کیا ریالٹی شوز بچوں پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں؟

ریالٹی شو تصویر کے کاپی رائٹ SONY PR

انڈیا میں ريالٹی شو کی کامیابی دیکھ کر ہر دوسرے مہینے ٹی وی پر نئے ريالٹی شو آ رہے ہے۔ بڑوں کے ساتھ ساتھ اب بچوں کے مختلف ريالٹی شوز میں بچے کبھی موسیقی، کبھی رقص یا کبھی اداکاری کا ہنر دکھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

پيكو، لکی ڈونر، پنک، مدراس کیفے جیسی فلمیں بنانے والے ڈائریکٹر شوجت سرکار کو بچوں کے ریالٹی شوز پر اعتراض ہے۔ چند روز پہلے انھوں نے ٹوئٹر پر لکھا کہ بچوں کے ريالٹی شوز پر فوراً پابندی عائد کر دینی چاہیے۔ ان کے مطابق ان شوز کی وجہ سے بچے اپنا بچپن کھو رہے ہیں۔

منفی اثر

شوجت سرکار کی بات سے اتفاق رکھتے ہوئے فلم ساز مدھر بھنڈارکر کہتے ہیں: 'تین چار ماہ تک چلنے والے ان شوز اور ان میں شکست کو بھی وہ بڑی سنجیدگی سے لیتے ہیں اور ان کا حوصلہ ٹوٹ جاتا ہے جو ان کی شخصیت پر منفی اثر پڑتا ہے۔'

مدھر بھنڈارکر اس کا ذمہ دار سوشل میڈیا کو بھی ٹھہراتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہر کوئی کسی بھی قیمت پر بس مشہور ہونا چاہتا ہے اور ماں باپ بچوں پر بھی دباؤ ڈالتے ہیں۔

ممبئی کے مشہور ماہر نفسیات ڈاکٹر ہریش شیٹی یہ تو نہیں سمجھتے کہ بچوں کے ريالٹی شوز پر پابندی لگا دینی چاہیے لیکن وہ ان کے لیے سخت ہدایات کی وکالت کرتے ہیں۔

ان کے مطابق 'جب بچے کھیل مقابلوں میں حصہ لے سکتے ہیں تو ريالٹی شوز میں بھی حصہ لینے میں کیا برائی ہے۔ لیکن اب تک قومی انسانی حقوق کمیشن یا بچوں کی کسی قومی ادارے نے اس سلسلے میں کوئی قوانین جاری نہیں کیے ہیں کہ ان شوز میں بچوں کی شوٹنگ کس طرح سے کی جائے۔ یہ قوانین بنانے کی ضرورت ہے اور حکام کو چاہیے کہ وہ ٹی وی سیٹ پر مکمل نگرانی رکھیں کہ قوانین عمل درآمد ہو رہا ہے یا نہیں۔'

ڈاکٹر ہریش شیٹی کہتے ہیں کہ ريالٹی شو میں جانے والے بچوں کی شو ختم ہونے کے بعد کونسلنگ کرانی چاہیے۔' زیادہ تر کو دیکھا گیا ہے کہ والدین بچوں کی ہار پر غصہ بھی کرتے ہیں، ایسی صورتحال میں ان سے مشاورت بھی ضروری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ CRISPY BOLLYWOOD

تبدیلی

2015 میں انڈین آئیڈل جونیئر کی فاتح ریاست اوڈیشہ کی 16 سال کی انيا نندا کی زندگی اب تھوڑی بدل گئی ہے. وہ سرکاری ملازم پرسن کمار نندا کی بیٹی ہیں۔ انيا کی جیت کے بعد ان کے خاندان کو وزیر اعظم نریندر مودی اور اوڈیشہ کے کئی بڑے رہنماؤں سے ملاقات کاموقع ملا۔

پرسن کمار نندا کا کہنا ہے کہ 'اگر میری بیٹی کو ایسا پلیٹ فارم نہیں ملتا تو انيا کا گلوکاری کا فن بیکار ہو جاتا۔ ہماری طرف سے انيا پر شو کے دوران جیت کا کسی طرح کا دباؤ نہیں تھا۔'

پرسن کمار نندا کہتے ہیں کہ 'انيا کے برتاؤ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ شہرت کی وجہ سے عدم توازن نہیں ہوا ہے۔ وہ پڑھائی میں بھی اچھے نمبر لے رہی ہیں۔ انيا پلے بیک سنگر بننا چاہتی ہیں لیکن انھیں تعلیم مکمل کرنا ہوگی۔'

وہیں 16 سال کی انيا مانتی ہیں کہ ريالٹي شو میں ایک ہفتے میں بہت سے گانے، نغمے گانا اور بہتر طریقے سے گانے کا دباؤ رہتا تھا. لیکن ریالٹی شو میں ناکام ہونے والے بچوں کو ہینڈل کرنے کے لیے ڈاکٹر بھی سیٹ میں موجود رہتے تھے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں