کیا لوگوں کے مزاج اور پسند بدل رہی ہے؟

اکشے کمار تصویر کے کاپی رائٹ HYPE PR
Image caption اب فلمیں پہلے کی طرح سوئٹزر لینڈ کے مناظر سے نہیں بلکہ موضوعات کی اہمیت سے چلتی ہیں اور ہٹ ہورہی ہیں

کیا بالی وڈ میں ٹرینڈ بدل رہا ہے، اس وقت زیادہ تر لوگوں کی زبان پر یہی سوال ہے اور جس کا جواب بھی شاید ہاں ہے۔

ایک طویل عرصے سے بالی وڈ کی فلمیں سوئٹزرلینڈ کے برف سے ڈھکے حسین پہاڑیوں کے درمیان شفون کی ساڑھی میں لپٹی خوبصورت ہیروئن اور ہیرو کے رومانٹک گانوں یا نیو یارک کی بلند ترین عمارتوں کے درمیان ایکشن کے مناظر کے ساتھ انڈیا کی مڈل کلاس آبادی کو خوابوں کی دنیا میں لے جاتی رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK - BADRINATH KI DULHANIYA
Image caption فلم بدری ناتھ کی دلہنیا میں عالیہ بھٹ

لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب لوگوں کی پسند اور مزاج دونوں بدل رہے ہیں۔ آج فلم 'بدری ناتھ کی دلہنیا'، 'جولی ایل ایل بی' اور ٹوائلیٹ ایک پریم کتھا جیسی فلمیں کروڑوں کا کاروبار کر رہی ہیں جن میں چھوٹے شہروں اور قصبوں کے لوگوں کی کہانیاں، ان کے مسائل اور جذبات کی عکاسی کی جا رہی ہے اور ان موضوعات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو شاید حقیقی ہیں اور اسی لیے لوگوں کے دلوں کو چھو رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ SPICE PR
Image caption اداکارہ کیرتی سنان نے فلم بریلی کی برفی میں اپنی اداکاری کے جلوے بکھیرے

حال ہی میں اداکار راج کمار راؤ، کیرتی سنان اور ایوشمان کھرانہ کی فلم 'بریلی کی برفی' دیکھنے کا اتفاق ہوا تو معلوم ہوا کہ بریلی میں جھمکے کے علاوہ کچھ اور بھی ہے اور شاید فلمسازوں کو بھی یہ بات سمجھ میں آ چکی ہے جو اب سوئٹزر لینڈ اور لندن جیسی دل موہ لینے والی لوکیشنز کے بجائے انڈیا کے چھوٹے چوٹے شہروں اور دیہاتوں میں کہانیاں ڈھونڈنے لگے ہیں۔

یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ سینیما تھیئٹر تک لوگوں کی بھیڑ کھینچ کر لانے کے لیے اب پڑے پردے پر بڑے بڑے ستاروں کا جمگھٹا لگانے کی کوئی ضرورت نہیں۔

Image caption کسی بھی حساس موضوع پر بولنے یا لکھنے سے ٹوئنکل کھنہ کو بھلا کون روک سکتا ہے

کسی بھی حساس موضوع پر بولنے یا لکھنے سے ٹوئنکل کھنہ کو بھلا کون روک سکتا ہے اب چاہے سوشل میڈیا پر فعال لوگوں کو ان کی بات پسند آئے یا نہیں یہ اور بات ہے کہ ٹوئنکل کا انداز تحریر کچھ ایسا ہوتا ہے کہ لوگ محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہ پاتے۔

انڈیا میں تین طلاق کے حوالے سے عدالت کے فیصلے پر ہر سمجھدار اور ناسمجھ نے اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق رائے دینے کی کوشش کی اور ظاہر ہے کہ سوشل میڈیا پر طبع آزمائی کون نہیں کرنا چاہتا۔ پھر کیا تھا بھانت بھانت کے لوگوں نے اس فیصلے کے حق میں رائے دینے کی کوشش کی جن میں ہمیشہ کی طرح فلمساز مدھر بھنڈارکر اور انوپم کھیر جیسے بڑے لوگ بھی شامل تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انوپم کھیر کا شمار انڈیا کے نامور فنکاروں میں ہوتا ہے

انوپم جی فرماتے ہیں کہ یہ عورتوں کے حقوق کی جیت ہے پتہ نہیں گودھرا اور گجرات فسادات کے دوران انوپم جی نے اپنے اعلیٰ خیالات کا اظہار کیوں نہیں کیا، شاید اس لیے کہ اس وقت ٹوئٹر نہیں تھا۔ مدھر بھنڈارکر کا کہنا ہے کہ یہ عورتوں کو با اختیار بنانے کے سلسلے کا آغاز ہے۔ مدھر کی بات سمجھ میں آتی ہے کیونکہ یہ ان فلمسازوں کی فہرست میں سب سے آگے ہیں جو اپنی فلموں میں حقیقت کے نام پر بِلاوجہ عورتوں کی مبینہ آزادی کی کھل کر نمائش کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ HYPE PR
Image caption اکشے کمار کی فلم ٹوائلٹ ایک پریم کتھا باکسں آفس پر کامیاب ہو رہی ہے

اکشے کمار کی فلم ٹوائلٹ ایک پریم کتھا باکسں آفس پر کامیاب ہو رہی ہے۔ فلم نے پہلے ہی ہفتے میں 96 کروڑ سے زیادہ کی کمائی کی۔ فلم کی کامیابی اکشے کمار کے ساتھ ساتھ شاید اس کا موضوع بھی ہے۔ سو کروڑ کا بزنس کرنے والی یہ اکشے کی آٹھویں فلم ہے۔ حال ہی میں عامر خان نے درست ہی کہا تھا کہ سپر سٹارز کے حوالے سے میڈیا صرف تین خانوں کا ذکر ہی کیوں کرتا ہے اکشے جیسے ہیرو بھی ہیں جنھوں نے انڈسٹری کو کامیاب اور اچھی فلمیں دی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں