سلمیٰ ہائک: وائنسٹین نے دھمکی دی کہ اگر سیکس سین نہ کیا تو فلم بند کروا دوں گا

سلمیٰ ہائک تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سلمیٰ ہائک کے مطابق وائنسٹین نے انھیں مارنے کی بھی دھمکی دی تھی

اداکارہ سلمیٰ ہائک نے ہالی وڈ کے پروڈیوسر ہاروے وائنسٹین کو ’غصے سے بھرا جانور‘ کہا ہے اور الزام لگایا ہے کہ وائنسٹین نے انھیں جنسی ہراس کا نشانہ بنایا اور دھمکیاں دیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے لیے لکھتے ہوئے ہائک نے کہا کہ وائنسٹین نے ایک بار ان سے کہا ’میں تمہیں مار ڈالوں گا۔ یہ مت سمجھنا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا۔‘

یہ بھی پڑھیے

Metoo# مونیکا لیونسکی نے کس تجربے کی بات کی

’سیکس کے بدلے کام کی پیشکش ہوئی تھی‘

یاد رہے کہ درجنوں اداکاراؤں بشمول روز میک گاون، گیونتھ پالٹرو اور اینجلینا جولی نے وائنسٹین پر جنسی ہراس کا الزام عائد کیا ہے تاہم وائنسٹین نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

51 سالہ سلمیٰ ہائک نے نیویارک ٹائمز میں لکھا ہے کہ وائنسٹین کے ساتھ میکسیکو کی مشہور آرٹسٹ فریڈا کاہلو کی زندگی پر فلم میں کام کرنا ایک بہت بڑی خواہش تھی۔

وائنسٹین کے ساتھ اس فلم کے حقوق حاصل کیے۔ تاہم اس کے بعد میری باری تھی کہ میں ’نہ‘ کہوں۔

’اس کے ساتھ نہانے پر نہ کہوں‘

’میں جب نہا رہی ہوں تو اسے دیکھنے نہیں دوں‘

’اسے اپنی مالش نہ کرنے دوں‘

’اس کے برہنہ دوست کو اپنی مالش نہ کرنے دوں‘

’میرے ساتھ سیکس کرنے پر نہ کہوں‘

’کسی اور عورت کے ساتھ اس کے لیے برہنہ ہونے پر نہ کہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سلمیٰ ہائک نے وائنسٹین پر مزید الزام لگاتے ہوئے لکھا ہے کہ وائنسٹین نے کہا کہ اگر ایک اور اداکارہ کے ساتھ سیکس سین نہیں کیا تو فلم بند کروا دوں گا۔

فلم میں ایک سین سے قبل جو ان کے خیال میں غیر ضروری تھا کے بارے میں سلمیٰ نے لکھا ’مجھے اس سین سے قبل نیند کی گولی کھانی پڑی جس سے میرا رونا تو بند ہو گیا لیکن مجھے قے آنے لگی۔‘

انھوں نے مزید لکھا ’آپ سوچ سکتے ہیں کہ یہ سیکسی نہیں تھا لیکن اس نیند کی گولی ہی سے میں سین کر پائی۔‘

یاد رہے کہ فریڈا فلم چھ کیٹیگریز میں آسکر کے لیے نامزد ہوئی تھی جس میں بہترین اداکارہ کی کیٹیگری بھی تھی۔

اسی بارے میں