نو سالہ بچے کی دگنی عمر کی لڑکی سے محبت پر مبنی ڈرامے کی بندش

A still from Pehredaar Piya Ki تصویر کے کاپی رائٹ Sony TV

انڈیا میں اس ٹی وی ڈرامے کو ناظرین کی تنقید کی بعد بند کر دیا گیا ہے جس میں ایک نو سالہ بچے کی 19 سالہ لڑکی سے محبت دکھائی گئی ہے۔

ناقدین کا کہنا تھا کہ یہ ڈرامہ رجعت پسندی پر مبنی ہے اور یہ کم عمری یا بچوں کی شادیوں کو فروغ دے گا۔

بی بی سی کی گیتا پانڈے نے جاننے کی کوشش کی ہے کہ اس ڈرامے پر انڈین شہری اتنے ناراض کیوں ہوئے۔

منگل کو ایک بیان میں اس ڈرامے ’پہرےدار پیا کی‘ کی نشریات منسوخ کرنے کے بارے میں بتایا گیا۔

چینل نے اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی کہ اسے کیوں بند کیا گیا ہے۔ یہ شو جولائی کے وسط میں شروع ہوا تھا اور اسے اپنی ’غیر معمولی داستانِ محبت‘ کی وجہ سے کافی منفی ردِ عمل کا سامنا کرنا پڑا۔

* 'کچن کی سیاست' سے بھرے ٹی وی سیریل

اس شو کی مشکلات کا آغاز ممبئی کی ایک غیر سرکاری تنظیم جے ہو فاؤنڈیشن کی وجہ سے ہوا جس نے اس شو کو ’غیر مہذب‘ اور ’بچوں کے لیے غیر موزوں‘ قرار دے کر اس پر پابندی کا مطالبہ کیا۔ اس کے خلاف سوشل میڈیا پر بھی کافی ردِ عمل سامنے آیا۔

اس ڈارمے کے آغاز ہی میں ایک امیر شاہی گھرانے کے چشم و چراغ شہزادہ رتن کنور کی نظر نوجوان لڑکی دیا پر پڑتی ہے اور اسے پہلی نظر میں ہی محبت ہو جاتی ہے۔

وہ اس کا پیچھا کرتا ہے، اس کی تصاویر بناتا ہے اور اسے ایک لال بیگ سے بچاتا ہے۔ جواباً وہ اس کا شکریہ ادا کرتی ہے، اس کے گال کھینچ کر اس پر بوسہ کرتی ہے اور اس کی جانب سے شادی کی پیش کش پر ہنسی مذاق میں ہاں کر دیتی ہے۔

اس کے علاوہ ایک موقعے پر وہ لڑکی اس کی جان بھی بچاتی ہے اور کہتی ہے ’میں تمہیں نقصان نہیں پہنچنے دوں گی۔‘

اس لڑکی کا وعدہ شہزادے کے والدین کے لیے خوشی کا پیغام بن جاتا ہے جو اپنے بیٹے کو نقصان پہنچانے کی تاک میں رہنے والے اپنے رشتے داروں کی بری نظروں سے خائف تھے۔

ان کی یہ پریشانی بےجا نہیں ہوتی کیونکہ یہ رشتے دار ایک حملے میں شہزداے کی ماں کو قتل کر دیتے ہیں جبکہ اس کے والد بری طرح زخمی ہو جاتے ہیں۔ رتن کے والد بسترِ مرگ پر دیا سے وعدہ لیتے ہیں کہ وہ ان کی بیٹے سے شادی کرے گی کیونکہ صرف وہی ہے جو اس کی حفاظت کر سکتی ہے۔

شروع کی چند اقساط پر عوامی رائے منقسم تھی۔

صحافی میگھا ماتھر نے بی بی سی کو بتایا کہ ناقدین کا کہنا ہے بچہ عجیب حرکتیں کرتا ہے اور لڑکی کا پیچھا کرتا ہے جبکہ دوسرے لوگ اس ڈرامے میں 18 سالہ لڑکی کی تعریف کرتے ہیں جو نہ صرف با اختیار ہے بلکہ فیصلے کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sony TV

ان کا مزید کہنا تھا ’بہرحال مجھے وہ بچہ عجیب بالکل نہیں لگا۔ ‘

’اور انڈیا جیسے ملک میں یہ بات عجیب بھی نہیں ہے جہاں بچوں کو کم عمری میں ہی بتا دیا جاتا ہے کہ انہیں ایک نہ ایک دن شادی کرنی ہی ہے اور یہ بات بھی عام ہے کہ وہ چھوٹے بچے لڑکے لڑکیوں کو دیکھ کر والدین کو بتاتے ہیں کہ وہ بڑے ہو کر ان سے شادی کریں گے۔ ‘

صحافی میگھا ماتھر کے مطابق ’پانچویں قسط کے بعد نو سالہ بچے کا رویہ ایک بالغ شخص کی طرح ہو جاتا ہے اور میرا خیال ہے کہ یہی وہ مقام تھا جب یہ ڈرامہ پلاٹ سے ہٹ گیا۔‘

اس ڈرامے کے خلاف شکایت کرنے والی تنظیم کا کہنا تھا ’ایک بچہ اپنے سے دگنی عمر کی لڑکی سے محبت چاہتا ہے اور اس کا پیچھا کرتا ہے اور اس کے بعد اس کے ساتھ ایک جنسی نوعیت کا رشتہ قائم کرتا ہے۔‘

انڈیا کی وزیرِ اطلاعات سمرتی ایرانی کو لکھے گئے خط میں تنظیم کا کہنا تھا ’ایک جنسی رشتے کو پیش کرنے کے لیے ایک بچے کو غیر مہذب اور فحش انداز میں پیش کیا گیا۔‘

ویب سائٹ چینج ڈاٹ او آر جی پر سمرتی ایرانی کو مخاطب کر کے پوسٹ کی گئی پٹیشن پر ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں نے دستخط کیے تاکہ اس شو کے خلاف کارروائی کی جائے۔

انڈیا میں نشریاتی مواد سے متعلق شکایات کی کونسل نے پہلے تو اس شو کے اوقات تبدیل کرنے کا حکم دیا جس کے بعد یہ ساڑھے آٹھ سے رات ساڑھے دس بجے دکھایا جانے لگا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ وضاحت بھی نشر ہونے لگی کہ ’ہم بچوں کی شادی کی حمایت نہیں کرتے۔‘

ڈرامہ بنانے والوں کا کہنا تھا کہ آئندہ چند اقساط میں بچے کو بڑا ہوتے دکھایا جائے گا اور اس کی عمر 21 برس کر دی جائے گی۔

لیکن ناقدین کے لیے اتنا ناکافی تھا۔ جے ہو فاؤنڈیشن کے صدر افروز ملک کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا ’کوئی بھی یہ وضاحت نہیں پڑھتا‘۔

ان کا مزید کہنا تھا ’یہ نوجوان جوڑا ہنی مون پر جانے والا ہے۔ یہ سہاگ رات کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ یہ ایک بچے کی صحیح عکاسی نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس کے خلاف عدالت میں جائیں گے۔

لیکن شاید اب کی ضرورت نہیں رہی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں