انا ہزارے کی ہڑتال اتوار کو’ختم‘

عامر خان تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یہ پہلی بار ہے جب عامر خان جیسا بڑا ستارہ رام لیلا میدان پہنچا ہو

بھارت میں بدعنوانی کےخلاف بزرگ سماجی کارکن انا ہزارے کی بھوک ہڑتال ختم ہونے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

پارلیمان کےدونوں ایوانوں میں کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت تمام بڑی جماعتوں نے انا ہزارے کے ان تین مطالبات کی حمایت کا اعلان کیا جنہیں تسلیم کیے جانے سے قبل وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے سے انکار کر رہے تھے۔

انا ہزارے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ایک جن لوک پال کےنام سے ایک سخت قانون بنوانے کے لیے بارہ دن سے بھوک ہڑتال پر ہیں لیکن پارلیمان کی یقین دہانی کے باوجود ان کی ایک قریبی ساتھی کرن بیدی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال کل صبح ختم کریں گے۔

سنیچر کی صبح پارلیمان میں بحث کا آغاز ہونے کے چند ہی لمحوں کے اندر یہ واضح ہوگیا تھا کہ حکومت نے معمولی تحفظات کے ساتھ انا ہزارے کے مطالبات تسلیم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

لوک سبھا میں وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے انا ہزارے کے مطالبات ایوان کے سامنے رکھتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس بات پر آپ کی رائے معلوم کرنی ہے کہ ’ کیا تمام سرکاری ملازمین کو لوک پال بل کے دائرے میں لایا جائے، کیا اسی قانون کے تحت ریاستوں میں بھی نگرانوں کا عہدہ قائم ہو اور کیا اسی بل میں سرکاری ملازمین کی جوابدہی کی شق بھی شامل ہو۔’

انا ہزارے اور ان کے ساتھیوں کامطالبہ تھا کہ جب تک حکومت ان کے یہ مطالبات تسلیم نہیں کرتی، وہ بھوک ہڑتال ختم نہیں کریں گے۔ انا ہزارے کی تحریک کو ملک بھر میں کافی حمایت حاصل ہوئی تھی اور گزشتہ دس دنوں سے دلی کے رام لیلا میدان میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع تھے۔

حزب اختلاف بی جے پی نے جمعہ کی رات ہی انا ہزارے کے زیادہ تر مطالبات کی حمایت کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ پارٹی کی لیڈر سشما سواراج نے کہا کہ لوک پال بل منظور کرنے کا وقت آگیا ہے اور ان کی پارٹی ان تجاویز کو قانون میں شامل کرنے کے حق میں ہے جن پر ایوان کی رائے مانگی گئی ہے۔

کانگریس کی جانب سے سندیپ دیکشت نے پارٹی کا موقف رکھا، انکا کہنا تھا کہ کچھ معمولی تحفظات کے علاوہ پارٹی تینوں مطالبات کے حق میں ہے، کیونکہ یہ وقت کی ضرورت ہے، اور اسی کی بنیاد پر انا ہزارے اپنی بھوک ہڑتال ختم کریں گے۔

پہلے حکومت اتفاق رائے کے ساتھ ایک بیان منظور کراکر انا ہزارے کو بھیجنا چاہتی تھی لیکن انا ہزارے کی ٹیم ووٹنگ کی ضد پر اڑ گئی لیکن بعد میں اتفاق رائے سے قرارداد منظور کر لی گئی کیونکہ جس ضابطے کے تحت بحث ہوئی تھی اس میں ووٹنگ کی گنجائش نہیں تھی۔

فی الحال تو اس محاذ آرائی کے ختم ہونے کی راہ ہموار ہوگئی ہے اور اب بہت سے مظاہرین اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے لیکن یہ بحث کافی عرصے تک جاری رہے گی کہ اس جنگ میں انا ہزارے کی کامیابی سے ملک میں جمہوری اداروں کو کتنا نقصان پہنچا ہے۔

اسی بارے میں