’فن کی ترویج میں پہلے ریاست حائل تھی اور اب شدت پسندی‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’بھارت ناٹیم‘ کو پاکستان بننے کے بعد کیوں تبدیل کیاگیا؟

برصغیر کی ثقافت میں رقص کا ایک اہم حصہ رہا ہے لیکن 1947 میں تقسیمِ ہند کے بعد جہاں انڈیا میں اس فن کی ترویج کا سلسلہ جاری رہا وہیں پاکستان میں ان فنکاروں کو رقص کے تئیں عوامی اور ریاستی رویے میں ایسی تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑا جو ان کے لیے غیرمتوقع تھیں۔

ان فنکاروں نے دیکھا کہ نیا ملک بنتے ہی رقص اور دیگر فنون کے بارے میں ماحول سیکیولر سے رجعت پسند ہوتا چلا گیا۔

کلاسیکل رقص کا استاد 89 سالہ اندو مٹھا بھی ان فنکاروں میں شامل تھیں۔ تقسیمِ برصغیر سے قبل وہ لاہور کی رہائشی تھیں لیکن تقسیم کے وقت ان کا قیام ممبئی میں تھا۔

قیامِ پاکستان کے چند سال بعد جب وہ اپنے شوہر کے ہمراہ واپس لاہور آئیں تو اپنی ہم عمر سہیلیوں کی باتوں نے انھیں حیران کر دیا۔

'اس وقت جو سب سے ماڈرن لڑکیاں تھیں، پردہ نہ کرنے والی، مشن کے کالج کنیئرڈ میں پڑھا کرتی تھیں، اور سیاست میں حصہ لیتی تھیں، نیشنل گارڈ کی ممبر تھیں، انھوں نے ایک فنکشن کیا اور مجھے بُلایا لیکن ناظرین کی بات ہوئی تو کہا کہ آپ کے شوہر بھی نہیں آ سکتے۔'

اِندو مٹھا کے مطابق وہ اس شرط پر حیران ہوئیں اور ان سے استفسار کیا کہ 'آپ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟' تو انھیں جواب ملا کہ اس بار ایسا کرنے دیں پھر ایسا نہیں ہوگا مگر اِندو کے خیال میں وہ پھر کبھی نہیں آ سکی۔

رقاصہ شیما کرمانی اندو مٹھا کے تقسیم کی وجہ سے عوامی خیالات میں رجعت پسندی کے نفوذ کے نظریے سے متفق نہیں۔

ان کا خیال ہے کہ تقسیم کے بعد پاکستان اور انڈیا دونوں اپنی قومی اور ثقافتی شناخت کی تلاش میں رہے اور قیامِ پاکستان کے بعد تقریباً تین دہائیوں تک فنونِ لطیفہ کے اداروں کو عوامی قبولیت اور ریاستی سرپرستی اور امداد حاصل رہی۔

اسی ضمن میں انہوں نے پاکستان انٹرنیشنل ائرلائنز (پی آئی اے) آرٹس اکیڈمی کے قیام سمیت اپنے اساتذہ مسٹر اینڈ مسز گھنشام کی مثال دی جنھوں نے سابق وزیرِ اعظم حُسین شہید سہروردی کی دعوت پر کراچی میں 'ردھمک آرٹ سینٹر' کھولا تھا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
رقص کو اب کس سےخطرہ ہے؟

شیما کا کہنا ہے کہ 80 کی دہائی میں جنرل ضیاالحق کے دور میں حالات نے پلٹا کھایا۔ ان کے مطابق پھر وہ وقت بھی آیا کہ مسٹر اینڈ مسز گھنشام کو جان کی دھمکیوں کے سبب اپنا سینٹر بند کر کے ملک چھوڑنا پڑا۔

'ان کے گھر پر پتھراؤ ہوتا اور یہ لکھا ہوتا تھا کہ یہاں جو بھی آئے گا اسے اسلامی نظام کے تحت سزائیں دی جائیں گی تو وہ بچارے تو اپنی زندگی بچانے کےلیے یہاں سے چلے گئے۔'

1971 میں تقسیمِ پاکستان اور پھر جنرل ضیاالحق کا دورِ حکومت۔ ان دو دہائیوں میں پاکستان فنکاروں سے تقریباً خالی ہو گیا۔

شیما کے مطابق 'جنرل ضیا نے فنکاروں اور خاص کر خواتین مخالف نام نہاد اسلامی قوانین متعارف کروائے۔ پی آئی اے آرٹس اکیڈمی سمجھیے تقریباً بند ہی ہو گئی۔ ٹی وی پر موسیقی اور رقص کے پروگراموں پر پابندی لگ گئی۔ عورتوں کے سٹیج پر گھنگھرو پہن کے رقص کرنے پر پابندی لگ گئی اور اب 'نو آبجیکشن سرٹیفیکٹ' لینا پڑتا جس میں باقاعدہ دستخط کرنے ہوتے کہ آپ رقص نہیں کر رہی ہیں۔'

خواتین کے رقص پر تو اعتراضات اٹھتے ہی رہے، پاکستان میں کلاسیکی رقص شاید واحد شوق اور پیشہ ہے جہاں مردوں کو عورتوں سے زیادہ مشکلات پیش آئیں۔

مانی چاؤ نے 26 سال پہلے جب رقص کی دنیا میں قدم رکھا تو ضیاالحق کا اسلامی دور ختم ہو چکا تھا لیکن انھیں اُس دور کی رجعت پسند باقیات کا سامنا رہا۔

'دوست کہتے تھے کہ یار توگھنگھرو باندھتا ہے اورگھنگرو تو ہیجڑے باندھتے ہیں۔ میں کہتا کہ ہم کسی چیز کو کسی سے منسلک کیسے کر دیتے ہیں۔ ناچ کا تعلق ہیجڑوں سے نہیں بلکہ آپ کے اندر کی کیفیت سے ہے کہ جب بھی آپ کوئی خوبصورت موسیقی سنتے ہیں تو جھوم اٹھتے ہیں۔'

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پاکستان میں مرد رقص کی باقاعدہ تربیت حاصل کرتے ہیں؟

مانی چاؤ نے 90 کی دہائی میں شیما کرمانی سے رقص کی تربیت حاصل کی اور انھی کے ساتھ ملک کے کئی شہروں میں فن کا مظاہرہ کیا۔ وہ ہندو دیومالائی کہانیوں اور کرداروں پر مشتمل رقص بھارت ناٹیم کرتے ہیں جس کی ابتدا جنوبی انڈیامیں ہوئی۔

ایک مرتبہ وہ اسی رقص کو پیش کرنے جامعہ کراچی گئے لیکن مذہبی جماعتوں سے منسلک طالب علموں نے انھیں ہراساں کیا۔

'ایک تو ناچنے والا، گھنگھروں باندھا ہوا لڑکا، ڈریس اپ ہندوانہ ۔۔تو وہ مجھے اٹھانے آ گئے کہ اس کو ماریں گے۔ تو مجھے بیک سٹیج سے بھگایاگیا۔ بعد میں میں بہت رویا کہ آج میری عزت بھی جاتی اور ٹانگیں توڑ دی جاتیں اور میں کبھی ڈانس نہ کر پاتا۔'

ان کے خیال میں معاشرے میں آہستہ آہستہ تبدیلی آ رہی ہے لیکن بنیادی طور پر لوگ رقص کو برا سمجھتے ہیں۔

مانی کہتے ہیں کہ' لوگ دیکھنے آ جائیں گے لیکن باہر جا کر برا ضرور کہیں گے۔'

آج کے پاکستان میں رقص اور فن کی ترقی و ترویج میں ماضی کی طرح ریاست تو شاید حائل نہیں لیکن اب اسے شدت پسندی کے چیلنج کا سامنا ہے جس کے سامنے کسی حد تک مزاحمتی فنکار بھی بےبس نظر آتے ہیں۔

ماضی سے آج کے دور کا موازنہ کرتے ہوئے شیما کرمانی کہتی ہیں کہ 'ہمیں نہیں پتا کہ پبلک میں کون بیٹھا ہواہے جو بم بلاسٹ کر دے گا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ یہ جو حرکت (رقص) ہے یہ اس کی سوچ، مذہب یا عقیدے کے خلاف ہے۔ پہلے میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ تماشائیوں میں کوئی ایسا ہوگا جو ایسی حرکت کرے گا۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں