چلڑ فورس:پاکستان میں بچوں کی پہلی سپر ہیرو فیچر فلم

چلرفورس

پاکستان میں بچوں کی پہلی سپر ہیرو فیچر فلم 'چلڑ فورس' میں پانچ بچے مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں جنھیں ملک بھر میں آڈیشن کے ایک طویل مرحلے کے بعد منتخب کیا گیا ہے۔

'چلڑ فورس' کی شوٹنگ گذشتہ ہفتے کراچی میں شروع ہوئی ہے۔ فارس پروڈکشن کے بینر تلے بننے والی اس فلم کو فرحان قیصر پروڈیوس کر رہے ہیں جو پچھلے 13 سال سے پاکستانی ڈرامے بنا رہے ہیں۔

پاکستان میں پہلابین الاقوامی خواتین فلم فیسٹیول

3 بہادر: ریوینج آف بابا بالم

یہ ان کا پہلا فلم پروجیکٹ ہے جس کے لیے انھوں نے ملک بھر سے دو مہینے تک آڈیشن کیے جن کے نتیجے میں بشر مشافی، ادا راشی، کبیر منیال، عبدالرحمان اور بشری راشد کا انتخاب عمل میں آیا۔

فرحان قیصر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں بس ڈھونڈنےکے لیے ایک جنون چاہیے۔

'بچوں کی کاسٹنگ بہت مشکل رہی لیکن ہم نے ہمت نہیں ہاری۔ دراصل فلم کا سکرپٹ پہلے تیار کیا گیا اور پھر کرداروں کے حساب سے اداکاروں کی تلاش کی گئی۔ ہم نے مختلف شہروں میں جا کر تقریبا دس ہزار سے زیادہ بچوں کے آڈیشن لیے تب جا کر یہ پانچ بچے ملے۔'

ایڈیشن سے لے کر فلم کی شوٹنگ شروع ہونے تک کا سفر کے بارے میں بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے دس سالہ بشر مشافی کا کہنا تھا کہ انھیں تو خود پروڈیوسرز نے ہی منتخب کیا۔'میں شاپنگ مال میں جا رہا تھا تو دیکھا کہ وہاں شوٹنگ ہو رہی ہے۔ پروڈیوسر نے مجھے دیکھا اور بلا کر پوچھا کیا آپ شوٹ کرنا چاہیں گے، تو میں نے کہا ہاں دیکھتے ہیں شوٹ کیسے ہوتی ہے۔'

بلیک بیلٹ کراٹے ایکسپرٹ ادا راشی کا خیال ہے کہ ان کے ٹیلنٹ کی وجہ سے انھیں فلم میں سپر ہیرو بنایا گیا۔ ان کے مطابق 'میری نان چکس اور ککس بہت اچھی ہیں۔ اس کے علاوہ میں اداکاری بھی کر لیتی ہوں، اسی لیے میں منتخب ہوئی۔'

ننھے کبیر منیال کو تو امید نہیں تھی کہ ان کی سلیکشن ہو گی۔

'انھوں نے آیڈیشن میں مجھ سے سوال پوچھے، ایکٹنگ بھی چیک کی۔ پھرانھوں نے کہا کہ آپ بس صحیح ہی ہیں لیکن دو دن کے بعد ایک نوٹس آیا کہ آپ منتخب ہو گئے ہیں۔ اس وقت میں اتنا ایکسائیٹڈ تھا کہ کیا بتاؤں۔'

'چلڑ فورس' ایک سپر ہیرو فلم ہے، جس میں یہ پانچ بچے اپنی منفرد صلاحیتیں استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو مشکلات سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔

فلم کا پہلا حصہ سندھ میں شوٹ کیا جا رہا ہے جہاں بچوں کو خصوصی ڈانس اور ایکٹنگ کی کلاسز بھی دی گئی ہیں جبکہ فلم کا باقی حصہ پنجاب اور بلوچستان میں شوٹ کیا جائے گا۔

ابتدائی اندازوں کی مطابق فلم کا بجٹ آٹھ کروڑ کے لگ بھگ ہے۔

فلم کے پروڈیوسر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بچوں کی فیچر فلم کی لیے فنڈنگ حاصل کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔

'نئی چیز شروع کرنا چاہتے ہیں تو لوگ بہت سارے وعدے کرتے ہیں، چلڑ فورس میں بھی یہی ہوا۔ بچے آئے تو ہم سے بہت لوگوں نے وعدے کیے کہ حکومت سے فنڈنگ دلوائیں گے، آپ کو ایسے سپورٹ کریں گے، ویسے مدد کریں گے لیکن پھر وہ سب اپنے کسی ضروری کام میں مصروف ہو گئے اور یہ بچوں کی فلم ہمارے ہی ذمہ رہ گئی۔'

فرحان قیصر پرعزم ہیں کہ چاہے جتنی مشکلات آئیں، وہ اس فلم کو ضرور مکمل کریں گے۔

ان بچوں کے علاوہ اس فلم میں عائشہ عمر، احمد بٹ، شفقت چیمہ، ٹیپو، سلیم معراج اور رے پاپنز بھی کام کر رہے ہیں اور فرحان کے مطابق شائقین کی دلچسپی کے لیے فلم میں انڈسٹری کے تمام مشہور اداکاروں کی 'سپیشل اپیئرنس' بھی رکھی گئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں