اردو میں کیسا لکھا جا رہا ہے؟

تسطیر تصویر کے کاپی رائٹ

نام کتاب: تسطیر (سہ ماہی)

خصوصی شمارہ (جنوری تا جون)

مدیر: نصیر احمد ناصر

صفحات: 656

قیمت: چار سو روپے

ناشر: نصیر احمد، اے، شادمان کالونی، جیل روڈ۔ لاہور۔ رابطہ: tasteer@hotmail.com

گزشتہ دو تین ماہ کے دوران میرا تو یہ احساس ختم ہو گیا ہے کہ پاکستان میں لکھا نہیں جا رہا لیکن کیسا لکھا جا رہا ہے، اس بارے میں کم از کم لکھنے والوں کو بڑی خوش امیدی ہے۔ پھر بھی ان کے پاس پڑھنے والوں کے اس سوال کا جواب نہیں ہے کہ جو دور سعادت حسن منٹو، راجندر سنگھ بیدی، فیض احمد فیض اور منیر نیازی پر ختم ہوتا ہے اس کے بعد اب کس کا دور ہے؟ ایک خاموش سا اضطراب ہے جیسا شاید پرانے زمانوں کی ایسی بادشاہتوں میں ہوتا تھا جن کے حکمراں کوئی ولی عہد چھوڑے بغیر ہی گزر جاتے تھے۔ اگر وہ زمانہ ہوتا تو یقیناً پاکستان کے اردو پڑھنے لکھنے والے شہر پناہ کے دروازے پر جا کھڑے ہوتے اور صبح سویرے سب سے پہلے جو بھی شہر میں داخل ہوتا اسے شاہ ادیب یا صاحبِ عصر ادیب مان لیتے۔

لیکن اب ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ ایک تو مذکورہ طریقہ کہانیوں کا حصہ ہے اور پھر ادب کا معاملہ سیاست سے بھی کچھ ٹیڑھا ہے۔ ادب میں صرف ہر سیر ہی سوا سیر نہیں ہوتا، چھٹنکیاں بھی خود کو کم نہیں سمجھتیں لیکن یہی انّا وہ ہے جو لکھنے اور لکھتے رہنے پر آمادہ کیے رہتی ہے۔

شاید پہلے کبھی ضرورت نہ ہوتی ہو لیکن اب تو ادب میں پڑھنا بنیادی شرط ہے تا کہ ہر لکھنے والے کو یہ علم رہے کہ اسے کیا نہیں لکھنا۔ یعنی کیا ہے جو لکھا جا چکا ہے اور کیسے کیسے لکھا جا چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption وزیر آغا اردو کے نامور ادیب، نقاد اور شاعر ہیں وہ ادبی جریدہ اوراق کے مدیر تھے۔

ادب کا مقصد انسان اور اس کے خارج اور باطن کا جمالیاتی اظہار ہے لیکن کیا کیا جائے کہ انسان تمام تر تہذیبی، جغرافیائی، ثقافتی اور لسانی تقسیموں کے باوجود خارجی اور باطنی مسائل کی تکرار کا شکار ہے۔ شاید اسی سے ادب میں مختلف اسلوبوں، پیرایوں اور نظریوں کی گنجائش پیدا ہوئی اور باقی رہے گی۔

تسطیر کے مدیر نصیر احمد ناصر نے ادبی نظریے کے عنوان سے لکھے جانے والے اداریے میں اس معاملے کو یہ کہہ کر نمٹایا ہے کہ ’۔ ۔ ۔ وغیرہ وغیرہ، یہ سب ادب کے ایک بڑے درخت کی نظریاتی شاخیں ہیں‘۔ لیکن زیادہ دلچسپ بات وہ ہے جس پر انہوں نے اداریہ ختم کیا ہے کہ ’اگر کسی تحریر میں ادبیت نہیں تو وہ ادب نہیں چاہے وہ زندگی سے متعلق ہو یا کسی غیر مرئی دنیا کے بارے میں ہو‘۔

دیکھیے ادیب ہونا کتنا آسان ہے۔ ایسی چیز لکھیے جس میں ادبیت ہو اور ادیب بن جائیے لیکن بھول نہ جائیے گا، نصیر ناصر نے ابھی آپ کو یہ نہیں بتایا کہ یہ ’ادبیت ‘ کیا ہے اور تحریر میں کیسے پیدا کی جا سکتی ہے۔

میرے خیال میں نصیر احمد ناصر کے حوالے سے تو اس کا حل یہ ہے کہ آپ ان کی ادارت میں شایع ہونے والے رسالے اور ان کی شاعری پڑھیے اور دیکھ لیجیے کہ تحریروں میں ادبیت کیسے ظہور کرتی ہے۔

انہوں نے آپ کی سہولت کے لیے تسطیر کے زیرِ تبصرہ شمارے میں 126 نظمیں 54 غزلیں 20 افسانے، اداریے سمیت 15 مضمون، 11 ترجمے جن میں نو شاعری کے ہیں اور آٹھ خطوط شایع کیے ہیں جو آپ کو نصیر ناصر اور تسطیر کے گزشتہ شمارے تک کے بارے میں بتاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption انیس ناگی اردو کے ناول نگار، شاعر اور نقاد تھے انہوں بہت اہم تراجم بھی کیے۔

اب یہ بھی جان لیں کہ اس شمارے کے لکھنے والوں میں کون کون ہیں۔ پہلے دو حصے لمسِ رفتہ کے عنوان سے ہیں اور یہ وزیر آغا اور انیس ناگی کے بارے میں ہیں۔ ان حصوں کے لکھنے والوں میں انور سدید، رشید امجد، ڈاکٹر شاہین مفتی اور سلیم شہزاد ہیں۔ پروین طاہر، اقتدار جاوید اور زاہد مسعود نے وزیر آغا اور ناگی کو شعری تحسین پیش کی ہے اور یہ لوگ شاعری کے دوسرے حصوں میں بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ نصیر ناصر کے نام وزیر آغا کے خطوط بھی ہیں۔

نظموں کے پہلے حصے میں آفتاب اقبال شمیم، احسان اکبر، ابرار احمد، انوار فطرت، علی محمد قرشی، ثمینہ راجہ، رفیق سندیلوی، فرخ یار، شہزاد نیّر، ثریا عباس، خلیق الرحمٰن اور خود نصیر ناصر ہیں۔ دوسرا حصہ گلزار (فلموں والے) سے شروع ہوتا ہے اور اس میں ستیہ پال آنند، جلیل عالی، شاہین مفتی، منصور آفاق، امداد کاوش، محمود ثنا، روش ندیم، بشرٰی اعجاز، اختر رضا سلیمی، گلناز کوثر، تنویر قاضی، نوشابہ شوکت، ارشد معراج اور فاروق مونس شامل ہیں۔

تیسرا حصہ نثری نظم کا ہے۔ نسرین انجم سے شروع ہوتا ہے اور اس میں ابرار احمد بھی ہیں، جن کی نثری نظموں کے حوالے سے ظفر اقبال نے ایک حالیہ کالم میں کہا ہے کہ ’اُس کی نثری نظمیں پڑھ کر یقین ہو جاتا ہے کہ شاعری کے لیے ردیف قافیہ حتٰی کہ وزن یعنی اس کا کسی بحر میں ہونا بھی ضروری نہیں، نثر میں ایسی بے پناہ شاعری کی جا سکتی ہے تو موزوں شاعری کی گنجائش ہی کیا باقی رہ جاتی ہے‘۔ان کے علاوہ تنویر انجم، بشرٰی اعجاز، عباس رضوی، زاہد امروز، روش ندیم، منیر احمد فردوس، ارشاد شیخ، تنویر ساغر، سید کاشف رضا، احمد آزاد اور خود نصیر ناصر ہیں۔

ترجمے کے حصے میں نیبوکوف، درشن متوا، اوکتاویو پاز، فرینک حضور، گرودھالے اور ہانس بورلی کے ترجم ہیں۔ پھر شاعری میں ایک حصہ جمیل الرحمٰن کے لیے مخصوص ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption نصیر احمد ناصر شاعر ہیں اور تسطیر کے مدیر بھی

فکشن کے حصے میں سب سے پہلے عبداللہ حسین کا افسانہ ہے جو غالباً انہوں نے عرصے بعد لکھا ہے اور لگتا بھی ہے۔ پھر جتیندر بلو، رشید امجد، منشا یاد، سمیع آہوجہ، محمود احمد قاضی، علی حیدر ملک، احمد جاوید، اسلم سراج الدین، مشرف عالم ذوقی، اے خیام، شعیب خالق، بشرٰی اعجاز، نسیم سید، قاضی طاہر حیدر، یاسمین حبیب، احمد شیر رانجھا، ترنم ریاض، پرتیا سیمیں اور طاہر مزاری ہیں اور محمد الیاس اور محمد عاصم بٹ کے زیرِ تحریر ناولوں کے حصے ہیں۔

تنقید میں ستیہ پال آنند، ڈاکٹر ناصر عباس، عمران شاہد بھنڈر، تصنیف حیدر، تنویر ساغر اور ڈاکٹر عظمٰی سلیم ہیں جب کہ محمد حمید شاہد نے میرے عہد کے تین افسانہ نگاروں کے عنوان سے انور زاہدی، آصف فرخی اور امجد طفیل کے افسانوں کا جائزہ لیا ہے۔ اس کے علاوہ ظفر سپل نے ’سامراج دوستی کا فلسفہ‘ کے عنوان سے ’نتائجیت ‘ کے بارے میں بتایا ہے۔

اب بتائیے کہ اگر صرف ایک جریدے میں ادب کے نام پر اتنا کچھ ہو تو کیسے کہا جا سکتا ہے کہ لکھا نہیں جا رہا، لیکن کیسا لکھا جا رہا ہے؟ اس کا فیصلہ تو ’اے معزز منصفو! اے قارئین‘ آپ کے ہاتھ میں ہے۔

اسی بارے میں