’آواز کی روانی، قوالی‘

Image caption راحت کو موسیقی کی تعلیم ان کے تايا نصرت فتح علی خان نے دی

پاکستان کے مشہور گلوکار راحت فتح علی خان نے کہا ہے کہ ان کی آواز کی روانی کی وجہ قوالی ہے۔

راحت فتح علی خان حال ہی میں ایک موسیقی کے پروگرام کے سلسلے میں برطانیہ گئے۔ لندن میں انہو ں نے بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی بات چیت کی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کی آواز پیدائشی تحفہ ہے یا پھر اس کی وجہ کچھ اور ہے تو راحت نے بتایا ’ہمارے خاندان میں قوالي گانے کی روایت نسل در نسل چلی آ رہی ہے، ہماری آواز کا انوکھا پن اور روانی کی وجہ قوالي ہی ہے، میرا خاندان ساڑھے چار سو سالوں سے قوالی کی خدمت کرتا چلا آ رہا ہے‘۔ مشہور پاکستانی گلوکار، نصرت فتح علی خان کے بھتیجے راحت فتح علی کو موسیقی ورثے میں ملی ہے اور وہ اس روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ اپنے بچپن کے بارے میں بات کرتے ہوئے راحت نے بتایا ’میرے دادا چار بھائی تھے جن میں سے تین ایک ساتھ گاتے تھے، بچپن میں ہم ایک حویلی میں چار پانچ خاندان ایک ساتھ رہتے تھے جہاں بچے انتاكشري کھیلتے تھے، تب ہندی فلموں کے گانے بھی ہمارے گھر میں بجا کرتے تھے، ہم نے لتا منگیشکر، محمد رفیع، مکیش اور کشور کمار کو بچپن میں بہت سنا‘۔ راحت کہتے ہیں کہ انہیں شروع سے پتہ تھا کہ وہ گلوکار بننا چاہتے تھے کیونکہ انہیں موسیقی سے بہت پیار تھا۔ انہیں موسیقی کی تعلیم ان کے تاياجي، نصرت فتح علی خان نے دی۔ انہوں نے بتایا ’استاد نصرت فتح علی خان نے مجھے بیٹے کی طرح کلاسیکی موسیقی اور قوالی سكھائی بچپن میں جب انہیں آٹھ سے دس گھنٹے ریاض کرتے ہوئے دیکھتا تھا تو اچھا بھی لگتا تھا لیکن گھبراہٹ بھی ہوتی تھی کہ ایسا کرنا پڑ گیا تو کیا ہوگا۔ استاد صاحب نے اپنی زندگی میں ہی اعلان کر دیا تھا کہ (موسیقی میں) میں ان کا جانشین ہوں‘۔ راحت فتح علی خان کی بالی وڈ میں ایک الگ پہچان بن چکی ہے۔

ہندی فلموں میں ان کا سفر سنہ دو ہزار تین میں بننے والی فلم ’پاپ‘ کے گانے ’لگی تجھ سے دل کی لگن‘ سے شروع ہوا۔ اس بارے میں انہوں نے بتایا کہ سنہ انیس سو ستانوے میں خاں صاحب کے گزرنے کے بعد ہمارا خاندان سوچ رہا تھا کہ کس قسم کی موسیقی تخلیق کی جائے جسے دنیا سنے اور خاندان کا نام آگے بڑھے۔

راحت کے مطابق انہوں نے سنہ انیس سو اٹھانوے میں ایک البم بنانی شروع کی جس کا نام لگن تھا۔ اسی میں یہ گانا ’لگی تجھ سے دل کی لگن‘ تھا لیکن جو کمپنی یہ البم بنا رہی تھی وہ ایک دم ہی ختم ہو گئی اور البم درمیان میں لٹک گیا۔

نامور گلوگار کا کہنا تھا کہ سنہ دو ہزار تین میں پوجا بھٹ نے کمپنی کے مالک سے کہا کہ انہیں یہ گانا اپنی فلم میں لینا ہے اور تب یہ فلم میں آیا۔ اس کے بعد سے آج تک بالی وڈ میں راحت فتح علی خان کے گائے گانے بہت مقبول ہوئے ہیں۔ راحت فتح علی خان کا آنے والا البم صوفی قوالی البم ہے۔ اس البم کا نام ’عشق، غالب سے اقبال تک ہے‘۔

اسی بارے میں