سوشل میڈیا پر افغان گلوکارہ کو دھمکیاں اور نیک تمنائییں

تصویر کے کاپی رائٹ Aryana Sayeed/Facebook

افغانستان کے یوم آزادی کے موقع پر ملک کی مشہور گلوکارہ، نغمہ نگار آریانا سید نے کنسرٹ کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن اُن کے اس اقدام سے ہر کوئی خوش نہیں ہے۔

روائتی طور پر افغانستان کے قدامت پرست معاشرے میں خواتین کے لباس ہر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ مغربی طرز کے لباس اور سر کھلا رکھنا روایات کے مخالف تصور کیا جاتا ہے۔

ایسے میں افغان گلوکارہ آریانا سید نے فیس بک پر اپنی پرفارمنس براہ راست نشر کی۔ آٹھ منٹ کی اس ویڈیو پر عوام نے ملے جلے خیالات کا اظہار کیا۔

فیس بک پر انھیں تقریباً 19 لاکھ افراد فالو کرتے ہیں اور ایک دن میں اُن کی یہ ویڈیو ایک لاکھ 19 ہزار مرتبہ دیکھی گئی۔

فیس بک پر بعض افراد نے اُن کی تعریف کرتے ہوئے اُن کی حوصلہ افزائی کی جبکہ بعض نے اُن کی بے عزتی کرتے ہوئے کہا کہ کنسرٹ کے دوران دھماکہ بھی ہو سکتا ہے۔

فیس بک پر ایک صارف امید احمدی نے لکھا کہ ’ہم آپ کی مدد کرتے ہیں اور آپ کا یہ کنسرٹ غلط سوچ رکھنے والوں کے لیے مکا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Aryana Sayeed

زینت امیری نے لکھا کہ ’میں امید کرتی ہوں کہ آپ کا کنسرٹ خیریت سے گزر جائے اور خدا آپ کے ساتھ ہے۔‘

ساحل سیریت نے لکھا کہ ’یہ درحقیقیت ایک کنسرٹ نہیں بلکہ آزادی، تشدد اور انصاف کے لیے جدوجہد ہے.‘

اگرچہ گلوکارہ کے مخالفین نے اُن پر ’لوگوں کو گمراہ‘ کرنے کا الزام عائد کیا۔

بعض افراد نے اُن کے کنسرٹ پر خودکش حملے کے امکان کو ظاہر کیا جبکہ بعض نے ان سے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے انھیں ملک سے باہر جانے کو کہا۔

آریانا سید نے افغانستان سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کنسرٹ سے آنے والی آمدن جنگ سے متاثر افراد پر خرچ کی جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Aryana Sayeed/Facebook
Image caption آریانا سید کا کہنا ہے کہ اُن کا کنسرٹ منسوخ نہیں ہوا ہے

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے جب سوشل میڈیا پر انھیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ افغانستان کے مذہبی حلقوں کی جانب سے اُن کے لباس کو غیر اسلامی اور روایات کے برعکس قرار دینے کے بعد انھوں نے ایک کنسرٹ کے دوران جلد کی رنگت سے ملتا جلتا لباس جلا دیا تھا۔

آریانا سید اب انگلینڈ میں مقیم ہیں اور وہ اپنے آزاد خیالات اور مغربی لباس کی وجہ سے کافی شہرت رکھتی ہیں۔ انسٹا گرام پر ان کے ڈھائی لاکھ سے زیادہ فلورز ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Aryana Sayeed/Facebook
Image caption آریانا فیس بک اورانسٹاگرام پر اپنی تصاویر پوسٹ کرتی ہیں

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں