کیا رفیع کو ان کا حق مل سکا؟

محمد رفیع

(محمد رفیع کی برسی کے موقعے پر ریحان فضل کی خصوصی تحریر)

موسیقار نوشاد اکثر محمد رفیع کے بارے میں ایک دلچسپ قصہ سناتے تھے۔ ایک بار ایک مجرم کو پھانسی دی جا رہی تھی۔ اس سے اس کی آخری خواہش پوچھی گئی تو اس نے نہ تو اپنے خاندان سے ملنے کی خواہش ظاہر کی اور نہ ہی کسی خاص کھانے کی فرمائش۔

ان کی صرف ایک خواہش تھی جسے سن کر جیل ملازم حیران رہ گئے۔ اس نے کہا کہ وہ مرنے سے پہلے رفیع کا بیجو باورا فلم کا گانا 'او دنیا کے رکھوالے' سننا چاہتے ہیں۔ اس پر ایک ٹیپ ریکارڈر لایا گیا اور ان کے لیے وہ گانا بجایا گیا۔

جب محمد رفیع دال چاول کھانے لندن پہنچ گئے

محمد رفیع کی تضحیک پر گلوکار اور فلم ساز آمنے سامنے

نہ جانے کتنے لڑکے محمد رفیع سے ملنے بھاگے ہوں گے؟

کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس گانے کے لیے محمد رفیع نے 15 دن تک ریاض کیا تھا اور ریکارڈنگ کے بعد ان کی آواز اس حد تک بیٹھ گئی تھی کہ کچھ لوگوں نے کہنا شروع کر دیا تھا کہ رفیع شاید کبھی اپنی آواز واپس نہیں پا سکیں گے۔

لیکن رفیع نے لوگوں کو غلط ثابت کیا اور انڈیا کے سب سے زیادہ مقبول گلوکار بنے۔ چار فروری سنہ 1980 کو سری لنکا کے یوم آزادی پر محمد رفیع کو سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں ایک شو کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ اس دن ان کو سننے کے لیے کولمبو کے 12 لاکھ شہری جمع ہوئے تھے، جو اس وقت کا عالمی ریکارڈ تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ YASMIN K RAFI
Image caption محمد رفیع ٹرینڈاڈ میں

سری لنکا کے صدر جے آر جے وردھنے اور وزیر اعظم پریم داسا افتتاح کے فورا بعد کسی اور پروگرام میں حصہ لینے جانے والے تھے۔ لیکن رفیع کے زبردست گانے نے انھیں رکنے پر مجبور کر دیا اور وہ پروگرام ختم ہونے تک وہاں سے ہل نہیں سکے۔

محمد رفیع کی بہو اور ان پر ایک کتاب لکھنے والی یاسمین خالد رفیع کہتی ہیں کہ رفیع کی عادت تھی کہ جب وہ بیرون ملک کے کسی شو میں جاتے تھے تو وہاں کی زبان میں ایک گیت ضرور سناتے تھے۔

اس دن کولمبو میں بھی انھوں نے سنہالا زبان میں ایک گیت سنایا۔ لیکن جیسے ہی انھوں نے ہندی گانے سنانے شروع کئے بھیڑ بےقابو ہو گئی اور ایسا تب ہوا جب ہجوم میں شاید ہی کوئی ہندی سمجھتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ YASMIN K RAFI
Image caption محمد رفیع اپنی اہلیہ بلقیس کے ساتھ

اگر ایک گیت میں اظہارِعشق کے ایک سو ایک طریقے ظاہر کرنے ہوں تو آپ صرف ایک ہی گلوکار پر اپنا پیسہ لگا سکتے ہیں اور وہ ہیں محمد رفیع۔

چاہے وہ محبت کا الهڑپن ہو، دل ٹوٹنے کا درد ہو، بالغ محبت کے جوش ہوں، گرل فرینڈ سے محبت کی درخواست ہو یا صرف اس کے حسن کی تعریف ۔۔۔ محمد رفیع کا کوئی ثانی نہیں تھا۔

محبت کو چھوڑ کر اور انسانی جذبات کے جتنے بھی پہلو ہو سکتے ہیں۔ دکھ، خوشی، اعتقاد یا حب الوطنی یا پھر گائیکی کا کوئی بھی طور ہو بھجن، قوالی، لوک گیت، کلاسیکی موسیقی یا غزل، محمد رفیع کے ترکش میں تمام تیر موجود تھے۔

محمد رفیع کو پہلا بریک شیام سندر نے پنجابی فلم 'گل بلوچ' میں دیا تھا۔ ممبئی کی ان کی پہلی فلم 'گاؤں کی گوری' تھی۔

نوشاد اور حسن لال بھگت رام نے ان کے ٹیلنٹ کو پہچانا اور اس زمانے میں 'شرماجی' کے نام سے مشہور آج کے خیام نے فلم 'بیوی' میں ان سے نغمات گوائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ YASMIN K RAFI
Image caption محمد رفیع حج کے موقعے پر

خیام یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں: '1949 میں میری ان کے ساتھ پہلی غزل ریکارڈ ہوئی جسے ولی صاحب نے لکھا تھا ۔۔۔ اکیلے میں وہ گھبراتے تو ہوں گے، مٹا كے وہ مجھ کو پچھتاتے تو ہوں گے۔ رفیع صاحب کی آواز کے کیا کہنے! جس طرح میں نے چاہا انھوں نے ویسا ہی گایا۔ جب یہ فلم ریلیز ہوئی تو یہ گانا گلی گلی بجنے لگا۔'

محمد رفیع کے کریئر کا بہترین وقت سنہ 1956 سے 1965 تک کا وقت تھا۔ اس درمیان انھوں نے کل چھ فلم فیئر ایوارڈز جیتے اور ریڈیو سیلون سے نشر ہونے والے 'بناكا گیت مالا' میں دو دہائیوں تک چھائے رہے۔

رفیع کے کریئر کو اس وقت جھٹکا لگا جب سنہ 1969 میں جب 'آرادھنا' فلم ریلیز ہوئی۔ راجیش کھنہ کی چمک نے پورے ہندوستان کو چکاچوند کر دیا اور آر ڈی برمن نے بڑے موسیقار بننے کی طرف اپنا پہلا بڑا قدم بڑھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ YASMIN K RAFI
Image caption بیٹے محمد خالد کے ساتھ

السٹریٹیڈ ویکلی آف انڈیا کے سابق شریک ایڈیٹر راجو بھارتن کہتے ہیں: 'آرادھنا کے تمام گانے پہلے رفیع ہی گانے والے تھے۔ اگر ایس ڈی برمن بیمار نہ پڑتے اور آر ڈی برمن نے ان کا کام نہ سنبھالا ہوتا تو کشور کمار سامنے آتے ہی نہیں اور ویسے بھی 'آرادھنا' کے پہلے دو ڈوئٹ رفیع نے ہی گائے تھے۔'

بھارتن بتاتے ہیں: 'پنچم (آر ڈی برمن) نے بہت پہلے واضح کر دیا تھا کہ اگر انھیں موقع ملا تو وہ رفیع کی جگہ کشور کمار کو لائیں گے۔'

'جہاں تک رفیع کی مقبولیت میں کمی کی بات ہے اس کی کچھ وجوہات تھیں۔ جن اداکاروں کے لیے رفیع گا رہے تھے، دلیپ کمار، دھرمیندر، جيتندر اور سنجیو کمار، وہ پرانے پڑ گئے تھے اور ان کی جگہ نئے اداکار لے رہے تھے اور ان کو نئی آوازوں کی ضرورت تھی۔ آر ڈی برمن جیسے موسیقار ابھر کر سامنے آ رہے تھے اور انھیں کچھ نیا کر کے دکھانا تھا۔'

70 کی دہائی کے آغاز میں اکثر موسیقاروں نے محمد رفیع کا ساتھ چھوڑنا شروع کر دیا تھا، سوائے لکشمی کانت پيارے لال کے۔ لکشمی کانت تو اب نہیں رہے، لیکن پيارے لال ضرور ہیں جو کہتے ہیں کہ انھوں نے رفیع کا نہیں، بلکہ رفیع نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔

جانے مانے براڈ کاسٹر امین سیانی محمد رفیع اور لکشمی کانت پيارے لال کے بارے میں ایک دلچسپ کہانی سناتے ہیں۔

سیانی کہتے ہیں: 'ایک بار لکشمی کانت نے مجھے بتایا کہ جب وہ پہلی بار رفیع کے پاس گانا ریکارڈ کرنے کے لیے گئے جو انھوں نے ان سے کہا کہ ہم لوگ نئے ہیں اس لیے ہمیں کوئی پروڈیوسر بہت زیادہ پیسے بھی نہیں دے گا۔ ہم نے آپ کے لیے ایک گیت بنایا ہے۔ اگر آپ اسے گا دیں کم پیسوں میں تو بہت مہربانی ہو گی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ YASMIN K RAFI
Image caption بہو یاسمین کے ساتھ

'رفیع نے دھن سنی۔ انھیں بہت پسند آئی اور وہ اسے گانے کے لیے تیار ہو گئے۔ ریکارڈنگ کے بعد وہ رفیع کے پاس تھوڑے پیسے لے کر گئے۔ رفیع نے پیسے یہ کہتے ہوئے واپس لوٹا دیے کہ یہ پیسے تم آپس میں بانٹ لو اور اسی طرح بانٹ کر کھاتے رہو۔ لکشمی کانت نے مجھے بتایا کہ اس دن کے بعد سے انھوں نے رفیع کی وہ بات ہمیشہ یاد رکھی اور ہمیشہ بانٹ کر کھایا۔'

رفیع بہت دھیمی آواز میں بولنے والے، ضرورت سے زیادہ شائستہ اور میٹھے انسان تھے۔ ان کی بہو یاسمین خورشید بتاتی ہیں کہ نہ تو وہ شراب یا سگریٹ پیتے تھے اور نہ ہی پان کھاتے تھے۔

بالی وڈ کی پارٹیوں میں بھی جانے کا انھیں کوئی شوق نہیں تھا۔ گھر میں وہ صرف دھوتی کرتا ہی پہنتے تھے لیکن جب ریکارڈنگ پر جاتے تھے تو ہمیشہ سفید قمیص اور پتلون پہنا کرتے تھے۔

البتہ انھیں مہنگی گھڑیوں اور فینسی کاروں کا بہت شوق تھا۔ لندن کی گاڑیوں کے رنگوں سے وہ بہت متاثر رہتے تھے لہٰذا ایک بار انھوں نے اپنی فیٹ گاڑی کو طوطے کے رنگ میں سبز رنگوا دیا تھا۔

ایک بار کسی نے مذاق بھی کیا تھا کہ آپ گاڑی کو اس طرح سے سجاتے ہیں جیسے دسہرے میں بیل کو سجایا جاتا ہے۔

رفیع کبھی کبھی پتنگ بھی اڑاتے تھے اور اکثر ان کے پڑوسی منا ڈے ان کی پتنگ کاٹ دیا کرتے تھے۔

ان کے قریبی دوست خيام بتاتے ہیں کہ رفیع صاحب نے کئی بار انھیں اور ان کی بیوی جگجیت کور کو ساتھ کھانے پر بلایا تھا اور ان کے یہاں کا کھانا بہت عمدہ ہوا کرتا تھا۔

رفیع کو باکسنگ کے مقابلے دیکھنے کا بہت شوق تھا اور محمد علی ان کے پسندیدہ باکسر تھے۔

1977 میں جب وہ ایک شو کے سلسلے میں شکاگو گئے تو منتظمین کو رفیع کے اس شوق کے بارے میں پتہ چلا۔ انھوں نے رفیع اور علی کی ایک ملاقات کرانے کی کوشش کی لیکن یہ اتنا آسان کام بھی نہیں تھا۔

لیکن جب علی کو بتایا گیا کہ رفیع بھی گلوکار کے طور پر اتنے ہی مشہور ہیں جتنے وہ باکسر کے طور پر ہیں، تو علی ان سے ملنے کے لیے تیار ہو گئے۔

دونوں کی ملاقات ہوئی اور رفیع نے باکسنگ پوز میں محمد علی کے ساتھ تصویر كھنچوائی۔

تصویر کے کاپی رائٹ YASMIN K RAFI
Image caption محمد رفیع باکسر محمد علی کے بہت بڑے مداح تھے

میں نے راجو بھارتن سے پوچھا کہ کیا رفیع کو ان کی زندگی میں وہ عزت و احترام مل پایا جس کے وہ حق دار تھے؟

بھارتن کا جواب تھا: 'شاید نہیں، لیکن رفیع نے ایوارڈ حاصل کرنے کے لیے کبھی لابی انگ نہیں کی۔ یہ دیکھ کر کہ انھیں صرف پدم شری ہی مل سکا، میں سمجھتا ہوں کہ انھیں اپنا حق نہیں ملا۔ انھیں اس سے کہیں زیادہ ملنا چاہیے تھا۔'

1967 میں جب انھیں پدم شری ملا تو انھوں نے کچھ وقت تک سوچا کہ اسے مسترد کر دیں، لیکن پھر ان کو مشورہ دیا گیا کہ آپ ایک خاص کمیونٹی سے آتے ہیں اور اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو آپ کو غلط سمجھا جائے گا۔ انھوں نے مشورہ مان لیا لیکن انھیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔

راجو بھارتن کہتے ہیں کہ 'اگر وہ پدم بھوشن کا انتظار کرتے تو وہ انھیں ضرور ملتا اور وہ یقینی طور پر اس حق دار بھی تھے۔'

خیال رہے کہ انڈیا کے سویلین اعزازات میں سب سے باوقار بھارت رتن ہے، جس کے بعد علی الترتیب پدم وبھوشن، پدم بھوشن اور سب سے آخر میں پدم شری کا نمبر آتا ہے۔ موسیقی سے تعلق رکھنے والی جن شخصیات کو بھارت رتن مل چکا ہے ان میں لتا منگیشکر، روی شنکر، بھیم سین جوشی، سبھالکشمی اور استاد بسم اللہ خاں شامل ہیں۔ جب کہ آشا بھوسلے کو پدم وبھوشن اور طلعت محمود کو پدم بھوشن مل چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ رفیع کے حریف کشور کمار کو کوئی بھی پدم ایوارڈز نہیں مل سکا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں