یقین ہے کہ لوگوں کو ’مام‘ پسند آئے گی: عدنان صدیقی

مام
Image caption مام میں دو پاکستانی اداکار عدنان صدیقی اور سجل علی نے کام کیا ہے

انڈین فلم 'مام' سے بالی وڈ میں فلمی سفر کا آغاز کرنے والے پاکستانی اداکار عدنان صدیقی کا کہنا ہے کہ انھیں پاکستانی فلموں میں اچھے کرداروں کی پیشکش نہیں ہوتی اور انڈیا میں بھی انھوں نے تب ہی کام کیا جب کردار اور سکرپٹ ان کی پسند کا تھا۔

’مام‘ سات جولائی کو ریلیز ہو رہی ہے اور عدنان نے اس فلم میں سری دیوی کے علاوہ نواز الدین صدیقی کے ساتھ کام کیا ہے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے عدنان کا کہنا تھا کہ انھیں ’مام‘ سے قبل بھی انڈین فلمز کی آفرز ملی تھیں، جن میں رانی مکھرجی کی فلم ’مردانی‘ اور ’جسم ٹو‘ شامل ہیں لیکن انھوں نے انکار کر دیا تھا۔

`اگر میں اپنا ٹیلنٹ وہاں ثابت کر سکتا ہوں تو میں وہاں جا کر کام ضرور کروں گا لیکن اگر خانہ پری کے طور پر فلم میں کام دیا جائے تو مجھے منظور نہیں۔‘

سری دیوی کے ساتھ کام کرنے کے حوالے سے عدنان جہاں پرجوش تھے وہیں کشمکش کا شکار بھی۔

’پریشر تو تھا کیونکہ سری دیوی مجھے بہت پسند ہیں۔ میں نے ان کی بہت سی فلمیں دیکھیں ہیں اور کرش بھی رہا ہے۔ تو جس پر کرش رہا ہو اس کے ساتھ کام کرتے وقت آپ سٹار سٹرک ہو جاتے ہیں۔ لیکن میں نے بڑے طریقے سے سنبھالا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’سری دیوی کے ساتھ کام کر کے مجھے احساس ہوا کہ بہترین اداکارہ تو وہ بعد میں بنی ہوں گی پہلے وہ انسان بہت خوبصورت ہیں۔‘

فلم کی شوٹنگ کے حوالے سے عدنان نے بتایا کہ انہوں نے دہلی، ممبئی اور جورجیا میں دو مہینے شوٹ کیا اور فلم کے پروڈیوسر اور سری دیوی کے شوہر بونی کپور نے ان کا خوب خیال رکھا۔

’بونی کپور کھانے کے بہت شوقین ہیں۔ خود تو مزیدار کھانے کھاتے تھے ہمیں بھی کھلاتے تھے۔ سیٹ پر جب کھانا آتا تھا تو بونی کپور بچوں کی طرح کھانے کو دیکھتے تھے اور انکے منہ میں پانی آ رہا ہوتا تھا، ان کا بس نہیں چلتا تھا کہ سب بیٹھیں یا نہ بیٹھیں وہ خود کھانا شروع کر دیں۔‘

Image caption سری دیوی کے ساتھ کام کرنے کے حوالے سے عدنان جہاں پرجوش تھے وہیں کشمکش کا شکار بھی

اس فلم میں عدنان کے علاوہ ایک اور پاکستانی بھی ہیں اور وہ ہیں اداکارہ سجل علی۔

عدنان صدیقی کا کہنا ہے کہ سجل سمیت سب اداکاروں نے ایک سے ایک بڑھ کر پرفارمنسز دی ہیں۔

’سجل سے جو امیدیں لگائی جا رہی ہیں اس نے بالکل ویسا ہی کام کیا ہے۔‘

فلم کی دیگر کاسٹ کے حوالے سے عدنان کا کہنا تھا `نوازالدین صدیقی ایک کمال کے اداکار اور انسان ہیں۔ وہیں اکشے کھنہ اور فلم کے ولن ابھیمنیو سنگھ نے بھی بہترین کام کیا ہے، میری ابھیمنیو سے بہت اچھی دوستی بھی ہو گئی۔ یہ ایک مکمل ٹیم تھی اور اوپر سے اے آر رحمن کا میوزک۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ وہ فلم کی تشہیر کے لیے انڈیا جائیں گے، عدنان صدیقی نے کہا کہ ’ کسی کو کیا پتا تھا کہ ایسے حالات ہو جائیں گے کہ ہم پروموشنز کے لیے جا بھی نہیں پائیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ’اپنی ہی فلم پروموٹ نہ کرنے کا افسوس تو ہوتا ہے کیونکہ ٹریلر لانچ ہوا تو تمام کاسٹ وہاں اکٹھی تھی اور میں سب کو دیکھ رہا تھا۔ تو دماغ میں آتا ہے کہ کاش حالات صحیح ہوتے تو ہم بھی ادھر ان کے ساتھ ہوتے۔‘

مستقبل میں بالی وڈ میں کام کے حوالے سے عدنان نے کہا کہ `بھارت میں شوٹ کر رہا تھا تو آوازیں آرہی تھیں کہ وہاں کے فلم ساز مجھے کاسٹ کرنا چاہ رہے ہیں۔ عامر خان کی ایک فلم `سیکرٹ راک سٹار` کے لیے آڈیشن بھی دیا تھا۔ اس دوران اور بھی بہت سے آڈیشن ہوئے اور مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ اور فلمیں ملیں گی لیکن اب موجودہ حالات میں مجھے نہیں لگتا کہ وہاں سے کوئی آفر آئے گی۔‘

فلم میں اپنے کردار اور کہانی کے بارے میں عدنان نے کہا کہ `فلم میں سسپنس اور ڈرامہ ہے جبکہ کہانی ایک ماں اور بیٹی کی ہے، جس میں باپ کیسے انوالو ہوتا ہے، وہ دلچسپ ہے۔ سری دیوی فلم میں میری دوسری بیوی ہیں اور سجل کی سوتیلی ماں۔ کہانی تو نہیں بتا سکتا لیکن ان تینوں کرداروں کی زندگی میں کچھ ایسا ہوتا ہے کہ ہر رشتے پر سوال اٹھ جاتے ہیں۔`

`مام' کی پاکستان ریلیز کے حوالے سے حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا لیکن عدنان پر امید ہیں کہ پاکستانی شائقین یہ فلم ضرور دیکھیں گے۔

`پاکستانیوں کو یہ فلم دیکھنی چاہیے کیونکہ اس میں سجل ہے، میں ہوں۔ پہلے فلم دیکھیں، پھر اس پر ریویو دیں۔ مجھے یقین ہے کہ لوگوں کو یہ فلم ضرور پسند آئے گی۔`

اسی بارے میں