اداکار جانی ڈیپ کا سوال: ’آخری بار کب ایک اداکار نے کسی صدر کو قتل کیا؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

گلاسٹینبری فیسٹیول کے دوران خطاب کرتے ہوئے ہالی وڈ اداکار جونی ڈیپ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بظاہر دھمکایا ہے، جس کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر انھیں شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انھوں نے اپنے خطاب کے دوران وہاں موجود شرکا سے سوال کیا کہ ’کیا آپ ٹرمپ کو یہاں لا سکتے ہیں؟

ہجوم کی جانب سے قہقہوں کے بعد جونی ڈیپ نے کہا کہ ’ آپ بالکل غلط سمجھے ہیں۔ آخری بار کب ایک اداکار نے کسی صدر کو قتل کیا؟‘

ہالی وڈ سٹار نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ان کے یہ الفاظ متنازع ہو سکتے ہیں۔ ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کا یہ بیان سنہ 1865 میں اداکار جان ولکس بوتھ کے ہاتھوں صدر ابراہم لنکن کے قتل کے تناظر میں ہو سکتا ہے۔

جونی ڈیپ نے مزید کہا کہ ’یہ پریس میں جانے والا ہے جو کہ بہت ہی بھیانک ہو گا، یہ تو صرف ایک سوال تھا میں کسی جانب متوجہ نہیں کروا رہا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ ان پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔

بعض صارفین کا کہنا ہے کہ جونی ڈیپ کی فلموں کا بائیکاٹ کیا جانا چاہیے۔

ٹوئٹر پر ایک صارف نے لکھا کہ ’کیا جونی ڈیپ کی مینجمینٹ اب بھی ان کی نمائندگی کرے گی، ان کی جانب سے قتل کی دھمکی کے بعد بھی؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

ایک اور صارف نے پہلے تو جونی ڈیپ کے ہی سوال کو دہرایا کہ ’آخری بار کب ایک اداکار نے کسی صدر کو قتل کیا؟‘ اور پھر خود ہی اس کا جواب دیتے ہوئے لکھا: ’شاید اسی وقت جب آپ آخری بار کسی اچھی فلم میں آئے تھے۔‘

اسی طرح ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ ’جونی ڈیپ صدر ٹرمپ کو مارنا چاہتے ہیں، ان سب سلیبرٹیز کو ہو کیا گیا ہے ؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

’’آخری بار کب ایک اداکار نے کسی صدر کو قتل کیا؟ جونی ڈیپ آپ نے مجھے مایوس کیا۔ جائیں کسی اور خاتون پر تشدد کریں۔‘

ٹوئٹر پر ہی ایک اور صارف نے جونی ڈیپ کے ان الفاظ کے بارے میں لکھا: ’ناکام اداکار جونی ڈیپ تشدد کو ہوا دے رہے ہیں اور امریکہ کے صدر کو قتل کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ شاید اب وقت آگیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

فیسٹیول میں ان کے خطاب کے بعد ان کی ایک مداح بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنے پسندیدہ اداکار کی سیاست پر تبصرہ کرنے کے بجائے ان سے ملنے کے لیے زیادہ بیتاب تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ مجھے کیا کہنا ہے ۔ میں مرنے والی ہوں۔ وہ میرے قریب آئے اور انھوں نے میرا ہاتھ چھوا، مجھے نہیں معلوم کہ میں کیا کروں۔‘

اسی بارے میں