شاہ رخ کی بیٹی کا پیچھا کیوں اور کیا واقعی فلم انڈسٹری میں 90 فیصد ان پڑھ ہیں؟

شاہ رخ، گوری خان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شاہ رخ خان اپنی اہلیہ گوری خان کے ساتھ یہاں دیکھے جا سکتے ہیں

اپنے فلمی کریئر میں کامیابیوں کی بلندیوں پر پہنچنے والے شاہ رخ خان کو انڈسٹری میں پچیس سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔

25 سال پہلے 1992 میں فلم دیوانہ کی ریلیز کے بعد سے انھوں سٹارڈم اور بے پناہ کامیابی کی جو سیڑھیاں چڑھنی شروع کیں تو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

اجے دیوگن نے میری شادی نہیں ہونے دی: تبو

سنی لیونی رام گوپال ورما پر بھاری پڑ گئیں

میں بھی دبنگ جیسی فلم کرنا چاہتا ہوں: رنبیر کپور

لیکن شاہ رخ کا کہنا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے انھوں آج ہی کام کرنا شروع کیا ہو۔ کامیابی کے اس سفر میں جہاں آپ کو دولت، عزت اورشہرت ملتی ہے وہیں کئی ایسی چیزیں بھی آپ کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں جو زندگی کو کسی حد تک مشکل بنا دیتی ہیں اور ایسا ہی شارخ کے ساتھ بھی ہوا۔

وہ آن سکرین ہوں یا آف سکرین کیمرے ہمیشہ ہی نہ صرف ان کا بلکہ ان کے بچوں کا بھی پیچھا کرتے رہتے ہیں۔

Image caption شاہ رخ اپنے بیٹے آرئن اور بیٹی سہانہ کے ساتھ

آج کل کمیرے اور میڈیا ان کی بیٹی سہانہ کا پیچھا کرتے نظر آتے ہیں۔ جب کوئی عام باپ بیٹی کسی ریستوران، شادی پارٹی یا فنکشن میں جانے کے لیے ایک ساتھ گھر سے نکلتے ہیں تو نہ تو کیمرے ہوتے ہیں اور نہ ہی میڈیا اس بارے میں کوئی سوال کرتا ہے۔

لیکن جب سہانہ اور شاہ رخ ایک ساتھ نظر آئیں تو کہا جاتا ہے کہ شاہ رخ اپنی بیٹی کو ساتھ لیکر گھومتے ہیں تاکہ وہ بھی فلموں کا حصہ بن سکیں۔

ایسے ہی ایک سوال کے جواب میں شاہ رخ نہ ایک بار پھر واضح کرنے کی کوشش کی کہ ان کے بچوں کا کریئر ان کا اپنا فیصلہ ہوگا وہ ان کے کریئر کے نہیں بلکہ ان کی تعلیم کے لیے خود کو ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

Image caption فلمساز تگمانشو دھولیہ کی اگلی فلم 'راگدیش' آنے والی ہے

حاصل، صاحب بیوی اور غلام اور پان سنگھ تومر جیسی فلمیں بنا کر مشہور ہونے والے فلمساز تگمانشو دھولیہ کی اگلی فلم 'راگدیش' آنے والی ہے۔

فلم کی پروموشن شروع ہو چکی ہے اور اسی دوران تگمانشو نے بی بی سی کے ساتھ بھی بات کی اور فلم کے ساتھ ساتھ ملک کے سیاسی حالات پر بھی بات ہوئی۔

بی بی سی ہندی کے ساتھ انٹرویو میں جب تگمانشو سے پوچھا گیا کہ اس وقت ملک کی سیاست میں اتنی اتھل پتھل ہے اور ان کی کی سیاست اور معاشرے پر گہری نظر ہوتی ہے پھر بھی وہ خاموش کیوں رہتے ہیں؟

اس پر تگمانشو نے اتفاق تو کیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ 'انڈسٹری میں اتنے بڑے بڑے اداکار ہیں، ان کے ٹویٹر پر انھیں لاکھوں فالو کرتے ہیں اور اتنا کچھ ہوتا ہے پھر بھی کوئی کچھ نہیں بولتا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تگمانشو نے کہا کہ 90 فیصد فلم انڈسٹری والے ان پڑھ ہیں ان میں اتنی سمجھ ہی نہیں ہے کہ کس بارے میں بات کریں

تگمانشو کی پہلی بات تو درست ہے کہ بڑے بڑے اداکاروں کے لاکھوں فالوورز ہیں لیکن یہ غلط ہے کہ وہ کچھ بولتے نہیں۔

لگتا ہے کہ تگمانشو بھول گئے کہ جب شاہ رخ اور عامر نے عدم رواداری جیسے اہم موضوع پر منہ کھولنے کی کوشش کی تھی تو انھیں غدار قرار دے کر پاکستان پارسل کرنے کی بات کہی گئی تھی۔

تگمانشو نے یہ بھی کہا کہ 90 فیصد فلم انڈسٹری والے ان پڑھ ہیں اور ان میں اتنی سمجھ ہی نہیں ہے کہ کس بارے میں بات کریں۔ آج آپ کو انڈسٹری میں آصف صاحب جیسے لوگ نہیں ملیں گے جو پانچویں پاس تھے لیکن مغل اعظم جیسی فلم بنا کر چلے گئے۔

تگمانشو کا ان پڑھ سے کیا مطلب ہے یہ تو معلوم نہیں لیکن یہ بھی درست ہے کہ کبھی کبھی تعلیم بھی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ INSTAGRAM TABU

اس ہفتے بالی وڈ اداکارہ تبو نے ممبئی مرر کو انٹرویو میں ڈرامائی انداز میں اپنے سنگل ہونے کی وجہ اجے دیوگن کو بتایا ہیڈ لائنز کچھ اس طرح لگائی گئیں کہ لوگوں کی دلچسپی بڑھی اور خبر ہٹ ہو گئی۔

فلم 'وجے پتھ' کے 21 سال بعد دونوں نے ایک ساتھ فلم 'درشيم' (2015) میں بھی ساتھ آئے تھے اور اب روہت شیٹی کی اگلی فلم گول مال فور میں کام کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اجے دیوگن تبو کے پڑوسی ہیں۔ تبو نے اس انٹرویو میں کہا،'جب وہ نوجوان تھے تو انکا کزن اور اجے دیوگن آپس میں دوست تھے اور ان پر گہری نظر رکھتے تھے اور کسی لڑکے سے دوستی نہیں کرنے دیتے تھے۔ اگر میں سنگل ہوں تو ان کی غنڈہ گردی ذمہ دار ہے۔

انڈسٹری میں نہ تو تبو نئی ہیں اور نہ ہی اجے دیو گن تو پھر گول مال فور کے پرونوشن کے موقع پر ہی ایسی باتیں کیوں یاد آ رہی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں