ہندوستان کی تقسیم پر’میاں، بیوی اور واہگہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Amna Kheshgi

پاکستان میں سٹیج ڈرامے تو بہت ہو رہے ہیں اور کئی مقاصد کے لیے ہو رہے ہیں لیکن دبئی جیسے جدید شہر میں ٹیکنالوجی کُش اور سو فیصد مقامی صلاحیتوں کی بنیاد پر ایک قدرے منفرد ڈرامے کا انتظام پاکستان اور انڈیا کی تقسیم کے 70 سال کے موقع پر کیا جا رہا ہے۔

ڈرامہ مکتوب نویسی کی روایت کو زندہ کرنے کی ایک کوشش بھی ہے۔

صحافیوں، تھیٹر فنکاروں اور فلم سازوں کی کاوش اور خیال دنوں بقول ان کے مقامی پیدائش ہے جو دبئی میں اس سے قبل نہیں دیکھی گئی ہے۔

٭ ’تقسیم کے زخم کی چبھن 70 برس بعد بھی کم نہ ہو سکی‘

٭ ’جاتی عمرہ والوں کا دل شریف خاندان کے لیے دھڑکتا ہے‘

’میاں، بیوی اور واہگہ‘ کے نام سے یہ ڈرامہ دبئی کے دی جنکشن میں دو روز کے لیے گیارہ اگست سے منعقد کیا جا رہا ہے جس میں اردو تھیٹر اور خط نویسی جیسے معدوم ہوتے رجحانات پر روشنی ڈالی جائے گی۔

ٹیکنالوجی کے جدید دور میں مکتوب نویسی قدیم رجحان محسوس ہوتا ہے، لیکن اس سٹیج ڈرامے کے منتظمین کے مطابق یہ ایک ایسا فن ہے جس کی بحالی ضروری ہے، اس لیے نہیں کہ پرانی یادیں تازہ کی جائیں بلکہ مکتوب نویسی، انہیں وصول کرنا اور پڑھنا ایسا احساس ہے جو جدید ٹیکنالوجی کبھی حاصل نہیں کرسکتی ہے۔

’میاں، بیوی اور واہگہ‘ خطوط کے ذریعے زندگی کی اصل کہانیاں بیان کرنے کی ایک کوشش ہے۔ یہ ڈرامہ ان خطوط کی ایک سیریز ہے جو انسانی تجربات اور کمزوریوں کو بیان کرتے ہیں۔

ڈرامہ ایسے ترتیب دیا گیا ہے کہ جو ناظرین کو کہانی بیان کرنے کے ایک ایسے سفر پر لے جاتا ہے جس کے دوران آپ جذبات بھی محسوس کرسکتے ہیں۔

ڈرامہ دراصل میاں اور بیوی کے درمیان کہانی ہے جبکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی مقام واہگہ کہانی بیان کرنے والے ایک انسان کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ واہگہ انہیں خطوط سے ایک گزرگاہ بناتا ہے۔

اس ڈرامے میں شامل تمام خطوط اصل کہانیوں اور تجربات پر مبنی ہیں جو تاریخ میں بسے ہیں لیکن آج کے حالات کے مطابق بھی ہیں۔ ڈرامہ اکثر تفریحی اور بعض اوقات سوچنے پر مجبور کرنے کے انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔

فنکارہ، مصنفہ اور ڈرامہ نویس دھروتی شاہ ڈی سوزہ ’میاں، بیوی اور واہگہ‘ کی ہداہت کارہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان خطوط کے بیان کرنے کے دوران حقائق اور فکشن کے درمیان سرحدیں گڈمڈ ہو جاتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Amna Kheshgi

’میں جہاں پیدا ہوئی وہاں خطوط نویسی اور پوسٹ کارڈز کے حروف ایک کلچر تھے۔ ان خطوط کے ذریعے ہی مجھے دنیا بھر کی معلومات ملتی تھیں۔‘

اس ڈرامے کی شریک مصنفہ آمنہ خیشگی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خطوط نویسی کے فن سے طویل تعلق ہے جس کے خاتمے سے انہیں تکلیف ہوتی ہے۔ ’اسی وجہ سے ہم نے اس ڈرامے کو اپنا وقت اور وسائل دیے ہیں۔‘

آمنہ اس ڈرامے میں بیوی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔

آمنہ دبئی میں مقیم ایک صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ فلم ساز بھی ہیں۔ ان کے پڑ دادا نے پاکستان ہجرت کرنے سے قبل تقسیم ہند سے قبل اردو اور فارسی میں انسائکلوپیڈیا شائع کیا۔ فرہنگ آمارا نامی یہ انسائکلوپیڈیا آج بھی دونوں ممالک میں شائع ہو رہا ہے۔

ان خطوط کے مصنف احتشام شاہد اس پیشکش میں میاں کے طور پر دیکھے جاسکیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کمرے میں ہاتھی ثابت نہیں ہوسکتا۔ ’ہاں ٹیکنالوجی ہر وقت اور ہر جگہ موجود ہے اور ہاں اس کے ذریعے تبادلہ خیال آسان ہوگیا ہے لیکن اس کے خلاف ایک بوریت بھی پیدا ہو رہی ہے۔‘

’یہ موقع ہے سوچنے کا کہ ہم کیا کھو رہے ہیں۔ ہماری نسل اس بیانیے کو تبدیل کرسکتی ہے۔ یہ سوال ہے واپس بنیاد کی جانب لوٹنے کا تاکہ انسانی تعلقات کو استوار کیا جاسکے۔‘

ایواڈ یافتہ شہزاد کلیم اس سٹیج شو کے شریک ہدایات کار ہیں۔ اس میں ماجد ممتاز واہگہ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ جان ڈی سوزا لائیو موسیقی فراہم کرتے ہیں جبکہ ماحہ جمیل، فراز وقار اور رام داس راؤ بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں