اولیا چیلیبی: چار سو برس بعد

یونسکو تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption تُرک سیاح اولیا چیلیبی کے بارے میں یونسکو کا پوسٹر

سفر نامے کا ذکر سنتے ہی ہمارے ذہن میں یوسف کمبل پوش اور منشی محبوب عالم سے لے کر ابنِ انشا اور مستنصر حسین تارڑ تک کئی نام گردش کرنے لگتے ہیں لیکن اگر ذکر عالمی سطح کے سفر ناموں کا ہو تو بھی ہمارا ذہن ابنِ بطوطہ یا مارکو پولو سے آگے نہیں جاتا اور اگر جائے تو بھی چار سو برس پہلے ترکی میں جنم لینے والے کسی سیاح کی طرف تو بہر حال نہیں جائے گا۔

جی ہاں یونیسکو نے تُرک سیاح اولیا چیلیبی کو عالمی اہمیت کی حامل اُن بیس شخصیات میں شامل کیا ہے جو اکیسویں صدی میں بھی بنی نوع انسان کی رہنمائی کر رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے نے سالِ رواں کو سترھویں صدی کے اس ترک سیاح کی یاد منانے کے لئے مختص کیا ہے۔ اولیا چیلیبی نے اپنی ستر سالہ زندگی میں سے اکاون برس سلطنتِ عثمانیہ اور اسکے گرد و نواح کی سیاحت میں بسر کئے اور پھر اپنے مشاہدات کو دس جِلدوں پر مشتمل ایک ضخیم ’سیاحت نامہ‘ میں محفوظ کردیا جس کی آٹھ جلدیں ترکی کے معروف میوزیم توپ کیپی میں محفوظ ہیں جبکہ باقی دو جلدیں سلمانیہ کے کتب خانے میں ہیں۔

مصنف کی چارسوویں سالگرہ کے موقعے پر حکومتِ ترک اُن کے اس سیاحت نامے کو پورے اہتمام سے دوبارہ شائع کر رہی ہے اور اسکا ڈیجیٹل ایڈیشن بھی جاری کیا جا رہا ہے۔ عظیم سیاح اور سفر نگار اولیا چیلیبی سنہ 1611 میں استنبول کے ایک کھاتے پیتے گھرانے میں پیدا ہوئے۔

اس زمانے کی اعلٰی ترین تعلیم حاصل کرنے کے بعد انھوں نے اپنے والد سے خطاطی اور نقش نگاری میں تربیت حاصل کی اور دربارِ عثمانیہ سے منسلک ہوگئے۔ انھوں نے سیر و سیاحت کا آغاز سنہ 1640 میں خود اپنے شہر استنبول سے کیا اور شہر کے مختلف محلّوں میں جا کر وہاں کی عمارتوں، دکانوں، باغوں اور حویلیوں کا تمام حال رقم کیا۔ اپنے شہر سے فارغ ہونے کے بعد انھوں نے سلطنتِ عثمانیہ کے ُطول و عرض میں سفر شروع کر دیا۔ یہ سلطنت اُس وقت شرقاً غرباً الجزائر سے باکو تک اور شمالاً جنوباً بوداپست سے یمن تک پھیلی ہوئی تھی۔

اولیا چیلیبی نے جو یاداشتیں رقم کیں وہ محض افراد یا مقامات کا بیان نہیں تھا بلکہ اس زمانے کے جغرافیہ، تاریخ، شہری منصوبہ بندی، نسلی جغرافیہ، لوک رقص، رسوم و رواج، اعتقادات اور مختلف طبقوں کی بولی ٹھولی پر ایک مبسوط دستاویز ہے۔ دارالحکومت کے گرد و نواح میں انھوں نے جو سفر کیا اسکی حیثیت ایک سرکاری ڈیوٹی جیسی تھی جس میں قاصد اور مدد گاروں کی ایک فوجِ ظفر موج اُن کے ہمراہ ہوتی اور سفر کا تمام احوال درج ہو کر فوری طور پر دربار میں پہنچ جاتا۔ لیکن وہ جلد ہی سفر کی اس درباری سرکاری نوعیت سے بیزار ہوگئے اور گھوڑے کو ایڑ لگا کر تنہا سفر کرتے ہوئے وسطی یورپ، بلقان، کریمیا، کاکیشیا اور مصر سے ہوتے ہوئے سعودی عرب تک جا پہنچے۔

’سیاحت نامہ‘ کی جلدِ اوّل میں استنبول اور اسکے گلی محلّوں کا تفصیلی ذکر ہے۔ دوسری جلد میں مُدانیا، ازنک، برصا اور ترابزون اور قفقاز کا احوال ہے۔ جلدِ سوم میں شام اور بلغاریہ کا ذکر ملتا ہے، چوتھی جِلد میں اُس زمانے کے عراق اور ایران کا مفصّل نقشہ دکھائی دیتا ہے۔ پانچویں جلد میں پولینڈ اور بلغراد کی سیر ہو رہی ہے اور چھٹی جلد میں ہنگری اور رومانیہ کی سر زمین ہمارے سامنے ہے۔ ساتویں جلد میں ہمارا واسطہ آسٹریا، کریمیا، داغستان اور دیارِ کپچا سے پڑتا ہے اور آٹھویں جلد ہمیں پُرفضا جزیرہ کریٹ میں لے جاتی ہے۔ نویں جلد میں ہم مغربی اناطولیہ اور جزائر ایجئین کے ساتھ ساتھ مکہّ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی زیارت بھی کرتے ہیں جبکہ دسویں اور آخری جلد ہمیں مصر اور سوڈان کے بعد افریقہ کے اُن حصوں میں لے جاتی ہے جنھیں اولیا ’حبشستان‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ترک سیاح اولیا چیلیبی کو ان شخصیات میں شامل کیا گیا ہے جو بنی نوع انسان کی رہنمائی کر رہی ہیں۔

چار سو برس پہلے تحریر کیے ہوئے اس سیاحت نامے میں اس زمانے کے باشندوں کا رہن سہن تو نظر آ ہی جاتا ہے لیکن مصنف نے اُن کی سوچ اُن کی خوشیوں، اُن کے غموں اُن کے خدشات، وسوسوں اور اوہام کا ذکر بھی دلچسپ پیرائے میں کیا ہے۔

مثلاً دورانِ سفر وہ ایک ایسے قبیلے کے مہمان ہوئے جنھوں نے انھیں مُنجمند بِلّی کی سچی کہانی سنائی – یعنی کس طرح سردی کے موسم میں چھتیں پھلانگتی ہوئی ایک بلّی ہوا میں منجمند ہوگئی اور کئی ماہ تک وہیں منجمند رہی، لیکن جب موسمِ بہار کی آمد پر فضا کچھ گرم ہوئی تو بلی کی برف جھڑ کر زمین پر گر گئی اور اندر سے زندہ سلامت بلّی نِکل آئی۔۔۔

اس سیاحت نامے کو بجا طور پر سترھویں صدی کی سلطنت عثمانیہ اور اسکے گِرد و پیش کا ایک جیتا جاگتا انسائیکلو پیڈیا کہا جا سکتا ہے۔ اشاعتِ نو کے بعد جب مختلف زبانوں میں اس کے تراجم منظرِ عام پر آئیں گے تو دنیا بھر کے قارئین اس عظیم سیاح کے دلچسپ مشاہدات سے استفادہ کر سکیں گے۔

اسی بارے میں