’ورنہ‘ فل بورڈ ریویو کے بعد ضرور لگائی جائے گی: مریم اورنگزیب

ماہرہ خان تصویر کے کاپی رائٹ VERNA
Image caption ماہرہ خان کی فلم 'ورنہ' 17 نومبر کو ریلیز ہو رہی ہے

وزیرِ مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نے پاکستانی فلم 'ورنہ' پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں کی ہے اور صرف اس فلم کے فُل بورڈ ریویو کے لیے کہا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'آج ہی اس فلم کا فُل بورڈ ریویو ہو جائے گا جس کے بعد فلم لگائی جائے گی اور ضرور لگائی جائے گی۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر حکومت کے خلاف بےبنیاد پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ 'اس فلم میں حکومت کو نشانہ بنایا گیا ہے اس لیے اس فلم پر پابندی عائد کی گئی ہے۔'

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ 'ورنہ' کے لیے فُل بورڈ ریویو کے عمل کو تیز کیا گیا ہے۔

’عموماً اس کام میں 15 دن تک لگتے ہیں جبکہ اس معاملے میں ہم نے صرف دو دن لیے ہیں اس لیے اس ضمن میں کیا جانے والا پروپیگنڈا بھی درست نہیں ہے۔‘

یہ بھی پڑھیں

وفاقی سینسر بورڈ کا 'ورنہ' کو نمائش کی اجازت دینے سے انکار

٭ شعیب منصور اور ماہرہ کی ’ورنہ‘ کا انتظار

٭ ’عورت بیوی، بہن، بیٹی کے علاوہ انسان بھی تو ہے`

٭ ماہرہ خان: کبھی کبھی چپ رہنے میں زیادہ طاقت ہوتی ہے

انھوں نے بتایا کہ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ 'ورنہ' بھی کسی دوسری عام فلم کی طرح ہی ایک فلم ہے اور اس نے بھی سینسر کے عمل سے گزرنا ہے۔

وزیرِ مملکت نے وضاحت کی کہ سینسر بورڈ میں سول سوسائٹی کے نمائندے بھی ہوتے ہیں اور انھوں نے فلم پر اعتراض اٹھایا ہے حکومت نے نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سینسر بورڈ میں معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہوتے ہیں اور یہ ان کی بھی رائے پر مبنی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس فلم میں گورنر پنجاب پر بطور خاص کوئی اعتراض نہیں اٹھایا گیا۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اس فلم کا جو موضوع ہے وہ تو ہم روز اپنے ٹی وی پر دیکھتے ہیں اور اس میں کچھ نیا نہیں ہے جس سے حکومت پریشان ہو۔ اس لیے اس وجہ سے یہ فلم ہرگز سینسر یا پابندی کا شکار نہیں ہو گی۔

Image caption وزیرِ مملکت نے وضاحت کی کہ سینسر بورڈ میں سول سوسائٹی کے نمائندے بھی ہوتے ہیں اور انھوں نے فلم پر اعتراض اٹھایا ہے حکومت نے نہیں

انھوں نے کہا کہ سینسر بورڈ کا ایک آزاد عمل ہے اور اس سے گزر کر یہ فلم سنیما میں لگ سکتی ہے۔

انھوں نے وضاحت کی کہ سندھ اور پنجاب کے سینسر بورڈز نے اپنے سینسر سرٹیفیکیٹ جاری نہیں کیے ہیں اور وہ بھی مرکزی سینسر بورڈ کا انتظار کر رہے ہیں۔

اس سوال پر کہ جب صوبائی سینسر بورڈز مرکز کے قانونی طور پر پابند نہیں ہیں تو پھر وہ مرکز کی جانب کیوں دیکھتے ہیں تو وزیرِ مملکت کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبے کا بھی اختیار ہے۔

’تاہم ملک میں ایک نظام ہے اور ملک میں ایک ہی قطار میں چلنا ہوتا ہے اور یہ ایک سرکاری عمل کا حصہ ہے جس پر بلاوجہ نکتہ چینی نہیں کرنی چاہیے، جس طرح دنیا بھر میں مرکزی اور صوبائی سینسر بورڈز ہوتے ہیں ویسے ہی پاکستان میں بھی اس کا ایک طریقۂ کار ہے۔‘

اس سوال پر کہ اگر مرکزی سینسر بورڈ کے راستے پر ہی سب نے چلنا ہے تو پھر تین سینسر بورڈز کی ضرورت کیا ہے ان کا کہنا تھا کہ اس وقت بہتر ہے کہ نظام کو چیلنج نہ کیا جائے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں