’عمو ہمیں آپ پہ بھروسہ صحیح تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ KARACHI VYNZ

سونو کیا تمھیں مجھ پر اعتبار نہیں؟

مراٹھی زبان کا یہ گانا انڈیا کی مختلف زبانوں میں وائرل ہونے کے بعد اب سرحد پار کر کے پاکستان پہنچ چکا ہے۔

تاہم، پاکستان میں اس گانے کا ایک مختلف ورژن دیکھنے میں آیا ہے۔

پاکستان جہاں اس وقت سیاسی صورتحال کشیدہ ہے ایسے میں یہ گانا نواز شریف اور عمران خان کا مذاق اڑانے کے لیے بھی استعمال ہو رہا ہے۔

اس گانے کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے 'عمو ہمیں آپ پر بھروسہ صحیح تھا'

یہ گانا کراچی کے ایک گروپ ’وائنز گروپ‘ نے بنایا ہے۔

یہ گروپ منصور قریشی اور ان کے کچھ دوستوں نے سنہ 2014 میں بنایا تھا۔

بی بی سی ہندی سے گفتگو میں منصور نے بتایا کہ سوشل میڈیا کے ٹرینڈز کو دیکھتے ہوئے وہ مزاح پر مبنی مواد بناتے ہیں۔

انھوں نے 'سونو' کو یو ٹیوب پر سنا انھیں وہ پسند آیا لیکن ان کا گروہ سوچ رہا تھا کہ اسے کیسے استعمال کیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ COPYWRITING

انھیں یہ موقع پاکستانی سپریم کورٹ کی جانب سے ملک کے وزیراعظم کو نااہل قرار دیے جانے کے بعد ملا۔ عمران خان نے پاناما پیپرز کا معاملہ سامنے آنے کے بعد وزیراعظم اور ان کے بچوں کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

اس ویڈیو میں پوری ٹیم ایک سوئمنگ پول میں کھڑی نظر آتی ہے اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو 'عمو‘ کہہ کر پکارا ہے۔

اس کے چند بول کچھ یوں تھے۔

عمو ہمیں آپ پہ بھروسہ صحیح تھا

آپ کا مدعا پھر دیکھو وہی تھا

پیچھے بندہ بھی آپ کے کئی تھا

پی ایم کا پیٹ ہوا گول گول

سونو کے عنوان سے بنایا جانے والا اصل مراٹھی گانا انڈیا کے دارالحکومت ممبئی کی ایک ریڈیو پریزینٹر ملیش نے بنایا تھا اور پھر بعد میں اس گانے کے بہت سے ورژن بنائے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ RED FM INDIA

منصور کہتے ہیں کہ ان کی ٹیم نے ایک گھنٹے میں ہی اس ویڈیو کو بنا لیا تھا۔ ان کی ٹیم کے ایک رکن سلمان خان نے گانا لکھا اور پھر موبائل کیمرے کی مدد سے اسے ریکارڈ کر کے بغیر ایڈیٹنگ کے یو ٹیوب پر ڈال دیا گیا۔

اگرچہ یہ گانا سیاسی تبصرہ لگتا ہے تاہم منصور کا دعویٰ ہے کہ ان کا رحجان کسی بھی جماعت کی جانب نہیں ہے اور یہ صرف مذاح کے لیے ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ عمران خان کے حوالے سے کوئی بھی موضوع بہت جلدی وائرل ہو جاتا ہے، اس لیے انھوں نے اپنے گانے میں بھی انھیں ہی چنا ہے۔ تاہم اس گانے کو پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن دونوں کے حامیوں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔