کم تعداد میں فلمیں کے باعث منافع میں کمی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فلموں کو دیکھنے کے لیے بیچی جانے والی عینکوں سے سنیما گھر منافع کماتے ہیں

سنہ دو ہزار گیارہ کے پہلے چھ ماہ میں کم تعداد میں کامیاب اور تھری ڈی فلموں کے ریلیز ہونے کے باعث سنیما گھروں کے گروپ ’سِنے ورلڈ‘ کا منافع بیالیس فیصد کم ہو گیا ہے۔

تیس جون تک ٹیکس نکال کر سنیما گروپ نے صرف انہتر لاکھ پونڈ کا منافع کمایا جبکہ پچھلے سال اسی دوران ایک کروڑ اسی لاکھ کا منافع ریکارڈ کیا گیا تھا۔

سنے ورلڈ کا منافع کم ہونے کی ایک اور وجہ اخراجات میں اضافہ بھی ہے۔

سنیما گھروں کے لیے تھری ڈی فلمیں زیادہ آمدنی کا باعث بنتی ہیں کیونکہ ان فلموں کے ٹکٹ عام فلموں کی نسبت مہنگے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان فلموں کو دیکھنے کے لیے فروخت کی جانے والی عینکوں سے بھی سنیما گھر منافع کماتے ہیں۔

سنے ورلڈ کے چیف ایگزیکیٹو سٹیفن وائنر نے ان نتائج کو ’مستحکم‘ قرار دیا ہے۔

سنے ورلڈ کا کہنا ہے کہ سال کا دوسرا حصہ پہلے چھ ماہ کی نسبت بہت بہتر ہے۔ اس کی وجہ ہیری پوٹر سیریز کی آخری فلم ’دی ڈیتھلی ہیلوز پارٹ ٹو‘ بتائی گئی جو گزشتہ ماہ تھری ڈی میں ریلیز کی گئی تھی۔

فی الوقت سنے ورلڈ کے برطانیہ میں اٹھتر سنیما گھر اور آٹھ سو سے زائد سکرینیں ہیں۔ برطانیہ کے سنیما گھروں کی مارکیٹ میں سنے ورلڈ کا حصہ چھبیس اعشاریہ چار فیصد ہے۔

اسی بارے میں