شمالی کوریائی کارٹون میں ’امریکہ مخالف‘ پیغام

کارٹون تصویر کے کاپی رائٹ Korea Central TV

شمالی کوریا میں بچوں کے لیے نشر کیے جانے والے ایک کارٹون پروگرام میں دبے لفظوں میں امریکہ مخالف پیغام دیا گیا ہے۔

'دی ہیج ہاگ ڈیفیٹس دی ٹائیگر' نامی یہ کارٹون جنگل میں جانوروں کی زندگی کے متعلق ہے اور اس کی تیاری شمالی کوریا میں ہی کی گئی۔ اس کی کہانی کچھ یوں ہے کہ ایک چھوٹا سا خارپشت اپنی ہوشیاری سے ایک غصیلے شیر کو شکست دے دیتا ہے۔

لیکن شمالی کوریا کے حیران کن ذرائع ابلاغ میں بظاہر کچھ ایسے ہی نہیں ہوتا، یہ پروگرام کورین سینٹرل ٹیلی وژن پر بچوں کے لیے مختص وقت میں نشر کیا گیا اور ایسا ظاہر ہوتا ہے جیسے اس میں پیانگ یانگ اور واشنگٹن کے درمیان حالیہ کشیدگی کی عکاسی کی گئی تھی۔

ایک علاقائی لوک کہانی پر مبنی اس کارٹون میں جنگل میں رہنے والے دوستوں کا سردار ایک خرگوش ہوتا ہے جس کے بازو میں سرخ پٹی بندھی ہے اور اس کا سامنا ایک مغرور شیر سے ہوتا ہے جو انھیں اپنے زیرعتاب رکھنا چاہتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Korea Central TV

لیکن ایک چھوٹا سا تیز طرار خارپشت ایک گولے کی شکل اختیار کرتے ہوئے اپنا دفاع کرتا ہے اور شیر کی ناک پر کانٹے گاڑھ دیتا ہے۔ شیر بھاگ جاتا ہے اور وہ جانور جو شروع میں شیر کے ساتھ تھے وہ بھی چھوٹے خارپشت کی بہادری کے معترف ہو جاتے ہیں۔

یہ کارٹون شاید کبھی کسی کی توجہ کا مرکز نہ بنتا اگر سرکاری خبررساں ادارے کے سی این اے میں اس سے متعلق ایک مضمون نہ شائع ہوتا جس میں اس کارٹون پروگرام کی تعریف کی گئی، جس میں نارنجی شیر شاید امریکہ تھا، اور دیگر جانور دنیا کے دیگر ممالک اور بہادر اور خطرناک خارپشت کو شمالی کوریا کے طور پر پیش کیا گیا۔

’امریکہ آپے سے باہر ہونے سے پرہیز کرے‘ کے عنوان سے لکھے گئے مضمون میں پکچینگ تھرمل پاور کمپلیکس کے ایک کارکن کم جونگ سن نے کے سی این اے کو بتایا کہ امریکہ کی شمالی کوریا کے بارے میں 'جہالت' سے انھیں 'دی ہیج ہاگ ڈیفیٹس دی ٹائیگر' کی یاد آتی ہے۔

ماضی میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے سرکاری نشریاتی اداروں کو بچوں کے لیے معیاری ٹی وی پروگراموں کی تشکیل کی ہدایات دی تھی، جو کہ نوجوانوں کو ملک کے ساتھ جوڑ سکیں۔ حالیہ کارٹون پروگرام اسی سلسلے کی ایک کڑی دکھائی دیتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Korea Central TV

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں