ڈسکو دیوانہ اور واجد علی شاہ!

تصویر کے کاپی رائٹ Turmeric Project

پچھلے دنوں ذوالفقار علی جونیئر کی ایک ویڈیو نظر سے گزری تو نگاہوں میں اختر پیا کی تصویر گھوم گئی۔ زلفی جونیئر بھی یہ ہی ثابت کرنا چاہ رہا ہے کہ مردانگی سخت دلی کا نام نہیں۔ اس نے آرنلڈ شوازینگر کی ایک کتاب کی تصاویر میں کمائے گئے پٹھوں کو کشیدہ کاری کے پارچوں سے ڈھانپ دیا۔ہر طرف ایک ہی غوغا ہے کہ زلفی نے جنوبی ایشیا میں پائے جانے والے صدیوں پرانے مردانگی کے تصور کو چیلنج کیا ہے۔

زلفی نے سب کو چونکایا ہے ، اس کا نظریہ بہت خوب ہے مگر ریکارڈ کے درستی کے لیے عرض کرنا چاہوں گی کہ مردانگی کا یہ تصور جنوبی ایشیائی نہیں۔ مہا بھارت کے دور سے لے کر انیسویں صدی کے وسط تک ، جب انگریز اس خطے پہ غلبہ پاچکا تھا، مردانگی کا کوئی ایسا خوفناک تصور یہاں نہیں پایا جاتا تھا۔

اس خطے کے دیو مالائی ہیرو سے لے کر آخری مغل فرمانروا تک کیا کسی مرد بچے نے نفاست، آرٹ اور خوبصورتی کا انکار کیا؟ رام جی ، ایک نفیس خوبصورت، صلح جو انسان، ہیرو تھے جبکہ راون ایک مضبوط، کمائے ہوئے جسم اور خوفناک مونچھوں والا مرد، ولن تھا۔

ہمیں تو سارا بچپن ایک ہی سبق رٹایا گیا کہ انگریز مرد ، سادہ کپڑا پہنتا تھا، نہ گانا سنتا تھا ، نہ گاتا تھا، نہ زیور کا شوقین تھا، نہ زرق برق لباس کا دلدادہ۔ وہی کالا جوڑا ، شادی پہ پہن لیا ، وہ ہی مرگ پہ ۔ دوسری طرف ہمارے بادشاہ ، نواب، سب کے سب ، راگ رنگ کے سر پرست، فنونِ لطیفہ کے دلدادہ ، دن رات ، عمارتیں بنانے ، نئے سے نیا لباس اور عطر ایجاد کرنے کی فکر میں رہتے تھے ، موقع آنے پہ رقص بھی کر لیا کرتے تھے ، نت نئے راگ بناتے اور بنواتے ، لباس بھی ان کے دیکھنے سے تعلق رکھتے تھے۔

دل کے ایسے نرم کہ ذرا ذرا سی باتوں پہ اجنبیوں کو علاقے کے علاقے سونپ دیا کرتے تھے ۔ مقطع کا بند یہ ہوتا تھا کہ اسی وجہ سے انگریز نے وہاں سے آکے ان کی ٹانٹ پھوڑی اور ساری سلطنت ہاتھ سے نکلتی چلی گئی ۔

اودھ کے اآخری فرمانروا کے بارے میں ایک روایت سب نے سنی ہو گی کہ جب انھیں معزول کیا گیا تو انھوں نے دربار سجا کے اپنی ٹھمری، 'مورا نیہر چھوٹا جائے' پہ رقص کیا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اس موقعے پہ موجود سب درباری اشک بار تھے۔

نواب واجد علی شاہ کی تصویریں دیکھیں تو ایک شاندار نواب نظر آتا ہے ، گھنی ، پر پیچ کاکلیں، ذہین آنکھیں ، روشن پیشانی، کانوں میں مروارید کی صراحیاں، بر میں انگرکھا، مروارید کا ست لڑا زیبِ گلو، بازو بند، پہنچیاں، سب جڑاؤ اور جڑت بھی کیا گویا آسمان پہ ستارے ٹنکے ہوں۔

اس پیارے پیا نے غزلیں لکھیں، گیت گائے ، ڈرامے لکھے، رقص کیا ، فنِ تعمیر کو ترقی دی ۔ لحیم شحیم نواب کی فطرت میں اتنی نزاکت تھی اتنی نفاست تھی کہ تاریخ کے اس بے رحم ترین دور میں بھی جب لالچ اور مفادات کا اندھا ہاتھی ایسٹ انڈیا کمپنی ، اپنی طاقت کے نشے میں بد مست ، ہندوستان کی عظیم گنگا جمنی تہذیب کو اپنے مہیب قدموں تلے روند رہا تھا، اختر پیا، ٹھمری گارہے تھے اور کھیل رچا رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Turmeric Project

وہ انگریز کی بڑھتی ہوئی طاقت سے خوفزدہ نہ تھے۔ میں بھی ادیب ہوں، جانتی ہوں کہ خوف اور پریشانی میں ایک لفظ بھی نہیں لکھا جاتا ، کجا دیوان کے دیوان۔ ایسی بہادری تاریخ میں دکھا دیجیے؟

واجد علی شاہ سمیت ، ہندوستان کی تباہی کے اس دور میں بے شمار ایسے نابغے پیدا ہوئے جن کے ذہانت کے شاخچوں پہ کھلے پھول آج بھی تہذیب کے خرابوں میں مہک رہے ہیں۔ دلی والوں کی نفاست اور لکھنؤ کے بانکے کون بھول سکتا ہے ۔ ادھر لاہور ہی میں نکل جائیں، کڑھائی ، سلمے ستارے، سنار کا سب کام ، مرد ہی کرتے ہیں اور وہ سب اپنے گھروں کے کفیل ہیں ، میں نے تو معاشرے میں بھی کبھی ان کے لئے کوئی طعنہ نہیں سنا۔

ماچو مین کا یہ تصور جنوبی ایشیائی نہیں ہے ، یہ مغرب سے درآمد کیا گیا تصور ہے ۔ چونکہ ہمارے مہذب اب و جد کو مغرب سے آئے ماچو مین نے شکست دی اس لئے لاشعوری طور پہ ہم نے ان کی شخصیتوں کے نفیس پہلوؤں کو رد کر دیا اور مغرب کے اس تصور کواپنا لیا۔

عرض یہ کرنا ہے کہ ماریے، مگر گھسیٹیے تو نہیں ، اس نفاست پسندی اور فنونِ لطیفہ سے محبت کے پیچھے تو ہم نے اپنا گھر پھونک دیا ، باقی جو الزام لگانا ہو لگائے ، یہ نہ کہئے ، عالمِ بالا میں بھی کھلبلی مچ جائے گی۔ لیجیے اختر پیا کے ہی چند شعر سن لیجیے ۔

سہے غم پئے رفتگاں کیسے کیسے

مرے کھو گئے کارواں کیسے کیسے

وہ چتون وہ ابرو وہ قد یاد ہے سب

سناؤں میں گزرے بیاں کیسے کیسے

اسی بارے میں