’منفی درجۂ حرارت میں گانا فلمانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں‘

ثنا جاوید، دانش تیمور
Image caption 'مہرالنسا وی لب یو' ایک کامیڈی اور رومانس فلم ہے

پاکستان کی فلمی صنعت میں پہلی بار جلوہ گر ہونے والی اداکارہ ثنا جاوید کو وہ کردار پسند ہیں جو فلم میں حاوی ہوں۔

ثنا جاوید کی پہلی فلم 'مہرالنسا وی لب یو' عیدالفطر پر ریلیز ہوئی ہے۔ فلم میں ان کے ہیرو دانش تیمور ہیں جو اس سے قبل 'رانگ نمبر'، 'جلیبی' اور 'تم ہی تو ہو' جیسی فلموں اور ڈراموں میں کام کر چکے ہیں۔

پاکستانی فلموں کے لیے حکومت سرمایہ فراہم کرے گی: مریم اورنگزیب

عید کے موقعے پر صرف پاکستانی فلمیں

ثنا جاوید نے اپنے کریئر کی ابتدا ڈراموں سے کی۔ 'پیارے افضل'، 'شہر ذات'، 'میری دلاری' اور 'مینو کا سسرال' ان کے مقبول ڈرامے ہیں۔

کراچی میں بی بی سی اردو سے خصوصی بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ ڈرامے اور فلم میں اداکاری بالکل ہی مختلف ہے۔

'فلم میں میوزک، ڈانس اور گانے ہوتے ہیں۔ میں خوش قسمت ہوں کہ پہلی ہی فلم ایسے ڈائریکٹر کے ساتھ ملی جو تجربہ کار ہیں اور جن کی ایک فلم مقبول ہوچکی ہے۔'

'مہرالنسا وی لب یو' ثنا کی پہلی فلم ضرور تھی لیکن وہ کہتی ہیں کہ اس میں جتنے بھی اداکار تھے ان سب نے پہلے بھی فلموں میں کام کیا ہوا تھا اس وجہ سے انھیں بڑی سپورٹ ملی۔

Image caption پاکستان کی فلمی صنعت میں پہلی بار جلوہ گر ہونے والی اداکارہ ثنا جاوید کو وہ کردار پسند ہیں جو فلم میں حاوی ہوں

'مہرالنسا وی لب یو' ایک کامیڈی اور رومانس فلم ہے۔ فلم کے ہیرو دانش تیمور کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں کامیڈی فلمیں زیادہ مقبول ہوئی ہیں۔

'اس فلم میں اس بات کو مد نظر رکھا گیا ہے کہ اگر ہم کوئی پیغام بھی دیں تو ایسا نہ لگے کہ یہ تو صرف پیغام ہی دیے جا رہے ہیں، اس لیے مزاحیہ انداز میں یہ لائن دی گئی ہے۔'

اس فلم میں ثنا جاوید کا کوئی رقص نہیں صرف ’مووز‘ ہیں، ان پر پاکستان کے شمالی علاقوں میں ایک گانا فلمایا گیا ہے جو ٹریلر میں بھی کافی مقبول رہا۔

ثنا جاوید کہتی ہیں کہ شیفون کی ساڑھی اور منفی درجۂ حرارت میں گانا فلمانا بہت دشوار تھا اور یہ ہر کسی کے بس کی بات بھی نہیں۔

Image caption ثنا جاوید کہتی ہیں کہ شیفون کی ساڑھی اور منفی درجۂ حرارت میں گانا فلمانا بہت دشوار تھا اور یہ ہر کسی کے بس کی بات بھی نہیں

پاکستان میں بننے والی فلموں میں اکثر بالی وڈ کی کسی نہ کسی فلم کی کہانی یا عکسبندی کی نقل کے حوالے سے تنقید بھی ہوتی آئی ہے۔ اس حوالے سے ثنا جاوید کہتی ہیں کہ یہ خالص پاکستانی فلم ہے۔ 'جو چیز سکرپٹ اور ڈائریکٹر کی سوچ میں تھی انھوں نے اس کو ویسا ہی بنایا ہے۔'

پاکستان میں مقبولیت حاصل کرنے کے بعد پچھلے چند سالوں سے ماہرہ خان، صبا قمر، ماروہ حسین، حمیمہ ملک اور میشا شفیع جیسی اداکاراؤں نے بالی وڈ میں قدم رکھے۔ ثنا جاوید کی بھی خواہش ہے کہ وہ اس فہرست میں شامل ہوں۔

'پاکستان سے باہر جہاں بھی فلم کی پیشکش ہوئی، کردار پسند آیا اور سکرپٹ اچھا ہوا تو حالات کو دیکھ کر ضرور کام کروں گی۔'

Image caption فلم کے ہیرو دانش تیمور کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں کامیڈی فلمیں زیادہ مقبول ہوئی ہیں

ثنا جاوید کہتی ہیں کہ کسی بھی فلم کے لیے ان کا انتخاب کردار کی اہمیت اور یہ دیکھنا ہے کہ کہانی کے کردار کے آس پاس ہے جس کے بعد ڈائریکٹر کا نمبر آتا ہے تاہم دانش تیمور اس سے اتفاق نہیں کرتے، ان کا خیال ہے کہ فلم مجموعی طور پر اچھی ہونی چاہیے کسی کے کردار حاوی ہونے سے فلم میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

ان کا کہنا تھا 'بعض اوقات چھوٹے چھوٹے کردار بھی بہت ہٹ ہوجاتے ہیں جس کی واضح مثال انڈین اداکار نواز الدین صدیقی ہیں۔ فلم کا لوگوں کے ساتھ ربط ہونا چاہیے اور یہ ربط کسی کے بھی ذریعے ہو وہی کامیابی ہے۔'

'مہرالنسا وی لب یو' کے ڈائریکٹر یاسر نواز ہیں جن کی اس فلم کے گیت برصغیر کے نامور شاعر گلزار نے لکھے ہیں جبکہ موسیقی سیماب سین نے ترتیب دی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں