’فحاشی کو ہوا دینے‘ پر گلوکارہ کو دو سال قید

25 سالہ شائمہ احمد کو گذشتہ ماہ فحاشی پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ مصری معاشرہ قدرے قدامت پسند ہے۔ تصویر کے کاپی رائٹ SHYMA
Image caption 25 سالہ شائمہ احمد کو گذشتہ ماہ فحاشی پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ مصری معاشرہ قدرے قدامت پسند ہے۔

اطلاعات کے مطابق مصر کی عدالت نے ایک گلوکارہ کو ’فحاشی پھیلانے کے جرم‘ میں دو سال قید کی سزا سنائی ہے۔

25 سالہ شائمہ احمد کو گذشتہ ماہ گرفتار کیا گیا تھا۔ اس گرفتاری کی وجہ وہ میوزک ویڈیو بنی جس میں وہ صرف ایک زیر جامہ پہنے دکھائی دیں اور جس میں انھوں نے ایک کیلا معنی خیز انداز میں کھایا۔

یہ بھی پڑھیے

گلوکارہ ’فحاشی پھیلانے‘ پر زیرِحراست

انٹرنیٹ، خواتین اور بلیک میلنگ

’اخلاق خراب کرنے‘ کا جرم، مصری اینکر کو تین سال قید

انٹرنیٹ، خواتین اور بلیک میلنگ

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ منگل کے روز شائمہ احمد کو ’فحاشی کو ہوا دینے‘ اور ’ایک غیر مہذب فلم نشر کرنے‘ کے الزامات میں قصوروار پایا گیا۔

اس ویڈیو کے ڈائریکٹر کو بھی دو سال قید کی سزا سنائی گئی ہے تاہم وہ اس وقت عدالت میں موجود نہیں تھے۔

گرفتاری سے قبل شائمہ اپنی اس ویڈیو کے حوالے سے عوامی سطح پر معافی مانگ چکی ہیں۔ اس ویڈیو میں انھوں نے نغمہ 'میرے مسائل ہیں' گایا تھا جس سے مصر کے قدامت پرست شہریوں نے برہمی کا اظہار کیا۔

انھوں نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا 'میں تصور بھی نہیں کر سکتی تھی کہ یہ کچھ ہو گا، اور مجھے ہر کسی کی طرف سے اس قدر سخت حملے کا نشانہ بنایا جائے گا۔' بعد میں انھوں نے یہ پیج حذف کر دیا۔

اس ویڈیو میں شائمہ ایک کمرۂ جماعت میں کئی نوجوان لڑکوں کے ساتھ نظر آتی ہیں۔

وہ تختۂ سیاہ کے سامنے کھڑی ہیں جس پر Class #69 لکھا ہوا ہے، اس کے بعد وہ جنسی طور پر معنی خیز انداز میں کیلا کھاتی ہیں۔

اس منظر کے دوران ان کی تصاویر دکھائی جاتی ہیں جن میں انھوں نے شب خوابی کا لباس پہن رکھا ہے۔

یوم الصبا اخبار نے اس ویڈیو نشر ہونے کے اگلے دن لکھا: 'شائمہ نوجوانوں کو اوباشی کا سبق دے رہی ہیں۔'

پچھلے سال مصری عدالتوں نے چھ رقاصاؤں کو میوزک ویڈیوز میں فحاشی کے الزام میں چھ چھ ماہ قید کی سزا دی تھی۔

اس کے علاوہ ایک اور گلوکار پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے جنھوں نے کہا تھا کہ دریائے نیل کا پانی انھیں بیمار کر دیتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں