بالی وڈ راؤنڈ اپ: 'بولے چوڑیاں بولے کنگنا'

کرن جوہر اور کنگنا رناوت تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فلمساز کرن جوہر اور اداکارہ کنگنا رناوت کے درمیان نوک جھونک جاری ہے

انڈین فلمساز کرن جوہر نے جب اداکارہ کنگنا رناوت کو اپنے مشہور ٹی وی شو 'کافی ود کرن' میں مدعو کیا تھا تو شاید سوچا بھی نہ ہوگا کہ ان کی یہ مہمان ان پر کتنا بھاری پڑنے والی ہیں۔

فلم انڈسٹری میں اقربا پروری کے موضوع پر کنگنا نے کرن کو آڑے ہاتھوں لیا تو پروگرام کے بعد کرن نے انھیں 'وومن کارڈ کھیلنے والی اداکارہ' کہا۔ کچھ روز یہ تماشا چلا اور اس میں کئی اور لوگ بھی کود پڑے۔

لیکن اب لگتا ہے کہ کرن کو بات پھر بھی ہضم نہیں ہوئی۔ کرن نے اس موضوع کو ایک بار پھر چھیڑا اور وہ بھی پوری انڈسٹری کے سامنے۔ 16 جولائی کو آئییفا ایوارڈز کی میزبانی کے دوران انھوں نے اک بار پھر کنگنا کو غصہ دلانے کی کوشش کی اور سیف علی خان نے ان کا ساتھ دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

تقریب میں جب اداکار ورون دھون فلم 'ڈھیشوم' کے لیے ایوراڈ لینے پہنچے تو سیف نے کہا کہ ورون انڈسٹری میں اپنے والد ڈیوڈ دھون کی وجہ سے ہیں اور وہ اپنی ممی شرمیلا ٹیگور کی وجہ سے اس پر کرن نے لقمہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے فلسماز پاپا کی وجہ سے انڈسٹری میں آئے اس کے بعد تینوں نے 'اقربا پروری زندہ باد' کا نعرہ لگایا۔

بات یہاں ختم نہیں ہوئی ورون اور سیف نے کرن جوہر کی فلم 'بولے چوڑیاں بولے کنگنا' گانا شروع کر دیا اس پر کرن نے کہا کہ کنگنا نہ کہو تو ہی اچھا ہے۔ اب جو کرن نے کیا اس پر کنگنا کا کیا ردِ عمل ہوگا یہ دیکھنا بھی دلچسپ رہے گا۔ اگرچہ کرن اس واقعہ کو محض مذاق کہہ کر معافی مانگ چکے ہیں لیکن اب یہ مذاق انھیں کتنا مہنگا پڑے گا اس کا فیصلہ کنگنا ہی کریں گی۔

انڈین مرد 'مردانہ احساسِ برتری' کا شکار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

فلم 'ٹوائلیٹ ایک پریم کتھا' میں اکشے کمار کے ساتھ مرکزی کردار میں نظر آنے والی اداکارہ بھومی پڈنیکر کا کہنا ہے کہ فلموں سے لوگوں کی تفریح فراہم کرنا اچھی بات ہے لیکن اگر ان فلموں کے ذریعے لوگوں کو پیغام دیا جا سکتا ہے یا پھر معاشرے میں تبدیلی لانے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ اور اچھی بات ہے۔

سنہ 2015 میں فلم 'دم لگا کے ہئیشا' سے ڈیبیو کرنے والی بھومی پڈنیکر کہتی ہیں کہ 'ٹوائلیٹ ایک پریم کتھا' انڈیا کے ایک انتہائی اہم مسئلے پر بنائی گئی ہے۔ انڈیا میں کروڑوں لوگ بیت الخلا سے محروم ہیں۔ دیہاتوں میں لوگوں کے گھروں میں ٹوائلیٹ نہیں ہے اور خواتین کو بھی کھلے یا کھیتوں میں رفع حاجت کے لیے جانا پڑتا ہے۔

بھومی کہتی ہیں کہ اس دور میں بھی لوگ ٹوائلیٹ جیسی بنیادی سہولیت سے محروم ہیں یہ انتہائی شرمناک بات ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر انڈین مرد 'مردانہ احساسِ برتری' کا شکار ہوتے ہیں اور اس کے لیے ان کے والدین ذمہ دار ہیں جو بیٹوں کو بیٹیوں پر ترجیح دیتے ہیں اور انھیں عورت کی عزت کرنا نہیں سکھاتے۔

بھومی کا کہنا کافی حد تک درست ہے ماں باپ بیٹیوں کی شادی اور ان کے جہیز کے لیے قرضے لینے سے لے کر اپنا گھر بار تو بیچ سکتے ہیں لیکن انھیں اعتماد جیسی چیز سے محروم رکھتے ہیں جو انھیں سماج میں اپنے ساتھ ہونے والی ذیادتیوں سے لڑنے کا حوصلہ دیتا ہے۔

گوری رنگت کا دبدبہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

نواز الدین صدیقی خود کو بالی وڈ کے ایک با صلاحیت اداکار کے طور پر سٹیبلش کر چکے ہیں لیکن ان کی حالیہ ٹویٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ فلم انڈسٹری میں خوبصورت شکل اور گوری رنگت کا دبدبہ آج بھی برقرار ہے۔

نوازالدین نے اپنی ٹویٹ میں لکھا 'مجھے اس بات کا احساس دلانے کا شکریہ کہ مجھے کسی خوبصبرت اور گوری رنگت والی ہیروئن کے ساتھ کاسٹ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ میں خوبصورت نہیں بلکہ سانولی رنگت کا ہوں لیکن میں نے کبھی اس طرح کی سوچ پر توجہ نہیں دی'۔

نواز الدین اپنی آنے والی فلم کے کاسٹنگ ڈائریکٹر سنجے چوہان کے اس کمنٹ کا جواب دے رہے تھے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ نواز کے سامنے کسی خوبصورت اور گوری رنگت والے کردار کو کاسٹ نہیں کر سکتے تھے۔

نواز کی اس ٹویٹ کے جواب میں بے شمار لوگوں نے ان کا ساتھ دیتے ہوئے انھیں باصلاحیت اور انڈسٹری کا بہترین اداکار کہا۔ اور تو اور کچھ لوگوں نے تو اجے دیو گن تک کی مثال پیش کرڈالی جو غیر روایتی ہیرو نہ ہوتے ہوئے بھی بہت کامیاب رہے۔

ویسے بات سمجھ سے باہر ہے کہ واقعی یہ واقعہ ہوا تھا یا پھر یہ بھی فلم کے پروموشن کا ایک اور نیا انداز ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں