مسلم خواتین کے لیے ’حلال‘ جنسی گائیڈ پر تنازع

تصویر کے کاپی رائٹ Amazon
Image caption مسلمان خواتین کی جنسی زندگی کے بارے میں کتابچہ

مسلمان خواتین اپنے جیون ساتھی کے ساتھ کس طرح اپنی جنسی زندگی گزارتی ہیں؟

اس موضوع پر شائع ہونے والی ایک کتاب ای کامرس ویب سائٹ ایمیزون پر فروخت ہو رہی ہے اور اس کی اشاعت پر تنازع شروع ہو گیا ہے۔

'دی مسلمہ سیکس مینیوئل: اے حلال گائیڈ ٹو مائنڈ بلوئنگ سیکس' کے نام سے شائع ہونے والی کتاب کی مصنفہ نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا ہے اور موضوع کی حساسیت کو مد نظر رکھتے ہوئے تخلص کا استعمال کیا ہے۔

’خواتین کا جنسی رویہ ثقافتی اقدار پر زیادہ منحصر‘

’دمے سے جنسی زندگی متاثر ہو سکتی ہے‘

لیکن برطانوی اخباروں میں مصنفہ کے انٹرويو چھپے ہیں۔ برطانوی اخبار 'دی آبزرور' کے مطابق اس کی مصنفہ مسلمان ہیں۔

اخبار میں ان کے بارے میں اس سے زیادہ معلومات نہیں دی گئیں اور اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ مصنفہ نے خود یہ گزارش کی ہے۔

مصنفہ نے انٹرویو میں کتاب لکھنے کی وجہ بھی بتائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت ساری مسلمان خواتین، خاص طور پر روایتی خواتین سیکس کے بارے میں زیادہ نہیں جانتیں۔

مصنفہ کا دعویٰ ہے کہ وہ کتاب اس لیے لکھ رہی ہیں کیونکہ وہ مسلمان خواتین کی زندگی میں خوشی لانا چاہتی ہیں۔

برطانوی اخبار 'ٹیلی گراف' سے بات کرتے ہوئے ایک مسلمان مصنفہ شيلینا جان محمد نے کہا کہ اگر یہ کتاب مسلمان خواتین سے منسلک فرضی خیالات تبدیل کرنے میں مدد دیتی ہے تو اس کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔

اگرچہ کتاب پر تنقید بھی ہو رہی ہے مگر کچھ حلقوں میں اس پر عورتوں کے بارے میں روایتی سوچ کو تبدیل کرنے اور ان کے جسم سے منافع حاصل کرنے کے الزامات لگ رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ساری توجہ خواتین پر

کتاب کی مصنفہ ان الزامات سے متفق نہیں۔ برطانوی اخبار ٹیلی گراف کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'اس کتاب کے بارے میں مجھے بہت لوگوں نے ای میل کر کے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ ایک مسجد کے امام نے لکھا کہ اُن کا ارادہ ہے کہ وہ نئے شادی شدہ جوڑوں کو اس کی ایک کاپی دیں گے۔'

مصنفہ کے مطابق اس کتاب پر ایک ہی اعتراض ان کے سامنے آیا ہے وہ یہ کہ اس میں مردوں کو نظرانداز کیا گیا ہے اور تمام تر توجہ خواتین پر ہے۔

برطانوی اخبار 'دی ابزرور' کے مطابق مسلمان خواتین کی تنظیموں نے اس کتاب کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ مسلمان خواتین کو جنسی تعلقات کی وجہ سے بگڑنے والے رشتوں سے بچانے کی ضرورت ہے تاکہ ان کے حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو۔

برطانیہ میں مسلم ویمن نیٹ ورک کی سربراہ شائستہ گوہر کہتی ہیں 'میں مکمل طور پر اس کے حق میں ہوں اور ایسا کیوں نہ ہو؟ سیکس کے بارے میں بات کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ماضی میں سائنس بھی سیکس کے ذریعے خواتین کو حاصل ہونے والی جنسی لذت کی اہمیت کے بارے میں بتاتی آئی ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں