انا ہزارے حراست، فلمی ستاروں کی ناراضگی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گاندھی کے ملک میں ایسا ہونا شرمناک ہے:اداکارہ بھاگیشری

انا ہزارے کو حراست میں لیے جانے پر ردعمل ناصرف ان کی حامیوں بلکہ بھارتی فلمی صعنت کی جانب سے سامنے آیا ہے۔

ممبئی کی فلمی صعنت یا بالی وڈ کے اداکاروں نے انا ہزارے کی گرفتاری پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

اداکار اور ہدایت کار فرحان اختر کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاری غیر آئینی ہے اور آمرانہ سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔

انا کی گرفتاری اور احتجاج: تصاویر

شاعر جاوید اختر نے کہا کہ ان کے انا کے طریقۂ کار سے متعلق چند تحفظات تھے لیکن وہ حراست کی مذمت کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ غیرجمہوری عمل ہے لہذٰا نا قابل قبول ہے۔ ان کی بیوی اور مشہور اداکارہ شبانہ عظمی نے کہا کہ احتجاج کرنا جمہوری حق ہے اور وہ اس گرفتاری کی مذمت کرتی ہیں۔

ہدایت کار پونیت ملہوترا نے بھی انا ہزارے کی حمایت کی دوبارہ تجدید کی ہے جبکہ اداکار رنویر شورے نے کہا کہ حکومت کو شرمندہ ہونا چاہیے۔

اداکارہ بھاگیشری نے کہا کہ گاندھی کے ملک میں ایسا ہونا شرمناک ہے۔

انوپم کھیر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں انا کی گرفتاری کو بھارتی جمہوریت کے لیے افسوسناک دن قرار دیا ہے۔

گلوکار ویشال ددلانی نے کہا کہ اس اقدام سے حکومت آمرانہ اور انا ہزارے شہید بند گئے ہیں اور اداکارہ دیا مرزا نے کہا کہ حکومت نے انا ہزارے کو زیادہ بڑا ہیرو بنا دیا ہے۔

معروف گلوکار سونو نگم کا کہنا تھا کہ بھارت میں نئی تاریخ لکھی جا رہی ہے اور یہ دلچسپ وقت ہے۔

اداکارہ بپاشا باسو نے انا ہزارے کی حمایت کرتے کہا کہ اس طرح ہی بدعنوانی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے جو ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔

اسی بارے میں