوں کو رجھا رہے ہوتے ہیں'۔

تصویر کے کاپی رائٹ Turmeric Project

مردانگی کے بارے میں جنوبی ایشیا میں پائے جانے والے تصورات سے ذوالفقار علی بھٹو متفق نہیں اور کہتے ہیں کہ 'پاکستان یا ایسی بہت سی ریاستیں جو قومیت کے نظریے پر بنی ہیں وہاں ایسا تصور قائم کیا گیا ہے ریاست کا نمائندہ ایک طاقتور مرد ہے لیکن یہ احمقانہ تصور ہے۔ میرے نزدیک مردانگی کیا ہے؟ مردانگی نزاکت ہے، نسوانیت ہے اور نرم ہو سکتی ہے۔'

انھوں نے اپنے پراجیکٹ کے حوالے سے بات کی جس میں آرنلڈ شوارزنیگر کی باڈی بلڈنگ کی کتاب پر رنگین کپڑے کی مدد سے پٹھوں اور جسم کے اہم حصوں پر فنکاری کی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Turmeric Project

ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کہتے ہیں کہ تاریخ بہت اہم ہے کیونکہ ہم جو آج بنا رہے ہیں وہ کل کی بنیاد پر ہے اور اس میں انھوں نے اپنی تاریخ کا حوالہ بھی دیا اور بتایا کہ 'میں نے اپنا بچپن بہت پرامن طریقے سے گزارا۔ مگر ایک چیز جو اس میں بار بار آئی وہ یہ تھی کہ تشدد ہر جگہ ہے۔‘

’میرے والد کو کراچی میں میرے گھر کے سامنے قتل کر دیا گیا تھا، میں اس وقت چھ برس کا تھا۔ میرے دادا کو بھی مارا گیا تھا۔ میری پھوپھی کو قتل کیا گیا، میرے چچا کو بھی قتل کیا گیا۔ سب کو قتل کیا گیا۔ تو میری شناخت تشدد کے ذریعے بنی، طاقت کے ذریعے بنی۔‘

ذوالفقار علی بھٹو کے مسلمان مسل مین کے موضوع پر بنائے گئے فن پاروں کی نمائش سان فرانسسکو میں کی گئی جس کے حوالے سے انھوں نے پانچ جون کو ہفنگٹن پوسٹ میں ایک مضمون لکھا جس میں انھوں نے اس پر تفصیل سے بات کی ہے۔

اسی بارے میں