9/11 ، دس سال میں آٹھ فلمیں

نائن الیون
Image caption حملے سے بربادی کے تمام نشان مٹ گئے ہیں لیکن یادوں کے زخم باقی ہیں

نائن الیون اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال کے حوالے سے ہندوستان اور پاکستان میں کل آٹھ فلمیں بنی ہیں۔ جن میں سات انڈیا میں اور ایک پاکستان میں بنی۔ انڈیا میں بننے والی فلموں میں مدہوشی 2004، کابل ایکسپریس 2006، یوں ہوتا تو کیا ہوتا 2006، قربان 2009، نیویارک 2009، مائی نیم از خان 2010، اور تیرے بن لادن 2010، شامل ہیں جب کے خدا کے لیے2007 پاکستان میں بنی۔ حالات اور مواد کے اعتبار سے پاکستان اس حوالے سے زیادہ فلمیں کیوں نہیں بنا سکا اس کی وجہ محض پاکستانی فلم انڈسٹری کو درپیش حالات ہی نہیں ہیں سماجی اور سیاسی صورتِ حال بھی ہے۔

مائی نیم از خان 2009 بالی ووڈ

تصویر کے کاپی رائٹ

اب تک 11/9 کے حوالے سے جتنی بھی فلمیں جنوبی ایشیا میں بنی ہیں ان میں ’مائی نیم از خان‘ سب سے کامیاب فلم ہے۔ موضوع کے علاوہ اس کی ایک اہم بات یہ ہے اس میں شاہ رخ خان اور کاجل نے کوئی نو سال کے بعد ایک ساتھ مرکزی کردار ادا کیے ہیں، اسے پہلے وہ دونوں آخری بار 2001 میں بننے والے فلم ’کبھی خوشی کبھی غم‘ میں ایک ساتھ آئے تھے۔ یہ فلم ایک ایسے نوجوان اور اس کے گرد لوگوں کی کہانی ہے جس میں کچھ جسمانی کمزوریاں ہیں تو کچھ غیر معمولی ذہنی خوبیاں۔ لیکن شاہ رخ کا کہنا تھا کہ یہ فلم ایک معذور انسان کی اپنی معذوری کے خلاف جنگ نہیں ہے بلکہ ایک انسان کی ایک ایسے معاشرے کے خلاف جنگ ہے جسے معذور بنا دیا گیا۔ مالی اعتبار سے فلم نے ریکارڈ کامیابیاں حاصل کیں اور نہ صرف کئی عالمی فیسٹیولز کے لیے نامزد بھی ہوئی بلکہ ہندوستان کے اہم ایوارڈ بھی حاصل کیے جو فلم کے علاوہ شاہ رخ اور کاجل کی اداکاری کے تھے۔ کرن جوہر کی بطور ہدایتکار یہ چوتھی فلم تھی اور اسے سبھی نقادوں نے سراہا۔ فلم کا بنیادی خیال یہ ہے کہ بظاطر معذور اور ٹوٹی پھوٹی چیزوں کو جوڑنے میں مہارت رکھنے والا آدمی کس طرح ٹوٹے ہوئے رشتوں اور معاشرے تک کو جوڑنے تک کا کام کر سکتا ہے۔

خدا کے لیے 2007 پاکستان

تصویر کے کاپی رائٹ

شکاگو، لاہور اور خیبر پختون خوا میں بنائی گئی اس فلم کی کہانی 11/9 کے بعد تین پاکستانیوں کی زندگیوں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے گرد گھومتی ہے۔ موسیقی کا شوق رکھنے ایک نوجوان موسیقی پڑھنے کے لیے شکاگو جاتا ہے اور 11/9 کے بعد دہشت گردی کے شبہ میں گرفتار ہے اور تشدد کا نشانہ بن رہا ہے۔ اس کا بھائی شدت پسندی کے نرغے میں ہے اور موسیقی کو کفر سمجھتا ہے۔ امان ایک ایسے برطانوی پاکستانی کی بیٹی ہے جو خود تو نکاح کے بغیر ایک برطانوی خاتون کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے لیکن بیٹی کو پسند کی شادی کی اجازت دینے پر تیار نہیں اور اسے بہانے سے پاکستان لا کر اس کی زبردستی شادی کرا دیتا ہے۔ اس فلم کے ڈائریکٹر، پروڈیوسر اور مصنف شعیب منصور ہیں جو خاص طور پر پاکستان میں میوزک ویڈیوز کی پروڈکشنز کی وجہ خاصے مقبول ہیں۔ اس فلم کی تیاری میں پاکستانی ٹیلی ویژن جیو بھی ان کا شریک ہے۔ فلم کے مرکزی کردار شان، نصیر الدین شاہ، فواد افضل اور امان علی نے ادا کیے ہیں۔

کابل ایکسپریس 2006 بالی ووڈ

تصویر کے کاپی رائٹ

کابل ایکسپریس کے ڈائریکٹر کبیر خان ہیں جو اس فلم کو بنانے سے پہلے کئی سال تک افغانستان میں دستاویزی فلمیں بناتے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ فلم کسی حد تک ان کے اپنے تجربات پر مبنی ہے۔اس فلم کی کہانی دو انڈین صحافیوں کے بارے میں ہے جنہیں ایک امریکی ٹیلی ویژن ایک دستاویزی فلم بنانے کے لیے افغانستان بھیجتا ہے جس میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد سے وہاں کے لوگوں کی زندگیوں پر پڑنے والے اثرات کی عکاسی ہو سکے۔ یہ کبیر خان کی پہلی فلم ہے اور اس فلم میں جان ابراہام، ارشد وارثی، پاکستانی اداکار سلمان شاہد، افغان اداکار حنیف ہم غم اور امریکی اداکارہ لنڈا ارارسینیو ن مرکزی کردار ادا کیے ہیں۔ اگر چے فلم افغانستان میں باقاعدہ طور پر جاری نہیں کی گئی لیکن اس پر افغان حکومت نے پابندی لگادی اور اس کے خلاف افغانستان اور پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں رہنے والے افغان ہزارہ لوگوں نے مظاہرے بھی کیے اور کہا کہ اس فلم میں ان کی کردار کشی کی گئی ہے۔

قربان 2009 بالی ووڈ

تصویر کے کاپی رائٹ

اس فلم میں ایوانٹیکا آہوجا اور احسان خان کو 11/9 کے بعد انڈیا اور امریکہ میں پیش آنے والے واقعات کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ اس فلم کے فلمساز بھی کرن جوہر ہیں اور اس کی ہدایات رنسل ڈی سلوا نے دی ہیں۔ فلم کے مرکزی کردار سیف علی خان، کرینا کپور، وویک اوبرائے اور دیا مرزا نے نبھائے ہیں۔ جب کے دیگر کرداروں میں روپندھر ناگرا، اوم پوری اور کرن کھیر ہیں۔ فلم کے ہدایت کار ہی فلم کے مصنف ہیں اور انہی نے اس سکرین پلے بھی لکھا ہے۔ دہشت گردی کے پس منظر میں بنائی جانے والی اس فلم نے ہندوستان میں پہلے ہفتے کیونکہ تیس کروڑ روپے سے کم کا بزنس کیا اس لیے اسے فلاپ قرار دیا گیا لیکن امریکہ میں اس نے ساڑھے سات لاکھ ڈالر کے لگ بھگ بزنس کیا۔ مذہبی سوچ اور عقائد میں ملاوٹ اور من مانی تشریحات پر دلائل پر بحث، سسپنس پر مبنی یہ تھرلر فلم بینوں کو زیادہ لبھانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

نیویارک 2009 بالی ووڈ

تصویر کے کاپی رائٹ

نیویارک ڈائریکٹر کبیر خان کی کابل ایکسپریس کے بعد دوسری فلم ہے اور اس میں بھی 11/9 کے بعد حالات کو پیش کیا گیا ہے۔ اس فلم کا دلچسپ پہلو، فلم میں مرکزی کردار ادا کرنے والے جان ابراہام کا یہ کہنا تھا کہ یہ فلم وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں ’خدا کے لیے‘ (پاکستانی ڈائریکٹر شعیب منصور کی فلم) ختم ہوتی ہے۔ جب کے کبیر خان کا کہنا تھا کہ یہ فلم 11/9 کے عظیم انسانی سانحے کے بعد پیدا ہونے والے تعصبات کو سیاسی پس منظر میں دیکھنے کی ایک کوشش ہے۔ فلم کی کہانی تین ایسے نوجوانوں کی زندگیوں میں 11/9 سانحے کے بعد آنے والی کے بارے میں ہے جو نیویارک کی ایک یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں۔ فلم کے مرکزی کردار جان ابراہام، کترینہ کیف، نیل مکیش اور عرفان خان نے ادا کیے ہیں اور اس میں دکھایا گیا ہے کس طرح ایف بی آئی نیل مکیش کو جو ایک مسلمان ہے اسلحے کی جعلی بازیابی کے بعد تشدد کے ذریعے اس کے ایک دوست جان ابراہام کے خلاف جاسوسی پر آمادہ کرتی ہے کیونکہ ایف بی آئی و شک ہے کہ جان ابراہام دہشت گردی میں ملوث ہے۔

تیرے بن لادن 2010 بالی ووڈ

تصویر کے کاپی رائٹ

تیرے بن لادن ایک ایسے صحافی کی کہانی ہے جو ایک معمولی ٹی وی چینل میں کام کرتا ہے اور اس کی تمام تر کوشش یہ ہے کہ وہ کسی طرح امریکہ چلا جائے لیکن وہ جس ٹی وی کا ملازم ہے اس میں ایک تو مناسب تنخواہ نہیں ملتی اور جو ملتی ہے وہ بھی وقت پر نہیں ملتی۔ اسی پس منظر میں اسے ایک شخص دکھائی دیتا ہے جو مرغیوں اور انڈوں کا کاروبار کرتا ہے لیکن اس کی شکل و صورت اور قد و قامت اسامہ بن لادن سے ملتے ہیں اسے دیکھتے ہی صحافی (پاکستانی پاپ گلوکار علی ظفر) کے ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ اگر وہ اسے اسامہ بن لادن بنا کر اس کا ایک انٹرویو ریکارڈ کرے تو اس انٹرویو کی فلم وہ باآسانی اتنے پیسوں میں بیچ سکتا ہے اس فلم کے ہدایت کار اور مصنف ابھیشیک شرما ہیں۔ اس میں علی ظفر کے علاوہ پرادھومان سنگھ، سوگندھا گریگ اور پیوش مسرا نے مرکزی کردار ادا کیے ہیں۔ کچھ لوگوں نے اسامہ بن لادن پر ایک مزاحیہ فلم بنانے پر ناراضی کا اظہار کیا اور دھمکیاں دیں اور کچھ نے اسے اسامہ بن لادن کی حمایت قرار دیا۔

یوں ہوتا تو کیا ہوتا 2006 بالی ووڈ

تصویر کے کاپی رائٹ

یہ فلم ایسے لوگوں پر مشتمل ایک گروہ کی کہانی ہے جن کے درمیان بد قسمتی کے سوا کوئی رشتہ نہیں ہے۔ انڈیا کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے یہ لوگ امریکہ جا رہے ہیں اور ایسے طیاروں میں سوار ہیں جو 11/9 کو ٹوّن ٹاورز اور پینٹاگون پر حملوں کا باعث بنے۔

فلم ہمیں طیاروں کے اغوا ہونے کے بعد لمحہ بہ لمحہ رونما ہونے والے ہولناک واقعات کے بارے میں بتاتی ہے۔ اسی دوران زندگی بچانے کی کوشش میں کئی لوگ ہلاک بھی ہو جاتے ہیں۔

اس فلم کو اُتم گاڑا نے لکھا ہے اور اس کی ہدایات نصیر الدین شاہ نے دی ہیں۔ فلم کے مرکزی اداکاروں میں کونکنا سین شرما، عرفان خان، جمر شرجل، عائشہ ٹاکیا اور پریش راول شامل ہیں۔ اس فلم کو اور اسے شبی بوکس والا اور پرشانت شاہ نے پروڈیوس کیا ہے۔

مدہوشی 2004 بالی ووڈ

تصویر کے کاپی رائٹ

انو (بپاشاباسو) کی بہن 11/9 حملوں میں عین اس وقت ہلاک ہو جاتی ہے جب وہ انو سے فون پر بات کر رہی ہوتی ہے۔ اس واقعے کے کچھ سال بعد انو کی منگنی آرمٹ سے ہو جاتی ہے لیکن جب وہ کاروبار کے سلسلے میں امریکہ چلا جاتا ہے تو انو کی ملاقات امان (جان ابراہام) سے ہوتی ہے اور وہ اس کی محبت میں گرفتار ہو جاتی ہے اور جب وہ آرمٹ کو امریکہ سے واپسی پر بتاتی ہے کہ وہ اس سے شادی نہیں کر سکتی تو اسے انو کے رویے میں تبدیلی پر تشویش ہوتی ہے اور وہ اس سے امان کے بارے میں طرح طرح کے سوال پوچھتا ہے اور امان سے ملنا چاہتا ہے لیکن انو اس پر تیار نہیں ہوتی۔ آرمٹ چلا جاتا ہے تو امان نمودار ہو جاتا ہے۔ شادی کے دن امان انو کو بتاتا ہے کہ وہ امان نہیں آرمٹ ہے اور اس نے انو کے تصوراتی کردار کی جگہ لیےنے کے لیے پلاسٹک سرجری کرائی ہے اور امان دراصل کوئی حقیقی وجود نہیں ہے۔ اس کے ذریعے غالباً مصنف اور ڈائریکٹر تنویر خان انو کو بہن کی ہلاکت سے پہچنے والے صدمےکی عکاسی کرنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں